بھید تو مجھ جیسے بہت سے جان لیتے ہیں پر کوئلے کی کالک کھرچتے کھرچتے ناخن ٹوٹ جاتے ہیں۔
— Shoaib Arif, ارتقاء کا مسافر - Irtiqa Ka Musafir
“جلد ہی بازار کے شور نے مجھے متوجہ کیا اور میں شاپنگ چھوڑ کر گھر واپس آگئی کہ اب کچھ اور خریدنا میرے لیے ممکن نہ تھا۔”

“اسے سب سے پہلے سروے کا کام یاد تھا جب اس کی کمپنی کے سروئیر نے ٹوٹل سٹیشن سے مکمل سروے کر کے اسے سی ایس وی فائل میں دیا تھا۔”
