Check out our most recent publications
Aiban wala - Urdu and Punjabi Poetry Book
Free sample · no sign-up

Aiban wala - Urdu and Punjabi Poetry Book

by Imran Khan

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

 

Poem 1

نظم تحریر عمران خان

تیری گلیوں پے نثار اے شہر مدینہ
کہ تجھ پر برسے ابر بار بار اے شہر مدینہ
تو ہے آنکھوں کی ٹھنڈک اے شہر مدینہ
تو ہے دل کی نماز اے شہر مدینہ
تیری مٹی میں شفا ہے اے شہر مدینہ
تیری مسرور فضا ہے اے شہر مدینہ
تیری راتیں اور دن اے شہر مدینہ
تجھ پے قرباں انس و جن اے شہر مدینہ
تیری مٹی سے مہک آتی ہے انﷺ کی اے شہر مدینہ
دل کی جبیں پھر مسکراتی ہے اے شہر مدینہ
کبھی تجھ پے آقاﷺکہ قدم تھے اے شہر مدینہ
کبھی تجھ پے کھیلتے حسین رضہ اور حسن رضہ تھے اے شہر مدینہ
کبھی تجھ پے موجود تھے ابوبکر عمر عثمان اور علی رضہ اے شہر مدینہ
کبھی تجھ پے موجود تھے آل نبی ﷺ اے شہر مدینہ
تو ہے دلوں کا سہارا اے شہر مدینہ
تو ہے آنکھوں کا تارہ اے شہر مدینہ
تجھ پے کیا میں لکھوں اے شہر مدینہ
تجھ پے قربان تن من دھن اے شہر مدینہ
تیری گلیوں پے نثار اے شہر مدینہ
کہ تجھ پر برسے ابر بار بار اے شہر مدینہ


Poem 2

نظم تحریر عمران خان
جب من کا آنگن پیاسہ ہو
جب خالی دل کا کاسہ ہو
جب روح میں بھی اداسی ہو
اور روح کی زمیں پیاسی ہو
جب آگ لگی ہو ہستی میں
ہر کوئی گم ہو مستی میں
جب تن من سارا جل جائے
دنیا سے آخر ٹھن جائے
جب پاس نہ کوئی اپنا ہو
آنکھوں میں نہ کوئی سپنا ہو
جب  چڑیاں ساری چھپ جائیں
نہ گیت خوشی کے گنگنائیں
ایسے میں جب برسات ہو
اور کالے بادل چھا جائیں
بارش کے قطرے برسائیں
تو آنکھوں کے آنسو چھپ جائیں
اور باتیں سب پرانی دہرائیں

Poem 3

نظم تحریر عمران خان
عقل والے، دل والوں سے نہ جیتیں گے بازی
کہ دل والوں کو ہرانے میں بڑا وقت لگے گا
سولاتے ہیں قوموں کو کہ جاگ نہ جائیں
قوموں  کو جگانے میں بڑا وقت لگے گا
بدلتے ہیں اوروں کو اور خود کو ہیں بھولے
اپنے من میں اترنے میں بڑا وقت لگے گا
نفسا نفسی کا ہے عالم ہر کوئی خود میں گم 
اس دنیا کو سمبھلنے میں بڑا وقت لگے گا
دل کا آئینہ ہے ٹوٹا کہ ابھی اس میں نہ دیکھو
ان کرچیوں کو جڑنے میں بڑا وقت لگے گا
اک تمنا ہے کہ ہر طرف پھول ہوں گلشن میں
پر پھولوں کو کھلنے میں بڑا وقت لگے گا
سنگدل ہیں ایسے کہ مرتے کو نہ پوچھیں
دلوں کو پگھلنے میں بڑا وقت لگے گا
تایکیوں کے مسافر ہیں صبح کو کیا جانیں 
سورج کے نکلنے میں بڑا وقت لگے گا
تیرے اشعار کو سمجھیں گے تیرے بعد عمران
تیرے لفظوں کو زباں بننے میں بڑا وقت لگے گا
Poem 4

