مگر میں نے اس سے یہ پوچھنا ہر گز مناسب نہ سمجھا کہ آخر وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔ — Zindan زندان, Nagufta/ناگفتہ Copy Share WhatsApp
by Zindan زندان
Contemporary Fiction · 64 pages
“انہی چہروں پر مشتمل 'ناگفتہ' افسانوں اور شاعری کا ايک ایسا مجموعہ ہے جو انسان کے اس چھپے چہرے کو مختلف حالات اور واقعات میں ظاہر کرتا ہے۔”
“زندگی کا کیا بھروسہ کہ صبح تک کیا سے کیا ہو جائے؟''ہم دونوں نے ایک قہقہ لگایا اور سیٹھ مجیب کیبن سے باہر چلا گیا۔”
“'' اس کے بعد دونوں کی ہلکی سی ہنسی سنائی دی اور ساتھ ہی ایک بار پھر سیٹھ کی آوا زسنائی دی ''تم اس خوبصورت سفید ساڑھی میں انتہائی دلکش اور حسین لگ رہی ہو۔”
زندان اردو زبان کے افسانہ نگار ہیں۔ ان کا اصل نام عادل محمود ہے۔ ان کی پیدائش اور پرورش پاکستان میں ہوئی، لیکن وہ 2002 سے یورپ میں مقیم ہیں۔ انہوں نے برطانیہ سے گریجویشن کیا۔ ان کی پہلی کتاب نا گفت…
“نہیں سمجھ آ رہا تھا کے اُسے کس طرح بتاؤں کہ میں اُس سے کئی گُنا زیادہ پیار کرتا ہوں جتنا وہ ریان سے کرتی ہے۔”
“پہلے سکول کالج پھر یونیورسٹی میں معاشرے کو سمجھنے کا سفر شروع کیا، اور وہ اب تک جاری ہے۔”
“اس کٹیا سے ھر شام اٹھتی دھویں کی لکیر کو میں نے زندگی کا استعارہ کب سمجھنا شروع کیا، شاید مجھے خود صحیح اندازہ نہیں ہے۔”
“اس رات میں واقعی یہ سمجھی تھی کہ اب سب بدل گیا ہے، ماموں کو ابا نے بھیجا ہے اور ابا مجھے شادی ہال میں بلا رہے ہیں۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.