(آزاد جموں کشمیر یونیورسٹی کی طالبہ زہرہ گردیزی کے مقبوضہ وادی کے لیے تحریر کیے گے سچے جذبات) اگست کی ایک صبح آنکھ کھلی تو اپنی عارت کے مطابق ٹیلی ویژن کا دیدار فرض عین سمجھا۔
— Harf Nagar, Shahadat Magazine _ December 2019
“مبادہ ہمارا رب ناراض ہو جائے اور اس لیے بھی کہ اللہ کے ہاں عزت والا وہ ہے جو اس کی ذات سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔”

“میں یہاں چھہ وقت کی نماز ادا کرتا ہوں آپ بھی تہجد کی نماز ادا کیا کریں اس سے دنیا وآخرت میں سکون ملتا ہے۔”

“ہمیشہ تکلیف ہی سمجھا کبھی زندگی کو آسان نہیں سمجھا نا کوشش کی گئی جاننے کی کے زندگی مشکل کیوں ہے۔۔”

“میرے ذہن میں اس پابندی کا کوئی عقلی جواز نہ تھا لیکن لاشعور میں یہ احساس موجود تھا کہ اس طرح کی پابندیوں کی خلاف ورزی سے "دنیا" بدل جاتی ہے۔”