حمد
تحریر عمران خان
یہ آسمان زمین چاند ستارے
دیکھو ہیں یہ کتنے پیارے
کیا خوب وہ بنانے والا
اک سے بڑھ کر اک نظارے
چرند پرند ہوا اور پانی
اسی نے بنائی یہ زندگانی
کیا خوب وہ بنانے والا
بچپن بڑھاپا اور جوانی
ہر چیز میں نظارے اس کے
ہر شہ میں اشارے اس کے
کیا خوب وہ بنانے والا
قران کے سب پارے اس کے
کیا خوب اس کی شان ہے
وہ تو رب رحمان ہے
کیا خوب وہ بنانے والا
اسی نے اتارا قرآن ہے
یہ چہرے کتنے پیارے ہیں
 جھوٹے سب سہارے ہیں
کیا خوب وہ بنانے والا
جیسے چاند ستارے ہیں
یہ آنکھیں کتنی پیاری ہیں
یہ جو ساری کی ساری ہیں
کیا خوب وہ بنانے والا
جس نے یہ سب سنواری ہیں
یہ آسمان زمین چاند ستارے
دیکھو ہیں یہ کتنے پیارے
کیا خوب وہ بنانے والا
اک سے بڑھ کر اک نظارے


Poem 5

نظم تحریر عمران خان
خود کرتے ہیں ستم اور خود ہی روتے ہیں
ہم کو کیا بتائیں گے یہ الجھانے والے
ہم نے نہ اوروں کے عیبوں کی نمائش کی
وہ کیا جانیں جو ہیں دلوں کو دکھانے والے
ہم نے تو سیکھا نہیں دل کو دکھانا
نہ ہم نے کبھی توڑے پھول جو ہیں مرجھانے والے
کبھی اے دنیا تو بھی زخم دیکھ ہمارے
وہ کیا جانیں جو ہیں زخموں پے نمک لگانے والے
چار آنسو پونچھے ہی ہوں گے کسی غم کے مارے کے
وہ کیا جانیں جو ہیں لوگوں کو رولانے والے
جواب تو دیتے ہم بھی جو دل میں رکھتے
وہ کیا جانیں جو ہیں دل کو جلانے والے
بے عیب جو خود ہو وہ بتائے ہم کو
ہمیں سمجھیں گے ہمارے بعد یہ زمانے والے
خود کرتے ہیں ستم اور خود ہی روتے ہیں
ہم کو کیا بتائیں گے یہ الجھانے والے

Poem 6

نظم تحریر عمران خان
یہ دنیا بڑی رنگین ہے
خوبصورت ہے حسین ہے
بے گناہ ہے ماہ جبین ہے
مسکراتی ہے،  نہیں غمگین ہے
دیکھ اک معصوم کی آنکھ سے
اس دنیا میں ہریالی ہے
نہیں رت یہاں پے کالی ہے
یہاں آنکھوں میں نہ لالی ہے
یہاں ہر باغ کا اک مالی ہے
دیکھ اک معصوم کی آنکھ سے
ابھی آنکھ میں نے کھولی ہے
یہاں رنگوں کی ہولی ہے
یہاں خوشیوں کی نہ بولی ہے
نہ خون  ہے نہ گولی ہے
دیکھ اک معصوم کی آنکھ سے
بڑوں کا ابھی سایہ ہے
جس نے مجھے یہ سکھایا ہے
پیار دیا اور پایا ہے
پیسہ بھی بس مایا ہے
دیکھ اک معصوم کی آنکھ سے
ابھی مجھے اس دنیا میں نکلنا ہے
آگے سے آگے بڑھنا ہے
کبھی نہ کسی سے ہرنا ہے
رفتار میں اس کی چلنا ہے
دیکھ اک معصوم کی آنکھ سے

