علاقہ مکین بھی اس پراسرار روح کو پسند کرنے لگے تھے جو ان کے بچوں کی حفاظت کر رہی تھی۔ — Sarah Omer, Aik thi Zoya / ایک تھی زویا Copy Share WhatsApp
by Sarah Omer
Mystery · 39 pages
“شادی کے بعد زویا اپنے والدین کو اپنے ساتھ ہی لے آئی تھی کیونکہ ارمغان کے والدین امریکہ میں رہتے تھے اور زویا ارمغان یہاں اکیلے۔”
“'اگر میری بچیوں کے ساتھ بھی ایسا ہو گیا تو کیا ہو گا؟ کیا میں ان کی حفاظت کر پاؤں گی؟ کیا میں ان کو تحفظ دے سکوں گی؟' اس کے ذہن میں ہر وقت خوف کےسائے منڈلاتے۔”
“کچھ پڑھ جاتی تو اس کی ماں کو بھی سکھ نصیب ہوتا لیکن کوئی درندہ کسی کو چیرنے پھاڑنے سے پہلے پوچھتا تھوڑی ہے کہ تم لواحقین میں کسے چھوڑے جا رہے ہو؟ ایک بے بس بیوہ ماں کو۔”
“اللہ تعالی زویا اور اس جیسے درد دل رکھنے والے لوگوں کو اپنے مقصد میں کامیاب کرے(آمین)۔”
“میری پہلی کتاب کا انتساب میرے عظیم والدین کے نام جن کی دعائیں ہمیشہ میرا پیچھا کرتی ہیں۔”
Holds a masters degree in special education from Punjab University Lahore. I am passionate about writing Urdu short stories and novels on social issues.
“گو کہ ایک باپ کے لیے اپنے اکلوتے بیٹے کی جدائی سوہان روح تھی مگر ایک دیانتدار بادشاہ کے لیے یہ کٹھن فیصلہ کرنا ضروری تھا۔”
“باپ کشاف کے سر پر ہاتھ پھیرتا،ماں کشاف کے سینے سے لگ کر اسے کامیاب لوٹنے کی دعائیں دیتی واپس لوٹ آئی۔”
“خوفِ آدم کی اس دنیا میں آنے کے بعد محبت نفرت رقابت قربانی سب جذبے بنیادی طور پر ویسے ہی تو ہیں ۔”
“مگر جن کو سب کچھ مل جائے اور ان میں کچھ پانے کی خواہش اور کچھ کھو دینے کا ڈر باقی نہ ہو وہ بھی تو بد روحیں ہی ہیں بلکہ مردہلاشیں!”
Enter your account email and we'll send you a reset link.