اس میں اتنی جرات تھی ہی نہیں کہ یہ بتا پاتی کہ اس نے کال کیوں کی وہ کون سا وہم تھا یاڈر تھا جس نے ان کے دل و دماغ کو گھیر رکھا تھا۔ — Maemuna Sadaf, خار/Khaar - Realistic Fiction Book Copy Share WhatsApp
by Maemuna Sadaf
Popular Fiction · 160 pages
“کسی کے لیے اس سے بڑا کوئی امتحان نہیں ہوتا کہ وہ دکھی ہو اورجو اس کا گناہگار ہو وہی کہے دعا کرو لیکن محبت کرنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں۔”
“ابھی چند ماہ پہلے ہی کی تو بات تھی جب وہ خوشی خوشی پیزا بنایا کرتی تھی اور پیزا بناتے ہوئے چشم زدن میں خود کو اجمل شاہ کے گھر پایا کرتی۔”
“بدریکا کے لیے تو محبت ہی دکھ بن چکی تھی اس کے دل میں سوائے بد دعا کے اجمل شاہ کے لیے کچھ نہ تھا۔”
Maemuna Sadaf was born in Rawalpindi, Pakistan , grew up in Rawalpindi and achieved a degree of MBA (Finance) in 2008. Started Writing for Native language (Urdu) newspapers in 2013. As well as, Sta…
“ہمارا ہر لمحہ وہ ڈر محسوس کرنا وادی والوں کے ایک لمحے کہ برابر ہے کیونکہ وہ اس خوف میں جی رہے ہیں.”
“خوش قسمتی سے جو لوگ بچ جاتے، وہ ترکی پہنچ کربند کنٹینروں کے ذریعے اگلے بارڈر پر پہنچائے جاتے ۔”
“آخر کب تک آپ ڈرا دھمکا کر اپنے بچوں کے گلے گھونٹتے رہیں گے اور کیوں؟ کیا لوگ اور خاندانوں کی نام نہاد عزتیں آپ کے بچوں کی عزت نفس سے زیادہ اہم ہیں؟ نہیں!”
“ہماری قسمت کے تالے کی چابی ہمارے اندر موجود ثابت قدمی ، ہمت، ذہانت اور اپنے حصے کی ذہنی و تخلیقی صلاحیتوں کا درست استعمال اور صبر ہوتی ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.