Poem 7

نظم تحریر عمران خان
ہم کانچ اٹھانے والے ہیں
ہم اشک بہانے والے ہیں ۔۔۔۔
ہم کو یوں الزام نہ دو
مجرم نہ کہو
یہ نام نہ دو
ہم مڑ کر نہیں آنے والے ہیں
ہم کانچ اٹھانے والے ہیں
ہم اشک بہانے والے ہیں
جب چاہا اپنا بنا لیا
جب چاہے ہم کو ٹھکرا دیا
جب چاہا گلے لگا لیا
جب چایا دور ہٹا دیا
ہم جھوٹ نہیں سہنے والے ہیں
ہم مڑ کر نہیں آنے والے ہیں
ہم کانچ اٹھانے والے ہیں
ہم اشک بہانے والے ہیں
یہ دنیا تو فریبی ہے
نہ کوئی کسی کا قریبی ہے
کوئی کسی کا نہ دردی ہے
ہر ساتھ یہاں سر دردی ہے
یہاں دن میں بھی اندھیرا
دور یہاں سویرا ہے
ہم صبح کے چاہنے والے ہیں
ہم مڑ کر نہیں آنے والے ہیں
ہم کانچ اٹھانے والے ہیں
ہم اشک بہانے والے ہیں

Poem 8

نعت تحریر عمران خان
ان گلیوں کی قسم ہے جہاں محبوب کے قدم تھے
ہمیں مدینہ ہے ایسا جیسے آنکھوں کا تارہ
دل کی درھکنیں ہم سے یہ ہیں کہتیں
کہ آنکھیں اب نہیں سہتیں
دور اب یہ رہنا
اے صبا جا کے ان سے کہنا
کہ سلام  سب ہیں کہتے
آپ دلوں میں ہیں رہتے
 مدینہ وہ ہمارا دلوں کا سہارا 
جہاں برستے ہیں ابر جہاں کھلتے ہیں ثمر
جہاں جالی کا ہے نظارا جہاں محبوب ہے ہمارا
جہاں گنبد خضرا ہے جہاں رحمان کی اماں ہے
جہاں حلاوت ہے ایمان کی
جہاں چاہت ہے قرآن کی
ان گلیوں کی قسم ہے جہاں محبوب کے قدم تھے
ہمیں مدینہ ہے ایسا جیسے آنکھوں کا تارہ
جہاں برستے ہیں ابر جہاں کھلتے ہیں ثمر
جہاں جالی کا ہے نظارا جہاں محبوب ہے ہمارا

Poem 9

تحریر عمران خان
ایس دنیا نوں دس میں کی آکھاں۔۔۔
کتاباں پڑھدیاں جان گسائی
سچ جھوٹ دی سمجھ نہ آئی
نفس اپنے نال لڑدا رہندہ
اندر دا شیطان کدی نہ بیندا
دنیا تے دنیا دیاں گلاں
انہاں تو بہتر لنگاواں کلاں
روز صبح اک نویں تیاری
کدی دنیا دی تیز کلھاڑی
کدی شیطان دی  چیردی آری
رحمت اودھی دا سہارا مینوں
اوس دی رحمت ہی تاریا مینوں
نہ عملاں تے مان مینوں
اچھا اودھے توں گمان مینوں
نفس اپنے تو لڑدا چنگا
دنیا تو نہ ڈردا چنگا
کیتا میں سب رب دے ہوالے
اپنا جوین تے بادل کالے
دور کرے گا او اندھیرے
چھا جان گے ہر طرف اجالے

Poem 10

دعا تحریر عمران خان
کبھی اس نےتیرے در کے سجدے بھی کیے ہیں
یہ جبیں بھی جہکی ہے تعنے بھی پیے ہیں
کبھی ہجر اسود کے بوسے بھی لیے ہیں
کبھی صفا و مروہ کے چکر بھی لیے ہیں
یہ آنکھ کبھی محبت میں نم بھی ہوئی ہے
یہ پیشانی تیرے آگے کبھی خم بھی ہوئی ہے
اس دل میں کبھی تیری چاہت بھی بسی ہے
جس سے دل ہو  بینا وہ راحت بھی بسی ہے
یہ دل کبھی یاد سے تیری معمور بھی رہا ہے
یہ دل کبھی تیری چاہت سے پرنور بھی  رہا ہے
ان ناچیز نے کبھی جالی کا سہارا بھی لیا ہے
کبھی اس نے سادگی سے گزارہ بھی کیا ہے
اس انگلی نے کبھی نماز میں اشارا بھی کیا ہے
ان آنکھوں نے تیرے محبوب کی گلیوں کا نظارا بھی کیا ہے
اس نے کبھی تیرے ہرفوں کی توقیر لکھی ہے
اس نے کبھی تیری رحمت دلگیر لکھی ہے
کبھی اس نے بھی الفت میں تیرا نام لیا ہے
کبھی اس نے تیری مغفرت کا پیغام دیا ہے
اس نے کبھی تیری رحمت کا گن  ہے گایا
اس نے بھی کبھی تیری چاہت کا راگ  ہے گنگنایا
اس کو تیرے در سے امید ہے ایسی
تیری شان ہے جیسی تیری ذات ہے جیسی
سوالی یہ تیرے در کا کرتا ہے یہ دعا
دم آخر بھرم رکھنا یہ ہے التجا

