مجھے لگا موت کا گھوڑا بڑی تیزی سے میری طرف دوڑتا چلا آرہا ہے۔ — Mubashra Khan, داستان اِک نئی / Daastan Ik Nayi - Fantasy Story Book in Urdu Copy Share WhatsApp
by Mubashra Khan
Fantasy · 45 pages
“فرشتے آتے، اس کا بستر لگاتے، نہلاتے دھلاتے، نوالے بنا بنا کر کھانا کھلاتے اور اس کی خدمت سے خوشی پاتے۔”
“اس کے پاس ایسا علم تھا کہ اگر وہ دوستاروں پر قابو پا لیتا تو دنیا کے تمام انسانوں کے ذہنوں کی ڈوریاں اس کے ہاتھوں میں آجاتیں۔”
“تم نے عقل سے کام لیا اور زاروک کو اس کے منتر سے ہی مات دی اور اب کی بار وہ کسی تاریک غار میں قید کردیا گیا ہے۔”
.
“بدریکا کے لیے تو محبت ہی دکھ بن چکی تھی اس کے دل میں سوائے بد دعا کے اجمل شاہ کے لیے کچھ نہ تھا۔”
“انسانوں کو مجھ سے یہ بھی شکایت ہے کہ جب میں ان کے گھروں کی چھت پر بیٹھ کرنغمہ سرا ہوتاہوں تو ان کے گھروں میں مہمانوں کی مصیبت نازل ہوجاتی ہے۔”
“ایسے ہی جب کوئی اپنی ناکام محبت کا غم مناتا ہے تو دراصل وہ غم نہیں اس محبت سے منسلک سہانی یادوں سے دل بہلانا چاہتا ہے۔”
“کسی کے لیے اس سے بڑا کوئی امتحان نہیں ہوتا کہ وہ دکھی ہو اورجو اس کا گناہگار ہو وہی کہے دعا کرو لیکن محبت کرنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.