میں تو اب تک درد سے آنکھیں میچے اماں کے کندھے سے چپکا رو رہا تھا - ہماری گلی میں تقریباََ سبھی گھر ہمارے قرابت داروں کے تھے۔ — Farheen Naz Tariq, Roshni K Deep - Tragic Stories Book in Urdu Copy Share WhatsApp
by Farheen Naz Tariq
Tragedy · 100 pages
“میں آج سمجھ گیا ہوں یہ گھر تیرا نہیں تھا، جہاں تیرے ماں باپ کی غریبی کاٹتے کاٹتے تیری عمر کٹ گئی اور ہم تجھے اس کا صلہ بھی نہ دے پائے۔”
“ان امیرزادوں کے ساتھ تھوڑا گھوم پھر لو بدلے میں خوشی خوشی شاپنگ کرواتے ہیں۔”
“اماں نے وہاں سے جانے کا قصد کیا تو مامی اسے سمجھانے بیٹھ گئیں اور ایسی ایسی دلیلیں دی کہ اماں ابا کو قائل کر کے ہی چھوڑا۔”
Iam a digest writer. Reading and writing stories is my passion. My novels and short stories have been published in several digests such as, Urdu digest, Naye ufaq digest, Saima digest, Sama newspap…
“ماں باپوکی آنکھوں میں ٹھہرے آنسواُسے اپنی بے عزتی سے کہیں زیادہ بیش قیمت محسوس ہوتے ۔”
“اسے کبھی موت نہیں آئے گی، بالکل اسی طرح جیسے مجھے کبھی موت نہیں آسکتی۔”
“بے ذوق بھی اس طرح سے کہ خود ہی خود کے ہاتھوں لکھے جانے کا بے ذوق سفر ، وہی جو سب کاٹ لیا ہے اُسی کو لفظوں میں پِرونا ہے اُنڈیلنا ہے ایک کتاب میں ۔”
“کسی کے لیے اس سے بڑا کوئی امتحان نہیں ہوتا کہ وہ دکھی ہو اورجو اس کا گناہگار ہو وہی کہے دعا کرو لیکن محبت کرنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.