Poem 11

نظم تحریر عمران خان
درد مند دل نہ ہو تو مہراب بھی بس اک نشاں ہے
مومن کے اندر تو موجود اک اور جہاں ہے
خاکی ہے وہ پر اس کے ارادے ہیں افلاکی
مال و زر اس کے لیے تجارت زیاں ہے
دنیا اس کے لیے عارضی مکاں ہے
دل اس کا آئینہ ہے جس پے ہر عکس بیاں ہے
الفاظ ہیں اسکے جیسے لفظوں کی آذاں ہے
گفتار ہے اسکی کہ ایسی گفتار کہاں ہے
عملوں میں اس کے کردار عیاں ہے
درد مند دل نہ ہو تو مہراب بھی بس اک نشاں ہے
مومن کے اندر تو موجود اک اور جہاں ہے
گفتار ہے اسکی کہ ایسی گفتار کہاں ہے
عملوں میں اس کے کردار عیاں ہے

Poem 12

نظم تحریر عمران خان
سکھ دکھ دی ایس نگری وچ جھتے کون کسے سمجھاوے
ایس دنیا وچ توں ایں مسافر کہ سورج ڈھلدا جاوے
جیندے جی چین نہیں آنا تو ٹردا ٹردا جاوے
دوڑ دوڑ کے تھکنہ ناہیں کہ بندہ مکدا مکدا جاوے
سہارے کی لبنا اے ایتھے ہر کوئی  کسے نوں رواوے
دل دا محرم کوئی نہ ملے ایتھے کون کسے بہلاوے
بچپن لنگے جوانی لنگے تے مٹی ول ڈلدا جاوے
سایہ وی ساتھ نہ روے کہ توں کلا آوے تے کلا جاوے
آج او ٹر گیا آج اے ٹر گیا دنیا اے ہی سکھلاوے
تیرے ٹر جان نال وی کجھ نہیں رکنا دنیا اے بتلاوے
نیکی کریں کہ نیکی تینوں جنت تک پہنچاوے
بدی دا دامن تو نہ پھڑیں کہ اے دوزخ تک لے جاوے
سکھ دکھ دی ایس نگری وچ جھتے کون کسے سمجھاوے
ایس دنیا وچ توں ایں مسافر کہ سورج ڈھلدا جاوے

Poem 13

نظم تحریر عمران خان
میری بات دل میں تب اترے گی
جب آنکھوں سے نیل بہائو گے
یہ وقت  کہ بیت ہی جانا ہے
میرے بعد کس کو رولائو گے
ہر رت نے میت ہی جانا ہے
میرے بعد کس کو ستائو گے
بندھن یہ دکھ اور غم کا
میرے بعد کس کو سنائو گے
یہ آنکھ مچولی خوشیوں کی
میرے بعد کیسے بھولائو گے
دور سفر پے جا کے
میرے بعد کیسے لوٹ آئو گے
وہ پیار والا گیت تم
میرے بعد کیسے گنگنائو گے
میری بات دل میں تب اترے گی
جب آنکھوں سے نیل بہائو گے
میری بات دل میں تب اترے گی
جب آنکھوں سے نیل بہائو گے

