Check out our most recent publications
Daastan e Hayaat- Poetry Book on Feelings
Free sample · no sign-up

Daastan e Hayaat- Poetry Book on Feelings

by Eman Siddiqui

You are reading the first 14% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

14% of the book — free to read

دل نہیں ہے 

 

خاموشی چبھنے لگی ہے

 آواز  برداشت نہیں ہوتی، 

عزرائیل سے خوف زدہ ہیں 

اور زندگی برداشت نہیں ہوتی ،

اندھیرا کوفت میں مبتلا کر دیتا ہے

روشنی بھاتی نہیں ہے، 

خوابوں سے دستبردار ہو گئے ہیں

  نیند ہے کہ آ تی نہیں ہے، 

بولنا چاہتے نہیں ہیں 

سنے کا دل نہیں ہے،

تنہایوں سے عاجز آ گئے ہیں

کسی سے ملنے کا دل نہیں ہے،

جب سے زمین بوس ہو گئے ہیں،

کچھ دوستوں سے دشمنی ہوگئ ہے

کچھ دشمن دوست ہو گئے ہیں، 

کچھ خواب حسین ہیں بہت

ان کی تعبیر سے ڈر لگتا ہے، 

روز ایک خواب دفن ہوتا ہے یہاں

یہ قبرستان ہے دیکھنے میں گھر لگتا ہے،

گر گر کے زخمی ہوگئے ہیں 

سنبھلنے کا دل نہیں ہے، 

خوشیاں رخ موڑے کھڑی ہیں

غم  سے نکلنے کا دل نہیں ہے ،

بچپن تباہ ہو گیا 

روٹھ گئی جوانی ہماری، 

دکھ بتانے میں بھی دکھ ہوتا ہے

مت پوچھ یار کہانی ہماری، 

محبت کے وہ قابل نہیں

نفر ت اس سے ہوتی نہیں ہے، 

ایک کبوتری کے ساتھ خط بھیجا 

صدیاں بیت گئیں وہ جواب لے کر لوٹی نہیں ہے،

دشمن ساتھ چلتے نہیں

دوستوں کے ساتھ چلنے کا دل نہیں ہے،

انسو خشک ہو گئے ہیں ہمارے

  ہنسنے کا دل نہیں ہے، 

 

لوگ دنیا سے ہار کر گھر جاتے ہیں، 

گھر کے مارے ہوئے کدھر جاتے ہیں، 

وہ حقیقت میں سامنے آتا نہیں

ہم اسے خواب میں دیکھ کر ڈر جاتے ہیں، 

یہ عاشق معشوق کے کھیل میں

عاشق اکسر مر جاتے ہیں، 

اپنا آپ سمجھ نہیں آتا

دنیا کو سمجھنے کا دل نہیں ہے، 

مدت ہوئی خود سے ہم کلام ہوئے

خود سے الجھنے کا دل نہیں ہے، 

 

 

نہیں رہا 

 

تیرے خوابوں سے اب میرا واسطہ نہیں رہا،

یعنی وہ جو تیرا تھا تیرا نہیں رہا،

جا تجھ سے اب محبت نہیں رہی

دل کی دنیا کا تو بادشاہ نہیں رہا،

تیرے غم میں وہ شدت نہیں رہی

تیری محبت میں وہ مزہ نہیں رہا،

وہ جو تیرے گلے لگا کر رونا چاہتا  تھا 

آنکھ بھی وہ تجھ سے ملا نہیں رہا، 

جا میں نے تجھے بے دخل کر دیا

جا میری محبت میں تیرا حصہ نہیں رہا،

 

 

واقف نہیں ہے 

میری وحشتوں سے یہ جہاں واقف نہیں ہے،

وہ جو ہمدرد ہیں میرا  وہ بھی پوری طرح واقف نہیں ہے،

 یہ سمندر نہیں جانتا سیرابی میری

میری رفتار سے یہ ہوا واقف نہیں ہے،

 میرے انسوؤں کے بارے بارش کو معلوم نہیں ہے

میرے سرخ انکھوں سے قوس قزح  واقف نہیں ہے، 

 

میری وحشتوں سے یہ جہاں واقف نہیں ہے، 

جو ہمدرد ہے میرا وہ بھی پوری طرح واقف نہیں ہے،

 

 

رویا

 

