جہاں پڑھے لکھے ہونا یا ان پڑھ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ یہاں انصاف کے ترازوکا پلڑا مکھیا جیسے لوگوں کی جھولی میں جُھکتا ہے۔ — Asma Hassan, اُفق کے اُس پار Copy Share WhatsApp
by Asma Hassan
Drama · 16 pages
“ماں باپوکی آنکھوں میں ٹھہرے آنسواُسے اپنی بے عزتی سے کہیں زیادہ بیش قیمت محسوس ہوتے ۔”
“اس کی آنکھوں سے پھوٹنے والےکرب و تکلیف کا لاوا اس کے ماں باپو کو دکھائی دیتا تو وہ اس کے لبوں پر ھاتھ رکھ دیا کرتے۔”
“اس کے دل و دماغ میں موجزن کوئی عجب سی خوشی و خرسندی اس کی بڑی بڑی آنکھوں سے صاف عیاں تھی۔”
Short Story writer. Favourite Category in writing is "Afsana Nigaari" and "Novel Nigaari"
“بہت سے لوگ اس حویلی کو فوّارے والی حویلی کے نام سے یاد کرنے لگے تھے ۔”
“اب میرا ضمیر مردہ نہیں ہے وادی کے لوگوں کا دکھ اپنی جان پہ محسوس ہوتا ہے۔”
“جسے سن کر بہت سی عورتوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ان ماں بیٹی کا تمسخر اڑایا ۔۔”
“چند دہشتگردوں کی وجہ سے یہ ملک چھوڑ دیں؟ میرے لوگ ہزار اختلافات کے بعد بھی مشکل وقت میں متحد ہوتی ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.