Poem 14

نظم تحریر عمران خان
روح تک جو اترے کیا یہ وہ وعظ تو نہیں
یہ دل رو رہا ہے کوئی ساز تو نہیں
ہو نہ غم اگر موجود تو دل میں گداز تو نہیں
کہتو لوں گا پھر پر وہ الفاظ تو نہیں
میں نے فقط جانا کہ کوئی  ممتاز تو نہیں
جو انسان کو نہ بدلے وہ نماز تو نہیں
ہم جی رہے ہیں ایسے کہ بے نیاز تو نہیں
خاک پر ہیں رہتے کوئی باز تو نہیں
بات مختصر ہے تجھ سے کوئی محاز تو نہیں
ہے یہ زبان زد عام کوئی راز تو نہیں
ہو نہ غم اگر موجود تو دل میں گداز تو نہیں
کہتو لوں گا پھر پر وہ الفاظ تو نہیں
میں نے فقط جانا کہ کوئی  ممتاز تو نہیں
جو انسان کو نہ بدلے وہ نماز تو نہیں

Poem 15

نظم تحریر عمران خان
دل دریا ہے تو سمندر میں اتارا جائے
زباں سے تکبیر کا نعرہ پکارہ جائے
اپنے دعائوں کو لفظوں میں اتارا جائے
ہم نے سیکھا ہے کہ صرف اللہ کو پکارا جائے
تو تو سمجھا ہی نہیں یہ روشنی کیا ہے
دیکھو کہ آسماں سے گرتا ستارہ جائے
پھر یہ درد  دل  چاہے ہے کہ وارہ جائے
دل کیا چیز ہے چاہے جان سے ہارا جائے
تم کو معلوم ہے کیسے دل میں اتارہ جائے
لفظ موم ہوں تو ہی دل تک کنارہ جائے
دل دریا ہے تو سمندر میں اتارا جائے
زباں سے تکبیر کا نعرہ پکارا جائے
اپنے دعائوں کو لفظوں میں اتارا جائے
ہم نے سیکھا ہے کہ صرف اللہ کو پکارا جائے

Poem 16

نظم تحریر عمران خان
قیصر و کسرا کے درباروں میں کبھی تھا یہ زبان زدے عام
سینوں میں ایماں ہیں جن کے وہ نہیں بندائے عام
مشکل میں بھی جس نے تھاما تھا اللہ کا نام
ان پے آج ناداری ہے جن کے ہونے سے تھا جہاں اک مکان
فقر کا دامن جو چھوٹا ہے یہ ہے تحزیب مغرب کا انعام
سکندری جو ہاتھ سے گئی پیا ہے جو عیش و عشرت کا جام
عشق و قلندری سی کبھی تھا  تیرا وہ مقام
تیرے مقابل اہل روما بھی جانتے تھے اپنا انجام
تیرا مقصد تھا کبھی کہ باقی رہے رب کا نام
بھولا ہے اپنے مقصد کو جو کبھی کیا تھا تو نے کام
مت پوچھ کہ دنیا میں مسلم کی پہچان
بر لب مرگ مسکان دنیا والوں کے لیے یہی پیغام

Poem 17

نظم تحریر عمران خان
ذکر میں تیرے ذکر حجاز ہے
وہ تو آنکھوں کی ٹھنڈک ہے نماز ہے
یہ جو روح اور جسم کا محاز ہے
اس کے لیے لازم  فکر نماز ہے
یہ جو تیرے دل کا گداز ہے
روح میں جو تیری تڑپ ہے
اشعار میں جو ایجاز ہے
یہ تو بس اس کی عطا ہے
نہ تیرے پاس کچھ ایسا ہے
کہ جس پے تجھ کو ناز ہے
درد جو رکھے گا غریبوں کا
پھر تو دل تیرا فیاض ہے
روز محشر اس گناگار پر نظر کرم کرنا
کہ عمران کا ادنا سا بس یہی وعظ ہے
آقا سے ہو نسبت اس کی
ہے اس سے بڑھ کر اور کیا
یہی تو اصل امتیاز  ہے
ذکر میں تیرے ذکر حجاز ہے
وہ تو آنکھوں کی ٹھنڈک ہے نماز ہے
روز محشر اس گناگار پر نظر کرم کرنا
کہ عمران کا ادنا سا بس یہی وعظ ہے

