نجمہ اور سالار احمد شیری کو اپنے ساتھ کہیں باہر نہیں لے جاتے تھے تو وہ بھی ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے گھر پر ہی رک جاتی۔
— Monaa Sohail, شناخت- Identity Novel
“اپنے بچوں کو ذہنی، جسمانی اور جذباتی ہر طرح سے تحفظ فراہم کرنا آپ کی ذمہ داری ہے نہ صرف باہر کی دنیا سے بلکہ ان کے اندر کی دنیا سے بھی جو زیادہ خطرناک ہے۔”

“کیونکہ جسم کے گھاؤ تو دکھائی دیتے ہیں ان پر مرہم رکھا جا سکتا ہے لیکن روح کے گھاؤ اندر ہی اندربہت خاموشی سے اپنی جڑیں مضبوط کرتے چلے جاتے ہیں۔”

“بلاشبہ آج کا پاکستانی معا شرہ ایک سماجی، معاشی اور فکری بحران کا شکار ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ یہ بحران شد ّت اختیار کرتا جا رہا ہے۔”

“طمانیت فقط اِک جسم نہ تھا، ایک جذبہ تھاجو ہمیشہ ایک دوست کے روپ میں میرے ساتھ رہا، سدا میری شناخت رہا اچھی یا بُری ، یہ طے کرنا ضروری نہیں۔”
