جب انسان اپنے پیروں کی زمین چھوڑکر آسمان کو پانے کی کوشش کرتا ہے، تو ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب آسمان انسان کو منہ کے بل گراتا ہے اور زمین واپس قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ — Amna Shehzadi, Ghungroo- Urdu Novel About Identity Copy Share WhatsApp
by Amna Shehzadi
Contemporary Fiction · 30 pages
“شنایہ آنکھیں موندے سونے کی کوشش کر رہی تھی، ڈرائیور گاڑی چلانے میں مصروف تھا اور رخسار خالی آنکھوں سے اب بھی آسمان کو دیکھے جا رہی تھی۔”
“بہار بیگم کی موت کے بعد کوٹھے اور محفلوں کی باگ دوڑ شنایہ نے سنبھال لی تھی، اور رخسار نے شنایہ کی خود سری کے آگے ہتھیار ڈال دیے تھے۔”
“شنایہ کے چہرے پر کچھ بیزاری آئی لیکن اُس نے رخسار اور ڈرائیور کی بات پر کوئی کان نا دھرے اور بد ستور اپنے موبائل میں مصروف رہی۔”
“باپ کی بروقت مداخلت سے بہن کی عزت تو بچ گئی پر صدمہ باپ کی جان لے گیا۔”
“مدرسے جانے کے فیصلے نے اس پر کوئی اثر نہ ڈالا اور وہ خوشی خوشی مدرسے جانے کے لیے راضی ہو گیا۔”
“چھ سال کی زرمینہ آنکھیں ملتی ہوئی ُاٹھی اور بستر سے ُاتر کے سیدھا باپ کے پاس آئی اور باپ کے دائیں کندھے سے لپٹ گئی۔”
“'' ملنگ کی دلہن تم نے ہی چرائی تھی نا؟ درندے ہو تم اللہ تمہیں کبھی معاف نہیں کر ے گا کبھی نہیں۔”
A girl with high dreams and aspirations; trying to leave a mark on people's heart with her words.
“میں کل رات ان کے مطالعہ سے اپنے دل کو بہلانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔”
“چمنی سےاٹھتا رقص کرتا دھواں، اور اس دھویں میں سے چھن کر آتی چاند کی روشنی، کیا سماں ہوتا تھا۔”
“میں اپنی اولاد کو سکھی رکھنے کی کوشش کرتا ہوں مگر ہوں تو عاجز سا انسان...میں تقدیر کے لکھے کو بدل نہیں سکتا۔”
“ناچارہ وہ خود ہی آگے بڑھا اور اس کا منہ اوپر اٹھایا اور اس کی آنکھوں کے کھلنے کا انتظار کرنے لگا۔۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.