اس کے باوجود اس کے باوجود میں خاموشی سے اٹھتا ہوں اور اپنی ای در یک کو دریا میں ڈال دیتا ہوں۔
— Ibteda Aur Daastan, نقوش - نمبر میر تقی میؔر - Urdu Literary Magazine
“رات کے تقریباً ۲ بجے اُن کی آنکھ کھلی تو وہ اتنے ترو تازہ ہو کر اٹھے کہ انھیں گمان گزرا کہ وہ مر چکے ہیں اور یہ ان کی روح ہے جو بستر پر بیٹھی ہے۔”
