میں اِن سے دور ہوں جس کی وجہ سے یہ میری زیادہ عزت کرتے ہیں اور اسی لیے حیدر، ہادی، زونی، عنایہ، عادل سب مجھے بڑےپاپا سمجھتے ہیں۔ — Rawish Ali Tirmizy, لَو، لکھنؤ اور لاہور / Love, Lucknow Aur Lahore Copy Share WhatsApp
by Rawish Ali Tirmizy
Romance · 466 pages
“اُسے زاہد اور ظہیر کی اپنی کمپنی میں شمولیت کی زیادہ خوشی نہیں تھی کیونکہ اُسے اپنے گھر کے افراد کی کمزوری کا پہلے سے اندازہ تھا۔”
“گھر کی کوئی بھی لڑکی اس سے دوستی کرنا پسند نہیں کرتی تھی تو اس نے بھی اپنا زیادہ وقت امی اور دادی جان کے ساتھ صرف کرنا بہتر سمجھا۔”
“اگر اُسے پتا چل جائے کہ وہاں بھیا دوسری برانچ چلا رہے ہیں تو شاید خوشی سے بے ہوش ہو جائے مگر اس کی خوشی ہمیں بھاری پڑ سکتی ہے۔”
“بھلا کوئی اُس شخص کے بارے میں ایسی رائے کیسے رکھ سکتا تھا جس کے دن کا آغاذ ہی ٹوٹے دلوں کا دکھ بانٹنے سے ہوتا تھا۔”
“جب "لگتا نہیں دِل میرا" کی کالر ٹیون سماعت تک پہنچی تو اُسے میاں کی بےسری آواز میں محمد رفیع کی مشہور غزل یاد آئی۔”
“انعامات کا لفظ سننا تھا کہ میاں نے فرحان اور اس کے ابو کو اکیلا چھوڑا اور منڈیر پر کھڑے ہو کر فہرست سننے لگے۔”
Following her dream of becoming a writer, Rawish Ali published her first novel in 2020. Despite being raised in the literatis of Urdu Literature,she graduated in English Literature from Lahore and …
“اس کی عقل کو شیطان دلیلیں دینے لگا تھاکہ وہ اس مقابلے کی دنیا میں پیچھے رہ گیا ہے، ناکام ہو رہا ہے اورپرانے دور میں جا رہا ہے جبکہ دنیا بہت آگے جا چکی ہے۔”
“اس کٹیا سے ھر شام اٹھتی دھویں کی لکیر کو میں نے زندگی کا استعارہ کب سمجھنا شروع کیا، شاید مجھے خود صحیح اندازہ نہیں ہے۔”
“مگر میں نے اس سے یہ پوچھنا ہر گز مناسب نہ سمجھا کہ آخر وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔”
“دماغ کے ڈاکٹر کو دکھایا، خود بھی اسے سمجھایا اور اس کے لیے گھر میں استا د بھی رکھے جو اسے مردوں والے طور طریقے سکھاتے لیکن سب بیکار گیا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.