  اس کی ایک بات پہ میں زار زار رویا،

خدا حافظ کہنے پہ مسکرایا 

پھر ملیں گے پر بے شمار رویا،

ایک چٹکلے پر بارہا ہنسی نہیں ائی 

ایک غم پہ مگر بار بار رویا،

 

 

نافرمان 

 

تو بھی زندگی سے بدگمان ہے کیا،

اپنے آپ سے پریشان ہے کیا، 

تیرا بھی یاروں میں دل نہیں لگتا 

تیرا بھی یار نافرمان ہے کیا،

 

 

تنہائی

 

جب اپنوں کے واسطے نظر دوڑائی ،

نظر ہر بار خالی ہاتھ لوٹ آئی،

قصہ دن بھر کا سنایا خود کو 

اور اپنی چاہت بھی بتائی،

دیکھنا بڑا مجموعہ اکھٹا ہوگا اس دن 

جس دن مار ڈالے گی مجھے یہ تنہائی،

 

 

نہ گئی

 

آنکھ تک اس سے ملائی نہ گئی، 

بات دل کی بھی بتائی نہ گئی، 

اس نے قبضہ کر لیا خوابوں پر 

تصویر اس کی آنکھوں سے مٹائی نہ گئی،

 

 

نہیں مرتا

 

 ائے جانے جگر تجھے کچھ ہے خبر،

وہ جو یاد کرتا تھا تجھے شاموں سہر، 

اب وہ تیری بات بھی نہیں کرتا،

وہ تیرے بچھڑ جانے سے نہیں ڈرتا،

وہ جو مرتا تھا تیری مسکان پر 

اب وہ تیرے انسو دیکھ کر بھی نہیں مرتا،

 

کچی عمر ،پکے غم 

 

 کوئی پوچھے جو ہم سے حال ہمارا

ہم جان چھڑانے کو سب ٹھیک بتا دیتے ہیں، 

کچی عمر کے دیکھے ہوئے پکے غم

بینائی گھٹا دیتے ہیں، 

بچپن میں سنی ہوئی تیز آوازیں 

سماعتوں پہ قہر بن کے اترتی ہیں، 

ہم ایسی نسل سے ہیں جو کہ 

شادیوں سے ڈرتی ہے، 

ہم جو روشنی دیکھیں کبھی 

اندھیروں کا خیال آتا ہے، 

ہمارے ذہنوں میں خواہشاتِ عروج سے پہلے 

خوفے زوال آتا ہے،

آج بھی عید کے دن سے خوف آتا ہے 

آج بھی تیز آوازیں ہمیں ڈرا دیتیں ہیں،

والدین کے درمیان دوریاں 

بچوں کو پستیوں میں گیرا دیتیں ہیں، 

ہم وہ لوگ ہیں جو بچپن 

جبرے مسلسل کی طرح کانٹتے ہیں، 

اور جوانی میں نہ جانے

کس چیز کی سزا کانٹتے ہیں ،

ہم وہ لوگ ہیں جنہیں

خوابوں تک رسائی نہیں ملی،

ہسنے کی وجہ تلاش کرتے رہے 

اور رونے کو تنہائی نہیں ملی،

ایک آرزو ہے کہ کوئی نہ پوچھے کبھی

کہ نمدیدہ کیوں ہیں ،

ایک حسرت کے پوچھ لے کوئی

اتنے بوسیدہ کیوں ہیں،

ہنسی سے آخر بیر ہے کیسا

اس عمر میں اتنے سنجیدہ کیوں ہیں، 

مسکرانے سے آنکھ بھر آتی ہے کیونکر 

کسں بات کا غم ہے رنجیدہ کیوں ہیں،

 

زندگی کی شام 

 

رشتہ بکتے ہیں محبت نیلام ہوتی ہے، 

سرے بازار تماشہ ہوتا ہے الفت بدنام ہوتی ہے، 

موت کا سورج طلوع ہونے پر زندگی کی شام ہوتی ہے،

 

رسمے عداوت 

 

وہ وفادار تھا ہم نے بھی کہا جفا کی تھی،

ہمارے معاملہ میں زمانے نے رسمے عداوت ادا کی تھی،

 

 

That’s the end of the free sample

You have read 14% of Daastan e Hayaat- Poetry Book on Feelings. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Eman Siddiqui earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 500

See all editions, reviews and details

Daastan e Hayaat- Poetry Book on Feelings Buy — Rs 500