تقویٰ کو اب لگنے لگا تھا کہ اللہ اس کو اولاد اس لۓ نہیں دے رہا کیونکہ وہ غیر اللہ کے آگے سوالی بننے کا گناہ کر چکی ہے۔ — Rimsha Qazi, دستِ سائبان Copy Share WhatsApp
by Rimsha Qazi
Contemporary Fiction · 24 pages
“ارحم اس کو اپنی گزری زندگی کی باتیں بتاتا اور وہ جو ایک عرصے سے بچوں کی آواز کو ترسی ہوئی تھی، بہت دلچسپی سے اس کی باتیں سنتی۔”
“"شامیر اگر میں اس گھر کے بارے میں کوئی فیصلہ آپ سے بغیر پوچھے لے لوں، تو؟" اس نے ایک لمحے کے لیے شامیر سے نظریں ملائیں اور پھر چرا لیں۔”
“کپڑے بدل کے ارحم کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آگئی تھی، آخر کو تھا تو وہ بھی بچہ ہی نا۔”
A medical student and a wanna-be writer who finds solace in reading and writing. Creating art with words is my way to escape the reality.
“اشفاق احمد اپنی اس ہمدرد اور احساس والی بیٹی کو ہر وقت دعائیں دیا کرتے۔”
“ان کی زندگی کے بڑے مقاصد میں سے ایک اپنے اور اپنے مدرسے کے بچوں کی تربیت اللہ کے احکامات کے مطابق کرنا اور اپنے گھر کو اللہ کی راہ میں وقف کرنا ہے۔”
“اُس کی محبت یاد آئی اور پھر اُس کی رب سے محبت کے قصے یاد آئے۔”
“آج پِھر شاہ زیب کو وقت کی لہروں میں بہہ جانے والی گم گشتہ قربانیوں کی داستان یاد کروا کر اس ملک میں ہی نوکری تلاش کرنے کا درس دیا جا رہا تھا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.