جلال نے تانے بانوں کو جوڑنا شروع کیا کہ جہاں عام انسانوں کے لیے جنگل ختم ہوتا تھا، وہاں ایک نئی دنیا آباد ہے۔ — Afraz Jabeen, وادئ نیلا / Waadi e Neela - Fantasy Fiction Book in Urdu Copy Share WhatsApp
by Afraz Jabeen
Fantasy · 49 pages
“اسے ادھیڑ عمر آدمی کی کہی ہوئی بات یاد آئی کہ 'یہ دونوں چیزیں تمھاری مدد کریں گی اور باقی معاملات اپنی بصیرت سے طے کرو گے۔”
“ٹھنڈی ہواؤں اور گہرے کالے بادلوں کے ساتھ وقفے وقفے کی بارش نے نہ صرف موسم خوشگوار کر دیا بلکہ ہر چیز کا مزہ دوبالا کر دیا۔”
“بونا اور لال پری ہر دم خوش رہتے اور زیادہ وقت تہہ خانے میں ہی گزارتے۔”
“دونوں ماں باپ خاموشی میں اتنا بھول گئے تھے کہ اس چاکلیٹ دودھ کے خوف میں اور اس کی سمجھ آنے میں وہ معصوم نہ مکمل کھا پاتی تھی اور نہ سو پاتی تھی۔”
“انھیں ابا نے بھیجا تھا کہ وہ مجھے منا لیں، انھوں نے یقین دلایا تھا وہ شرمندہ ہیں۔”
“خاموشی کے لیپ نے زخموں کو ایسا بھرا تھا کہ اس میں سے خون رس رس کر اس کی روح میں شامل ہو کر اس کو گھا ئل کررہا تھا۔”
“پورا گھر ڈرا سہما ایک دوسرے کو ایسے تک رہا تھا جیسے ابھی کوئی اس ننھی سی جان کو جسے ماں کے تن سے جدا ہوئے چند گھنٹے ہی ہو ئے تھے اپنا گناہ کہہ کر قبول کر لے گا۔”
A lecturer by profession and writer by passion. https://www.facebook.com/jabeenafraz/
“تمہیں معلوم ہے کہ جو کچھ ہم سکول میں سیکھتے ہیں عملی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔”
“اس کی یہ خواہش کہ اپنی ماں کو آرام دہ اور سکون بھری زندگی دیتا، اب حسرت بن کر دل میں کانٹے کی طرح چبھتی تھی۔”
“’میں دنیا کو بدلنے کا عزم رکھتا ہوں سر!مجھے یقین ہے وہ دن دور نہیں جب آپ کو اور میرے والدین کو مجھ پر فخر ہوگا۔”
“اسے ڈر تھا کے ایسے اس کی اور اسکی بیٹی کی بہت بدنامی گی اور پھر شازیہ کی زندگی ایک مذاق بن کر رہ جایے گی.”
Enter your account email and we'll send you a reset link.