12% of the book — free to read

آخری سانس تک
محمد جہانگیر بدر

داستان پبلشرز
کاپی رائٹ ۲۰۲۲ء داستان
جملہ حقوق بحق مصنف اور ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر
چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں
میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل ٢٠٢۲ء
مطبع: پکسلز پرنٹنگ سولیوشن
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان
*
مدیرہ
نرمین سرھیو (مدیرِ عالیہ)
ــــــ
سرورق اور تمام تصاویر کے جملۂ حقوق مصنف کے نام محفوظ ہیں۔
انتساب
پاکستان کے تمام سیکورٹی
فورسز کے جوانوں کے نام!
کتنے ہی جوان اپنی زندگیاں اِس ملک کے لیے وار چکے ہیں۔ بہت سے ایسے ہیں جن کا ہمیں علم بھی نہیں اور جنھوں نے ہمارے لیے بہت ساری قربانیاں دیں ہیں۔یہ کہانی بھی ایک ایسے ہی شخص کے بارے میں ہے جو اپنے ملک کی خدمت لیے کیا کچھ نہیں کرتا۔ فورسز میں جانے والے شخص کو اپنی زندگی میں بہت کچھ سہنا پڑتا ہے۔ محنت کر کے اس فورس میں آنا اور ملک کے لیے اپنی جان داؤ پر لگانا مشکل کام ہے، انسان کو بہت ہمت اور حوصلہ چاہیے ہوتا ہے۔جہانگیر بدر نے ایک ایسے ہی نو جوان کی کہانی نہایت ہی خوبصورت انداز میں لکھی ہے۔”آخری سانس تک“ اک چھوٹی سی تحریر ہے جس میں نوجوانوں کی ملک کے لیے خدمات کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ کتاب نہایت ہی سادہ الفاظ میں لکھی گئی ہے اور اسے پڑھنے والے کی دلچسپی آخر تک برقرار رہتی ہے۔
حریم فاطمہ
مصنفہ، لاہور
وطن، یہ کیا ہے؟ ہر شخص کا وطن کا اپنا تصور ہے۔ کسی کے لیے ایک چھوٹا سا وطن ہے؛ یہ وہ گلی ہے، وہ گھر جہاں وہ رہتا ہے۔ اور کسی کے لیے ایک عظیم مادرِ وطن ہے ؛ یہ وہ ملک ہے جہاں ایک شخص پیدا ہوا اور اس کی پرورش ہوئی۔ عام طور پر مادرِ وطن کا تصور علاقائی حدود پر منحصر نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان جہاں بھی ہو، جانتا ہے کہ وہ اس علاقے کا حصہ ہے۔ وطن وہ جگہ ہے جس کی طرف انسان اپنے پورے دل و جان سے ”کھینچتا“ چلا آتا ہے، دنیا جہاں کی حسین وادیوں میں رہنے کے باوجود وہ اپنے وطن واپس جانا چاہتا ہے۔ کیسی بھی رکاوٹ اور حالات ہو، وہ کسی چیز کی پرواہ کیے بغیر، ہر ”پہاڑ“ کو پار کرکے اپنے وطن کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور اس کی حفاظت کےلیے جان بھی قربان کردیتا ہے۔
اپنے ملک، وطن، زمین، مٹی اور دھرتی کے ایک ایک کونے سے، جنھیں انسان اپنا وطن سمجھتا ہے، محبت نہ کرنا ممکن نہیں۔ مادرِ وطن سے محبت اور احترام بے پناہ ہوتا ہے اس کےلیے کوئی ایک خاص چیز نہیں ہوتی، کھیت، جنگل، دریا، سمندر، درخت، کسان، محنت کش، مزدور، ڈاکٹر، سپاہی، فوجی، جوان، بچے، بوڑھے، عورتیں اور وطن کا ایک ایک ذرہ جان سے پیارا ہوتا ہے۔صرف اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ ہم یہاں پیدا ہوئے، یہاں رہتے ہیں اس کی محبت سب سے پہلے آتی ہے۔اس وطن کی محبت، اس کے قوانین کی پاسداری، اس ملک کے معاشرے کی ترقی و خوشحالی، اپنی تاریخ سے محبت اور مادرِ وطن کا احترام اس کی محبت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر حالت میں اپنے ملک کے دفاع کے لیے کھڑے ہونے کی آمادگی بھی حب الوطنی کا مظہر ہے۔ہر شخص کو خود فیصلہ کرنا چاہیے کہ مادرِ وطن پاک سرزمین سے محبت کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اور پھر اس کی مزید ترقی، خوشحالی، اس کی حفاظت اور اس کے امن کے لیے اپنی ”آخری سانس تک۔۔۔“ قربان کرنا ہی جذبہ حب الوطنی کا عظیم مظہر ہے!
