تذلیل گوارا کر لینے کے عوض دو وقت کی روکھی سوکھی توان تینوں کو آسانی سے دستیاب ہوجاتی مگر عزت نام کی کوئی چیزان کے آس پاس بھی نہ پھٹکتی ۔ — Asma Hassan, اُفق کے اُس پار Copy Share WhatsApp
by Asma Hassan
Drama · 16 pages
“ماں باپوکی آنکھوں میں ٹھہرے آنسواُسے اپنی بے عزتی سے کہیں زیادہ بیش قیمت محسوس ہوتے ۔”
“اس کے دل و دماغ میں موجزن کوئی عجب سی خوشی و خرسندی اس کی بڑی بڑی آنکھوں سے صاف عیاں تھی۔”
“اس کی آنکھوں سے پھوٹنے والےکرب و تکلیف کا لاوا اس کے ماں باپو کو دکھائی دیتا تو وہ اس کے لبوں پر ھاتھ رکھ دیا کرتے۔”
Short Story writer. Favourite Category in writing is "Afsana Nigaari" and "Novel Nigaari"
“ہم ہمیں یہ یقین ہے اگر نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کریں تو یہ بہت آگے جا سکتے ہیں اور یہ حقیقت حال بھی ہے۔”
“چمنی سےاٹھتا رقص کرتا دھواں، اور اس دھویں میں سے چھن کر آتی چاند کی روشنی، کیا سماں ہوتا تھا۔”
“ہم نےمقامی ہنر پر یقین رکھتے ہوئے اس جذبے کا دامن تھاما اور سب کی امیدوں سے بیشتر اس مہم کو سرانجام دیا۔”
“اپنی آرزوؤں کو پامال کرنا، اپنی خودی کو فنا کرنا، الله اور اس کے رسول ﷺسے محبت کا عملی ثبوت دینا کوئی آسان کام نہیں۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.