کچھ لفظ بیان کریں گے خوشی اور کچھ تصویر پیش کریں گے غم کی اور کہیں محسوس ہوگی آنسوؤں کی نمی، کیوں کے دل کے افسانے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔ — Raafye Aziz, Dil Key Afsaany دل کے افسانے Copy Share WhatsApp
by Raafye Aziz
Poetry · 80 pages
“کچھ دوست شکوہ کرتے ہیں کہ میں سوچتا بہت ہوں لیکن میں اُن سے یہی کہہ کر معذرت کرلیتا ہوں کہ یہ میرے اختیار میں نہیں۔”
“بہت دیر میں خیال آیا کہ مجھے اپنی شاعری ترتیب دینی اور محفوظ کرنی چاہئے، شاید میرے الفاظ کسی دوسرے کے خیالات کی ترجمانی بھی کر سکیں۔”
“میں کوئی شاعر تو نہیں نہ ہی باقاعدہ کوئی تعلیم حاصل کی شاعری سے متعلق لیکن بہت چھوٹی عمر سے ہی شعر کہنا شروع کیا تھا۔”
I've started writing when I was in my teen. After many years of working on it, events in my life supported my words to express my feelings in this way. I've never learned to write, it is just an ef…
“اِنہی باتوں کی بُھول بُھلیاں میں وہ بھٹک رہا تھا کہ آنکھوں سے ایک موتی چھلک کر رخسار پر گرنے کے بعد ہتھیلی پر ٹھہر سا گیا.”
“زندگی تو ہر کسی کے پاس ہوتی ہے لیکن اگر اس زندگی میں عزت نہیں تو اس زندگی سے موت اچھی ہے۔”
“کیونکہ جسم کے گھاؤ تو دکھائی دیتے ہیں ان پر مرہم رکھا جا سکتا ہے لیکن روح کے گھاؤ اندر ہی اندربہت خاموشی سے اپنی جڑیں مضبوط کرتے چلے جاتے ہیں۔”
“’’میری دعاؤں کا اثرنہیں تھا اجمل شاہ تو بددعا میں کیا اثر ہوگا؟‘‘بدریکا جمال نے میسج کیا اور دو آنسو اس کی آنکھوں سے لرز کر گالوں کو تر کر گئے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.