بات تکرار میں بدل گئی اور تو تو میں میں عروج پرپہنچی ہی تھی کہ اچانک اس کے باقی ساتھی فرحان سمیت ادھر پہنچ گئے کہ اتنی دیر کیوں لگ گئی۔
— Musab Umair, نفرت / Nafrat
“اِرم اپنے خاوند کے ساتھ جا چکی تھی اور ماں باپ اپنے رشتہ داروں اور محلے والوں سے بے حد شرمندگی کے مارے ملنے جلنے سے قاصر ہو چکے تھے۔”

“کوئی بہن کھو کر آیا تھا کسی نے اپنی ماں کو اپنی نظروں کے سامنے مرتے ہوئے دیکھا تھا، مگر ہر مرنے والے کی داستان کے ساتھ ایک امید کا نام جڑا تھا۔”