محمد جہانگیر بدر
***
اس سفر پر جانے سے پہلے میری آنکھوں کے سامنے وہ دھندلا منطر آرہا تھا جب میرے انکل اپنی پوری فیملی کے ساتھ عمرہ ادا کرنے جارہا تھے۔ میری عمر اس وقت آٹھ سال تھی۔ میری عمر کے وہ سب بچے جن کے ساتھ میں نے اپنے بچپن کے تمام دن گزارے تھے وہ مجھے اکیلا چھوڑ کر اللہ کے گھر کی زیارت پر جارہے تھے۔ وہ بہت خوش تھے اور بار بار یہ بات کر رہے تھے کہ”ہم تو مکہ مدینہ جارہے ہیں۔“میرے ایمانی جذبے کو اور زیادہ جوش و ولولہ دلا رہے تھے۔ میرے اندر ان کو دیکھ کر رشک پیدا ہورہا تھا۔اس لیے میں اپنے امی ابو کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ”بابا!انکل کے ساتھ ہم بھی چلیں۔ “تب میرے باپ نے کہا، ”بیٹا! یہ نصیب کی بات ہوتی ہے۔اللہ جسے چاہے اپنے پیارے گھر میں بلا لیتا ہے۔ہم لاکھ کوشش کریں مگر ہوگا تب جب اللہ چاہے گا۔اس کے لیے صرف اردہ ہی نہیں کرنا بلکہ اور بھی بہت سی فارمیلیٹیز ہوتی ہیں جن کو فالو کرنا پڑتا ہے۔کبھی کبھی انسان اپنی طرف سے ساری فارمیلیٹیز عبور کرلیتا ہے مگر اللہ کو کچھ اور منظور ہوتا ہے اور وہ انسان اس افضل سفر سے محروم ہوجاتاہے۔کبھی کبھی انسان کا صرف ارادہ ہی ہوتا ہے اور اللہ اس کے لیے ساری رکاوٹیں دور کرتا جاتا ہے۔ہمارے چاہنے نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوسکتا۔جب اللہ چاہے گا وہ ہمیں اور تمھیں اپنے اور اپنے محبوب کے گھر بلا لے گا۔“
”بابا!آپ انکل کو کہیں مجھے ساتھ لے جائیں۔میں کسی کو تنگ نہیں کروں گا۔“
”بیٹا!ایسا ممکن نہیں۔وہاں جانے کےلیے پاسپورٹ،ویزہ،ٹکٹ اور ویکسنیشن کارڈ، اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہونا ضروری ہے۔تم فکر نہ کرو۔ان شاءاللہ بہت جلد اللہ تعالیٰ تمھیں بھی اپنے گھر کی زیارت کے لیے بلائے گا۔بس اللہ سے امید رکھو۔“
میری لاکھوں کوشش کے باوجود بھی وہ لوگ مجھے یہاں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے۔میں بس اس جہاز کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا رہا جو ان کو لے کر اُس مقدس سرزمین کی طرف رواں دوا ں تھا۔
اور پھر کچھ دن بعد وہ لوگ واپس آئے۔میں اور پورا خاندان ان کو لینے کے لیے ائیر پورٹ پر پہنچ چکا تھا۔جیسے ہی وہ ہمارے سامنے آئے میں بھاگ کر ان سے لپٹ گیاکیونکہ کافی دیر سے ہم انتظار کررہے تھے۔انتظار کی یہ گھڑیاں کٹ نہیں رہی تھیں۔سب خاندان والوں نے ان کو پھولوں کے ہار پہنائے۔جن کو دیکھ کر وہ بہت خوش ہورہے تھے۔خاندان کے بزرگ ان کے گالوں پر بوسہ دے رہے تھے۔وہ واقعی بہت خوش نصیب تھے۔
ایک ہفتے تک پورے خاندان کے لوگ انھیں مبارک دینے آتے رہے تھے۔وہ سب کو پورے سفر کے بارے میں پوری تفصیل بتا رہے تھے کہ کیسے انھوں نے خانۂ کعبہ کے سامنے اپنی ساری دعائیں مانگیں اور کیسے انھوں نے صفا و مروہ کی سعی کی۔ان کی ان باتوں سے میرے اندر اور رشک پیدا ہورہا تھا۔ایک ہفتے تک وہ میرے ساتھ کھیل بھی نہیں رہے تھے۔وہ جب میرے ساتھ باتیں کرتے تو میں ان کو بتاتا کہ میں بھی ایک دن عمرہ ادا کرنے جاؤں گا۔میں بھی خانۂ کعبہ کی جالی پکڑ کر یہ دعائیں مانگوں گا کہ”اے میرے پیارے رب العزت! مجھے عزت شان و شوکت دے اور مجھے معروف کردے۔آمین۔“
ایک وہ دن تھا اور ایک آج کا دن جب میں یہ چاہتا ہوں کہ مجھے کوئی پہچان نہ پائے۔
اب میں گمنام رہنا چاہتا ہوں۔میں خانۂ کعبہ کے بالکل سامنے کھڑا تھا۔اللہ کے جلال سے میری وہ ساری دنیاوی دعائیں بھول چکی تھیں۔اللہ کا ڈر و خوف میرے اندرتھا، میرا دل یہ پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ، ”اے میرے مالک میرے رب مجھے معاف کر دے میری توبہ قبول کرلے۔“میری ساری خواہشات دم توڑ گئی تھیں اور اب اس وقت آنکھوں کے سامنے یہ خوبصورت اللہ کا گھر تھا جس کو ایک نظر دیکھنے کے لیے کئی نظریں تڑپتی ہیں۔کئی لوگ اپنے اندر اس کی ایک نظر اور زیارت کی خواہش لیے اس عارضی جہاں سے رخصت ہوجاتے ہیں۔میں اپنے آپ سے یہ کہہ رہا تھا کہ میں کیسے اللہ کے جلال کی تاب لاکر اس کے گھر کو آنکھیں اٹھا کر دیکھوں۔میرے اندر اتنا شدید خوف تھا کہ میں ”یا اللہ رحم!یا اللہ رحم !“کے علاوہ کچھ نہیں بول پایا۔
You have read 12% of آخری سانس تک - Akhiri Sans Tak- Book About Military. The full e-book picks up right where this stopped.