سعید الحسن کا شعری مجموعہ

داستان اپنے تمام مصنفین کا بے حد احترام کرتا ہے اور یہ سب ہمارے لیے بہت اہم ہیں۔ہر کامیاب مصنف ،شاعریا تخلیق کار کے پیچھےجدوجہد کی ایک پوری داستان ہوتی ہے۔ہر مصنف اپنے ساتھ سیکھنے کو بہت کچھ لاتا ہے،اور نئے لکھنے اور پڑھنے والے اس کےتجربات اور نصائح کو سن کر ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اسی بات کے پیشِ نظر ہم اپنے تمام رائٹرز کے ساتھ انٹرویو کا انعقاد کرتے ہیں، اور آج ہمارے ساتھ موجود ہیں، ایک باکمال شاعر سعیدالحسن! جن کا شعری مجموعہ توقف حال ہی میں شائع ہوا ہے۔اس شعری مجموعہ کی بابت یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سعید کی سماجی موضوعات پہ لکھی گئی دو نظموں کو بین الاقوامی سطح پر کافی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ”ماں اور میں“ جو ماں اور بچے کے پہلے ہزار دنوں میں خصوصی دیکھ بھال اور غذائیت کی اہمیت پر مبنی ہے، اور ”زینب کی مٹھی“ چائلڈ پروٹیکشن(بچوں کے حفاظت) کے حساس موضوع پر لکھی گئی ہے۔

تو آیئے ملتے ہیں سعید سے!

السلام علیکم، سعید! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔

سعید: وعلیکم السلام، الحمداللہ۔ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے اپنے بارے میں کچھ بتانے کا موقع دیا۔

سوال: نام کس نے رکھا اور اسی نام کے ساتھ لکھنے کو کیوں ترجیح دی؟

جواب: میرا نام سعید الحسن ہے  جو کہ میرے دادا نے رکھا تھا۔ یہ نام  میرے سب سے بڑے بھائی کے نام پہ رکھا گیا تھا  جو اپنی پیدائش کے کچھ دن بعد وفات پا گئے تھے، تو میں انھی کے نام کو آگے لے کر چل رہا ہوں۔  یہ پہلے دن سے ہی طے تھا کہ میں شاعری کو بطور ایک پروفیشل اختیار نہیں کروں گا۔اس لیے کہ  شاعری میرے لیے موٹیویشن اور تاثرات کا ایک سورس ہے۔ جس سے یوں کہا جا سکتا ہے کہ کتھارسس ہو جاتا ہے۔ اگر اسے میں نے ایک long term engagement کے طور پر لینا ہوتا تو شاید میں تخلص بھی استعمال کرتا لیکن میں اپنا نام استعمال کرنے میں زیادہ آرام دہ محسوس کرتا  ہوں۔

سوال: بچپن کیسا گزرا؟ ادب سے شغف کیا آپ کے ماحول اور پرورش کا اثر ہے؟

جواب:  اپنے چار بھائیوں میں درمیان میں پیدا ہوا ہوں جسے منجھلا کہتے ہیں۔  جو درمیان میں ہوتے ہیں یہ بچے ذرا سینسٹو ہوتے ہیں کیوں کہ ماں باپ کی زیادہ توجہ بڑوں پر ہوتی ہے اور میرے دونوں بڑے بھائی identical twins ہیں۔تو وہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے،اورجو چھوٹا ہوتا ہے ظاہر ہے وہ لاڈلا ہی ہوتا ہے،اور کیوں کہ ہماری کوئی بہن بھی نہیں تھی تو میں نے بہن کاکردار بھی اداکیا ،خاص طور پر اپنے بچپن میں۔بغیرٹیکنالوجی کےبہت خوبصورت بچپن گزرا، معصوم سا ۔ ادب سے شغف شاید ماحول کا اثر نہیں تھا، ہاں یہ ضرور ہے کہ ماشاءاللہ میرے ماں باپ پڑھے لکھے ہیں،اور اس فہرست میں ددھیال سےدادا، ننھیال سے ماموں، نانااور پر نانا بھی شامل ہیں۔ننھیال میں شاعری بھی رہی اور ادب و فنونِ لطیفہ سے لگاؤ بھی ، تووہ خون میں تو یقیناً شامل تھا۔ جیسے میں نے بتایا کہ میں ایک حساس دل لے کر پیدا ہوا،تومیں مشاہدہ کرتا رہا،چیزوں کو محسوس کرنے لگا، پھر آہستہ آہستہ اس کا اظہار کرناشروع کیا۔

