لبوں پہ ہر چہرے کو روشن کر دے ایسی مسکراہٹ سجا کے ، آنکھوں میں قد کاٹھ ، شہرت ، امارت اور صورت دیکھے بغیر عقیدت اور عزت بسا کے اور دل میں محبت کے جذبے کو محترم بنا کے۔
— Zarish Iqbal, سیاہی - Siyahi
“بے ذوق بھی اس طرح سے کہ خود ہی خود کے ہاتھوں لکھے جانے کا بے ذوق سفر ، وہی جو سب کاٹ لیا ہے اُسی کو لفظوں میں پِرونا ہے اُنڈیلنا ہے ایک کتاب میں ۔”

“آج صبح پھر جب روزی کمانے کے لے راستہ ناپنے نکلی تو نظر ہوا میں جھولتے پھول پہ پڑی جو اپنا بہترین رنگ اور تازگی لیے پودے کی شاخ کا اکیلا مالک بنا بیٹھا۔”

““وہ زیرِ لب مسکراتے ہیں اور کہتے ہیں، ”ایسے ہی الفاظ بولنے والوں سے یہ اندرونِ قُرصِ ارض بھرا پڑا ہے، یہ سب ہی بڑے مصروف لوگ تھے۔”

“جنّت، سلمان کے خیال کے لطف و سرور اور فراق کے خوف اور وسوسوں کے درمیان ہچکولے کھا رہی تھی کہ اسی اثناء میں سلمان کا مسکراتا چہرہ گلی والے دروازے سے نمودار ہوتا نظر آیا۔”
