مروی نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی, چھوٹی بہنوں کو بھی اپنی سمجھ کے مطابق ایک ماں کی طرح دنیا کی اونچ نیچ سمجھاتی رہتی۔ — Farah Bhutto, اعتبار کا موسم Copy Share WhatsApp
by Farah Bhutto
Contemporary Fiction · 40 pages
“میں اپنی اولاد کو سکھی رکھنے کی کوشش کرتا ہوں مگر ہوں تو عاجز سا انسان...میں تقدیر کے لکھے کو بدل نہیں سکتا۔”
“میری وجہ سے تمہیں جو تکالیف اٹھانی پڑیں ,تم نے جو اذیتیں سہیں, میں ان سب باتوں کے لئے, دل سے معافی چاہتا ہوں!”
“اشفاق احمد اپنی اس ہمدرد اور احساس والی بیٹی کو ہر وقت دعائیں دیا کرتے۔”
Im fiction writer & poetess.
“اس سے پہلے کے ارغوان کچھ سمجھتا رومی روشی کو پکارتا ہوا اس حصار سے باہر نکل گیا۔”
“اسی عمر میں بڑ ے سمجھداری سے کام لیں تو بچوں کی معصو میت برقرار رہتی ہے اور میں بحثیت ماں، میں سلطان کی ماں تھی یا باپ۔”
“ایک اور چیز جس نےمجھے حیرت میں ڈالا وہ یہ تھی کہ ناروے میں انگریزی تو سب سمجھتے ہیں پر بولتا کوئی بھی نہیں ہے۔”
“اب کچھ لوگ جو قرآن کا علم رکھتے ہیں وہ تو یہ بات سمجھ جاتے ہیں لیکن جنھوں نے بس قرآن کو پڑھا ہوتا ہے انھیں سمجھانا نا ممکن سا ہو جاتا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.