سوال:  اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی کے متعلق کچھ بتائیں؟

جواب: یہ میں اکثر بتاتا ہوں کہ میری زندگی کا سب سے اہم فیصلہ یہ تھا کہ میں نے انگریزی ادب میں M.A کیا، پنجاب یونیورسٹی سے۔ اس سے پہلے میں شماریات اور معاشیات کے گورکھ دھندوں میں پڑا رہاتھا، تو یہ میرا ایک informed and conscience decision تھا،جس نے مجھے پیشہ ورانہ زندگی میں بہت مدددی۔ مجھے تعلیم کے شعبے سے دلچسپی تھی تو میں نے اپنےکیریئرکا آغاز ایک رضاکار کے طور پر کیا۔ ۶ سے ۹ ماہ educational and literacy department کو خود پیش کش کرکے جاب شروع کی۔ پھر ایک غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ وابستہ ہوا،اور کوئی ۶، ۷ سال کام کرنے کے بعدان کی سینئر پوزیشن تک پہنچا۔ اس دوران کچھ ملکوں میں پھرنے کا موقع بھی ملا۔ یہ قومی سطح کی ایک تنظیم تھی۔ پھر اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی تنظیم نے مجھے اپنے تعلیم کے شعبے کی سربراہی کرنے کے لیےکہا۔ وہاں بھی کافی خوبصورت وقت گزرا، کئی ممالک دیکھنے کا موقع ملا ،کچھ عرصہ کے لیے بار بار بھی جاتا رہا۔دوسرے ملکوں میں کام بھی کیااور لوگوں سے ملا بھی،کافی سینئر پوزیشن پر کام کرتا رہا۔اس وقت میں ایک نارتھ امریکن فاؤنڈیشن، جس کا پاکستان میں implementation کا کام ہے،کے ساتھ پچھلے بیس سالوں سےبطورِ ایگزیکیٹو ڈائریکٹروابستہ ہوں۔میں اسی طرح سماج میں بہتری لانےکی کاوش ،جس کا بیڑہ خاص طور پر کچھ غیر سرکاری تنظیموں نے اٹھا رکھا ہے،کررہا ہوں۔

سوال:  لکھنے کا شوق کب اور کیسے پیدا ہوا؟ اپنی پہلی نظم یاد ہے؟

جواب: لکھنے کا شوق پرانا ہے، کسی نہ کسی حوالے سے لکھتا رہتا تھا۔ میں نے اپنی ٹین ایج میں لکھنا شروع کر دیا تھا۔ والد چوں کہ بینک میں تھے،تو ہم مختلف شہروں میں پھرتے رہے۔ آخری جو شہر تھا جہاں ابو نے ریٹائرمنٹ لی، وہ گجرانوالہ تھا۔ پاکستان میں لاہور سے ہی تعلق ہےاورجائے پیدائش بھی یہی ہے، لیکن زیادہ عرصہ دوسرے شہروں میں گزار کر، کئی سالوں کے بعد ہم بلآخریہاں واپس آئے۔جب میں گجرانوالہ سے لاہور کے لیےنکلاتو ایک خاص قسم کی کیفیت تھی،اور اسی کیفیت میں میں نےیکے بعد دیگرے،دونظمیں لکھیں۔ایک ”لمحے“تھی اور دوسری ”میں فرار چاہتا ہوں“۔یہ دونوں میری اس کتاب میں موجود ہیں۔

سوال:  کیا کبھی ایسا لگا کہ لکھنا میرے بس کی بات نہیں، یا کسی بات کی وجہ سے ہمت ہاری ہو؟

جواب: نہیں کبھی ایسا نہیں لگا،اور نہ ہی میں بھاگنے کا ذہن میں آیا۔ اس کا ہمت سے تعلق ہی نہیں ہے۔ یہ جو لکھنے والے ہیں(لکھاری یاشاعر)، جن کا ادب سے یا تخلیق سےتعلق ہے، وہ ہر لمحے ایک تکلیف سے گزرتے ہیں۔ وہ جو No Pain No Gain والی کہاوت ہے،تو تخلیق اور تکلیف دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، کیوں کہ کچھ نہ کچھ آپ کو حاصل کرنا ہوتا ہے اور کچھ نہ کچھ اس سے فراہم ہونا ہوتا ہے، تو آپ کو ذہنی طور پر نفسیاتی، جذباتی، جسمانی اور روحانی طور پر اچھی خاصی تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے،تبھی آپ کچھ تخلیق کرتے ہیں۔ تخلیق کا عمل ہے،یہ بڑا خوبصورت ہوتا ہے،آپ کو متحرک رکھتا ہے۔it keeps you mind۔

