ایک بات جو مذاق میں شروع ہوئی تھی اتنی بڑھی کہ آج برسوں بعد بھی دلوں کی کدورت نہیں گئی۔ — Umm e Bobi, دنیا کے رنگ - Duniya Kay Rung Copy Share WhatsApp
by Umm e Bobi
Non-Fiction · 101 pages
“اس کتاب میں آپ کو ہر رنگ کے کردار سے واقفیت ہوگی جیسےبے تحاشہ محبت اورقربانیاں دینے والے لوگوں سے لے کر اپنی اولاد کو زمانے کی ٹھوکروں پر چھوڑنے والے۔”
“موسلا دھار بارش ہو رہی تھی ہوا کے زور سے ٹوٹتے گرتے بڑے بڑے درخت دل دہلا رہے تھے۔”
مصنفہ امِ بوبی امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ آرٹس اور پینٹنگز کے ساتھ ساتھ کتب بینی میں بھی بےحد دل چسپی رکھتی ہیں۔ کتب بینی کا شوق انھیں ورثے میں ملا ہے اور بچپن سے ہی کتابیں پڑھتی آ رہی ہیں۔ اپنی زن…
“عمران نے اس کی بات پر مسکراتے ہوئے اسٹورروم کے دروازے پر دباؤ ڈالا اور دروازہ کھول کر ڈرائنگ روم میں داخل ہوگیا۔”
“دروازہ خاموشی سے بند کرتے ہوے مسکرائیں اور سوچا "عاشق کو تنہائی میں تنگ نہیں کرنا چاہیئے"۔”
“کبریٰ کی ماں کپڑے کی کان نکال لیتیں‘ کلف توڑتیں، کبھی تکون بناتیں کبھی چوکھونٹا کرتیں اور دل ہی دل میں قینچی چلا کر انکھیوں سے ناپ تول کر مسکرا پڑتیں۔”
“زمین گدلی، نرم اور گیلی، گلگلے بادلوں کے بیچ سے کہیں کہیں سورج چاچو منہ ڈال کر مسکرا رہے تھے لیکن سردی سے جمتی ہوئی انگلیوں کا کچھ نہیں کر پائے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.