دماغ کے ڈاکٹر کو دکھایا، خود بھی اسے سمجھایا اور اس کے لیے گھر میں استا د بھی رکھے جو اسے مردوں والے طور طریقے سکھاتے لیکن سب بیکار گیا۔
— Monaa Sohail, شناخت- Identity Novel
“آخر کب تک آپ ڈرا دھمکا کر اپنے بچوں کے گلے گھونٹتے رہیں گے اور کیوں؟ کیا لوگ اور خاندانوں کی نام نہاد عزتیں آپ کے بچوں کی عزت نفس سے زیادہ اہم ہیں؟ نہیں!”

“خواتین و حضرات سانحہ قصور ایک ایسا واقعہ ہے جس نے اس ملک کےہر اس شہری کو ہلا کر رکھ دیا جو اپنے سینے میں ایک درد مند دل رکھتا ہے۔”

“جہاں ہماری سوسائٹی یورپ کی باقی بہت سی باتوں سے امپریس ہے وہیں ان کی نقاب سے نفرت میں بھی اپنا رول ادا کرنا اپنا فرض سمجھتی ہے۔”

“ہر انسان کی زندگی ایک رسک(risk) پر ہوتی ہے تو کیوں ہم کینسر کے مریض جینا چھوڑ دیتے ہیں؟ کیوں ہم یہ نہیں سمجھتے کہ موت تو آنی ہی آنی ہے.”