سوال:  آپ کی کتاب کے نام اور شاعری میں ایک ٹھہراؤ ہے۔۔۔ کیا یہ کتاب ذاتی زندگی کے کسی ٹھہراؤ یا توقف کا نتیجہ ہے؟

جواب: ٹھہراؤ جو ہے،ایک تو مجھےیہ لگتا ہے کہ اس میں ایک سکون ہوتا ہے تو میں ارادتاً اسے اختیار کرتا ہوں۔دوسرا یہی کہ COVID نے بھی ہمیں یہی سکھایا ہے کہ رکنے کی ضرورت ہے، ازسرِ نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے؛اپنی ذات کا، اپنے ارد گرد بسنے والے انسانوں کااور چیزوں کا۔ٹیکنالوجی نے ہمیں بہت سے فائدے دیے ہیں۔ یہ جو سماجی رابطے ہیں،سوشل میڈیاکے ذریعے جو networking ہے،سب اسی کی دین ہے۔ ہم ایک دوسرے سے بڑی سہولت سے جڑتے چلے جاتے ہیں لیکن کہیں نہ کہیں مجھے لگتا ہے کہ اس میں کھو کرہم اپنی ذات کو بہت پیچھے چھوڑ دیتے ہیں اور ہمارا اپنی ذات سے تعلق ہی ختم ہو جاتا ہے ،جس سے ہم بہت زیادہ مایوس ہوجاتے ہیں۔ تو میں اس ٹھہراؤ اس توقف کے حق میں ہمیشہ ہوں؛ اپنی جو بس میں بھی، اپنی پڑھائی میں بھی اور اپنی زندگی میں۔ جب آپ بڑی شدت سے ایک بڑے تسلسل سے چلتے چلے جارہے ہوں تو آپ کو رکنے کی ضرورت ہوتی ہے، کیوں کہ عموماً ہم سامنے دیکھتے ہوئے مستقبل کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں، لیکن یہ بھی دیکھنا بہت ضروری ہے کہ رکیں۔ اپنے حال کا جائزہ لیں اور ایک نظر مڑ کر یہ بھی دیکھیں کہ اب تک کاسفر کیسا رہا ہے، تاکہ اپنے مستقبل کی حکمتِ عملی اس لحاظ سےبنا سکیں۔بنیادی طور پر COVID سےجو جھٹکا ہم نے کھایا ہے،اس سے ہمیں سبق بھی یہی ملا ہے۔اگرچہ ہم سیکھنے والوں میں سے نہیں ہیں، لیکن توقف کا بنیادی فلسفہ سمجھ لیجیے کہ یہی ہے۔

سوال:  کیا کیا مشاغل رکھتے ہیں؟

جواب: میرے مشاغل میں مجھےظاہر ہے کہ ادب سے لگاؤ ہے۔ ہر قسم کا ادب، ہر قسم کا میوزک، کوئی ایک specific genre نہیں ہے۔ مجھے صوفی میوزک بھی پسند ہے ،صوفیانہ کلام  پڑھنا بھی پسند ہے، موسیقی میں  jazz پسند ہے ،hip hop بھی پسند ہے۔غرض کہ ہر طرح کا میوزک، وہ کتنا ہی jazzy کیوں نہ ہو ،پسند ہے۔وہ depend کرتا ہے کہ آپ کا موڈ کس طرح کا ہے، کیوں کہ کہیں نہ کہیں ہر چیز میں آپ کو ایک  ردھم اور ایک خوب صورتی ملتی ہے۔ چوں کہ ہر چیز کاایک اپنا طور،اپنا ہی ایک طریقہ ہےتو کسی کا expressionبھی برا نہیں ہے۔ مجھے خوب صورتی پسند ہے،میں فطرت کا حصہ پسند کرتا ہوں،خاص طور پر باغ میں۔مجھے کلرز بہت پسند ہیں۔ اس بات کا اندازہ آپ اس سے لگائیں کہ مٹھائی کی دکان یا سبزی، پھل والی دکانوں پہ میرا دل چاہتا ہے کہ کافی دیر تک کھڑا رہوں۔جس انداز سے وہ سبزی،پھل اور مٹھائیوں کو سجاتے ہیں،مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ان کے خوب صورت رنگ اورقسمیں اتنی ہیں کہ دل خوش ہو جاتا ہے۔ دوسرا مجھے درخت بہت پسند ہیں، بادل پسند ہیں، دھند پسند ہے۔ میرے اندر  ایک بوڑھی روح ہے،آپ مجھے retro یا vintage soul بھی کہہ سکتے ہیں، کیوں کہ مجھے زنگ آلود چیزیں پسند ہیں،rusted color پسند ہے اور مجھے خزاں سب سے زیادہ پسند ہے۔میں فلمیں بھی دیکھتا ہوں،ویسے تو اتنا ٹائم نہیں ہے لیکن Western movies اور season drama کچھ وقت ملے تو دیکھ لیتا ہوں۔ ایک دورتھا، جب teenage میں تھے، تو بالیووڈ کی فلمیں بہت دیکھا کرتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ مزاج بدلتا چلا گیا۔

