اسی عمر میں بڑ ے سمجھداری سے کام لیں تو بچوں کی معصو میت برقرار رہتی ہے اور میں بحثیت ماں، میں سلطان کی ماں تھی یا باپ۔ — Afraz Jabeen, چاکلیٹ / Chocolate- Book About Childhood Trauma Copy Share WhatsApp
by Afraz Jabeen
Tragedy · 45 pages
“دونوں ماں باپ خاموشی میں اتنا بھول گئے تھے کہ اس چاکلیٹ دودھ کے خوف میں اور اس کی سمجھ آنے میں وہ معصوم نہ مکمل کھا پاتی تھی اور نہ سو پاتی تھی۔”
“انھیں ابا نے بھیجا تھا کہ وہ مجھے منا لیں، انھوں نے یقین دلایا تھا وہ شرمندہ ہیں۔”
“خاموشی کے لیپ نے زخموں کو ایسا بھرا تھا کہ اس میں سے خون رس رس کر اس کی روح میں شامل ہو کر اس کو گھا ئل کررہا تھا۔”
“جلال نے تانے بانوں کو جوڑنا شروع کیا کہ جہاں عام انسانوں کے لیے جنگل ختم ہوتا تھا، وہاں ایک نئی دنیا آباد ہے۔”
“بونا اور لال پری ہر دم خوش رہتے اور زیادہ وقت تہہ خانے میں ہی گزارتے۔”
“ٹھنڈی ہواؤں اور گہرے کالے بادلوں کے ساتھ وقفے وقفے کی بارش نے نہ صرف موسم خوشگوار کر دیا بلکہ ہر چیز کا مزہ دوبالا کر دیا۔”
“اسے ادھیڑ عمر آدمی کی کہی ہوئی بات یاد آئی کہ 'یہ دونوں چیزیں تمھاری مدد کریں گی اور باقی معاملات اپنی بصیرت سے طے کرو گے۔”
A lecturer by profession and writer by passion. https://www.facebook.com/jabeenafraz/
“ہمہ وقت اسے یہی پریشانی ہوتی کہ اس کی مصروفیت اس کی گھریلو زندگی پر اثر انداز نہ ہو۔”
“اللہ پاک نے اس دنیا میں ہر انسان کو الگ طرح کی زندگی دی ہے، سب کو کہیں خوشیاں کہیں غم دیا ہے۔”
“اسے اطمینان ہوا کہ اس کے اقدام سے اس بے چاری عورت کی زندگی بھی سنور جائے گی وہ اپنے دل کی آواز کو دبانے کے بجائے اس کے مطابق زندگی گزارے گی۔”
“اس کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آرہی تھی وہ اپنا دین بدلنا چاہتی تھی.”
Enter your account email and we'll send you a reset link.