زندگی کا تیز بہاؤ اِس قدر اُلجھاتا ہے کہ جیسے وہ کردار ہماری زندگی میں کبھی نہیں تھا. کامیاب لوگ وہی ہوتے ہیں جو حال میں جینا سیکھ لیتے ہیں. — Suleman Ashiq, میرال Copy Share WhatsApp
by Suleman Ashiq
Tragedy · 5 pages
“اِنہی باتوں کی بُھول بُھلیاں میں وہ بھٹک رہا تھا کہ آنکھوں سے ایک موتی چھلک کر رخسار پر گرنے کے بعد ہتھیلی پر ٹھہر سا گیا.”
“ماضی کی پرچھائی میں جینے والے زندہ دفن ہو جاتے ہیں لیکن یادیں ہی وہ قیمتی سرمایہ ہے جہاں انسان بالکل نہیں بدلتے، جذبات اَن کہے ضرور رہ جاتے ہیں مگر کہیں نہ کہیں سچے ضرور ہوتے ہیں.”
“اتُھمان سےملتے وقت اُسکا دل بے چین تھا مگر میرال کہ چہرے پر سجی مسکراہٹ دیکھ کر وہ خوش تھا.”
My first language was shy. It's only by having been thrust into words and fantasies penned down, that i have learned to cope with my shyness.
“باپ کشاف کے سر پر ہاتھ پھیرتا،ماں کشاف کے سینے سے لگ کر اسے کامیاب لوٹنے کی دعائیں دیتی واپس لوٹ آئی۔”
“میری دعا ہے خدا کرے تم ہمیشہ کامیاب رہو اور سچی خوشی سے تمہارا دامن بھرا رہے، آمین۔”
“اگرچہ ہم اب بھی اس کائنات کے اندھیروں میں زندگی کے حقائق جاننے کے لئے سرگرداں ہیں، انہوں نےنظام زندگی میں ہی اختیار حاصل کرلیا ہے۔”
“پس ہمارے سانس لینے کا بنیادی مقصد اسی آکسیجن نامی گیس کو جسم کے اندر لے جانا ہوتا ہے تا کہ جسمانی خلیات بہتر انداز میں کام کر سکیں۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.