سوال: اپنے خیالات کے اظہار کے لیے نثر کی بجائے شاعری کا انتخاب کیوں کیا؟

جواب: یہ میرا کوئی مستقل فیصلہ نہیں ہے۔بات یہ ہے کہ خیالات اترتے ہیں، آپ کے اوپر نازل ہوتا ہےاورایک خیال کا اگر ربط بنتا چلا جائے اور وہ ایک منظومexpression میں آجائے تو شاعری کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ورنہ اگر دل نثر میں لکھنے کا چاہتا ہے، تو میں نے بہت  لچھ  نثر میں بھی لکھا ہے، لیکن چھپا نہیں ہے۔ انگریزی اور اردو دونوں میں لکھتا ہوں۔ اردو میں کافی چھوٹے چھوٹے pieces تھے جن کو consolidate کیا ہے۔میں شاعری اور نثر دونوں کو ذریعۂ اظہار بنانے پر یقین رکھتا ہوں۔

سوال:  پسندیدہ شعرا اور کتب کون کون سی ہیں؟

جواب: شعراء میں Alexander pop سے لے کر Emily Dickinson تک سب کو پڑھا ہے۔ اس کے بعد امجد اسلام امجد صاحب،احمد ندیم قاسمی صاحب،فرحت عباس شاہ صاحب اور آج کل میں ڈاکٹر عدنان خالد کی شاعری کو بہت پسند کر رہا ہوں، جو کہ جناب خالد شریف صاحب کے صاحبزادے ہیں۔ کسی کا بھی اچھا لکھا ہوا مجھے بہت پسند ہے۔ پروین شاکر، نوشی گیلانی اورجو بڑے بڑے نام ہیں، سارے اس وقت مس کر رہا ہوں،لیکن ہاں جس سے آپ سب متفق ہوں گے ،جس ایک بڑے شاعر نے ہم سب کو اوراس نسل کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے وہ جون ایلیا ہیں، تو ان کا bold expression سننے کا بار بار دل چاہتا ہے۔

سوال:  نئے لکھنے اور پڑھنے والوں کے لیے کوئی مشورہ یا نصیحت کرنا چاہیں گے؟

جواب: نئے لکھنے والوں کو کوئی مشورہ یا نصیحت نہیں کرنا چاہوں گا کیوں کہ میں اس قابل ہی نہیں ہوں کہ کوئی مشورہ دوں یا نصیحت کروں۔ صرف ان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہوں گا کہ اپنے خیالات کا اظہارکریں ۔اس کا کوئی بھی طریقہ ہو سکتا ہے ، کوئی بھی اندازاپنایاجا سکتا ہے۔ performance کسی بھی طرح دی جاسکتی ہے۔ آپ اگر ایک ٹیچرہیں،ایک ڈرائیورہیں یا ایک بینکرہیں، آپ اپنے اس پیشے میں رہتے ہوئے ہی آپ کام کے اندر ہی expression اس طرح لاسکتے ہیں کہ آپ کو دیکھنے والا یہ ضرور کہے کہ اس کا ادب سے کوئی نہ کوئی تعلق ہے۔ تو یہی میرا مشورہ ہے کہ آپ expression کو لے کرنڈرہو جائیں۔ ہم اکثر رائے عامہ کے خوف کا شکار ہوتے ہیں۔ ہمارا بہت دل چاہتا ہے کہ ہم اپنے خیالات کاکچھ نہ کچھ اظہار کریں۔ میں بینکرزکی فیملی سے ہوں، میرے والد بھی بینکر تھے، اور میرے بڑے بھائی شہاب الحسن ہم سب جانتے ہیں کہ وہ بھی ایک شاعر ہیں۔ وہ اپنے حوالے سے بڑے خوب صورت شعر کہتے ہیں اور اس کے نیچے نامعلوم شاعر لکھتے ہیں، لیکن بحیثیتِ آرٹسٹ ان کا ایکسپریشن ہی اس طرح کا ہے۔وہ ایک موسیقار بھی ہیں، ایک دور میں بڑی اچھی بانسری بجاتے تھے،تو ایک موسیقار یا گلوکار کے طور پربھی انسان خود کو Express کرتا ہے۔ یہ شاعری،موسیقی، stage performance یہ تمام چیزیں میرے نزدیک ایک ہی ہیں۔ صرف اس کا جو manifestation ہے وہ ایک تنوع لیے ہوئے ہے۔ تو میں اپنے بڑے بھائی سے بہت متاثر ہوں۔ان کی زندگی میں بڑے عرصے سے کچھ چیلینجز بھی رہے ہیں ، لیکن ماشااللہ سے اللہ بہت مہربان رہا اورhe is such blessed soul کہ اس نے اپنے expression کو ہر حوالےسےبرقرار رکھا ہوا ہے۔

سوال:  ادارے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: ادارے کے بارے میں رائے یہی کہ میرے خیال میں عمر، عمر کی ٹیم، داستان اور میرا قصہ، یہ تمام نئی نسل کے لیے ایسے پلیٹ فارمزہیں کہ آپ وہ جو ایک پرانا روایتی طریقہ تھا، جس میں بہت سی آپ کو اچھی خاصی harassment بھی feel ہوتی تھی اور اچھی خاصی exploitation بھی تھی، اس سے نکل کر آپ بالکل آرام سےان پلیٹ فارمز کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اور بہت سی پریشانیاں جو آپ کو اپنی کتاب چھاپنے کے حوالے سے ماضی میں پیش آتی رہی ہیں اور اس کی جو بعد میں marketing ہے communicationوغیرہ،وہ بھی ایک امتحان تھیں۔ میرے خیال میں یہ داستان جیسے جو پلیٹ فارمز ہیں وہ اپنا ایک زبردست قسم کا کردار اداکر رہے ہیں اور یہ تو بس ابتدا ہے،میرے خیال میں یہ بعد میں social transportation کا باعث بن جائے گا ۔

سعید آپ کا بے حد شکریہ کہ آپ نے اپنی مصروفیات میں سے اس انٹرویو کے لیے وقت نکالا، اور آخر میں ہم تمام پڑھنے والوں سے کہنا چاہیں گے کہ سعیدکی کتاب ”توقف“ ضرور خریدیں۔یقیناًاس کا سادہ و متوازن اسلوب اور سوچ و فکر کی گہرائی پوری سنجیدگی سے آپ پر اثر انداز ہوگی۔ اپنا خیال رکھیے۔ اللہ حافظ۔

سعیدالحسن کا یہ شعری مجموعہ”توقف“ ابھی اس لنک پر جاکر آرڈر کریں۔

https://www.meraqissa.com/book/1632

Samin Qureshi
Samin Qureshi is an undergraduate Art student at NCA following her passion for writing through various online avenues. Samin takes a keen interest in empowering women and advocating for their rights. In her free time, Samin loves to cook and listen to old music.

Related Articles

کتاب “زندگی ایک کرونا” پر تبصرہ

زندگی ایک کرونا مصنف: وقار احمد بخش وقار احمد بخش کی کتاب” زندگی...

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

کتاب “زندگی ایک کرونا” پر تبصرہ

زندگی ایک کرونا مصنف: وقار احمد بخش وقار احمد بخش کی...

کتاب کی اشاعت کے لیے داستان کی سروسز

*آخری ترمیم: ١ مئی، ٢٠٢٢ء* کتاب کی اشاعت کے لیے...

Poetry Workshop: Winter Poetry And How To Write One

The title may be misleading because of course there...

Stay in touch!

Follow our Instagram