Poem 18

نظم تحریر عمران خان
کوئی دنیا تے حقیر نہیں
ہر اک نوں بنایا اوس ہسیں
او سب نوں بناون والا
سب نوں او کھلاون والا
موت حیاتی اودھے ہتھ
اونے ہی بنائے آسمان ست
سجدہ کرن دے لائق او
بے نیاز تے واحد او
سب تو آگے رحیم او
مالک تے متین او
ماں توں زیادہ پیار اودھا
اے زمین آسمان تے سنسار اودھا
دنیا وچے رولیا کیوں
جین دا مقصد بلھیا توں
رب نوں منان دا ول نہ آیا
اودھی رحمت تے کرم دا سایہ
سب نوں توں رو رو منایا
بس اونو توں دل وچ نہ بسایا
مڑ جا کہ سدا نہیں رہنا
اودھی رحمت دا کی اے کہنا
اچھا اودھے تے گمان کریں
عملاں تے نہ مان کریں
گناواں تے پشیمان جے ہوے
رحمت اودھی تے مان تے ہوے
فیر تے بیڑا تر جانا اے
رب نے فیر تے من جانا اے

Poem 19

نظم تحریر  عمران خان
کچھ اور جو ٹھرتا اے چار دن کے مہمان
مہینے ہیں اور بھی کوئی تجھ سی نہیں شان
دیکھتے ہی دیکھتے چلا گیا رمضان
مہینے ہیں اور بھی کوئی تجھ سی نہیں شان
یہ نور کی بارش یہ رحمتوں کا پیغام
مہینے ہیں اور بھی کوئی تجھ سی نہیں شان
صبر اور صلاح کو تھامے ہے مسلمان
مہینے ہیں اور بھی کوئی تجھ سی نہیں شان
ہر اک جھانکے ہے خود اپنا گریباں
مہینے ہیں اور بھی کوئی تجھ سی نہیں شان
یہی وہ مہینہ ہے جس میں اترا تھا قرآن
مہینے ہیں اور بھی کوئی تجھ سی نہیں شان
اس کی رحمتوں کے شکر کا ہے یہ امتحان
مہینے ہیں اور بھی کوئی تجھ سی نہیں شان
بات مختصر اور کیا کروں بیان
مہینے ہیں اور بھی کوئی تجھ سی نہیں شان
مہینے ہیں اور بھی کوئی تجھ سی نہیں شان
کچھ اور جو ٹھرتا اے چار دن کے مہمان
مہینے ہیں اور بھی کوئی تجھ سی نہیں شان

Poem 20

نظم تحریر عمران خان
یہ زخم جو زہر میں سلگایا جائے گا
خون کی اس ندی کو جو بہایہ جائے گا
تلاش کرو تو خود میں موجود ہے ہر راز
سب باطلوں سے کہ دو سفینہ ڈبایا نہ جائے گا
جیتوں ہوئوں کو ایسے جب ہرایا جائے گا
اس آگ کی تپش کو بڑھایا جائے گا
دلوں سے پھر سکینہ جو اٹھایا جائے گا
ان آنکھوں کا نگینہ جو مٹایا جائے گا
لاچاروں سے کہ دو کہ نہ غم کریں
بن بادلوں کہ مینہ برسایہ جائے گا
یہ زخم جو زہر میں سلگایا جائے گا
خون کی اس ندی کو جو بہایہ جائے گا
تلاش کرو تو خود میں موجود ہے ہر راز
سب باطلوں سے کہ دو سفینہ ڈبایا نہ جائے گا

Poem 21

نعت رسول مقبول صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم
تحریر عمران خان
جتنی مخلوق ہے جتنے وجود ہیں
اتنے درود آپ پر
جتنی پیشانیاں ہیں جتنے سجود ہیں
اتنے درود آپ پر
جتنے تارے ہیں جو سب موجود ہیں
اتنے درود آپ پر
جتنے بچے ہیں جو نامولود  ہیں
اتنے درود آپ پر
جتنی خوشبو ہیں نہ جن کی حدود ہے
اتنے درود آپ پر
جتنی خوشیاں ہیں جو لا محدود ہیں
اتنے درود آپ پر
جتنی غلام ہیں سب سربسجود ہیں
اتنے درود آپ پر
جتنی مخلوق ہے جتنے وجود ہیں
اتنے درود آپ پر
جتنی پیشانیاں ہیں جتنے سجود ہیں
اتنے درود آپ پر
صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم 

Poem 22

نظم تحریر عمران خان
چٹے وال سیاہ نہیں ہوندے
پھاویں لکھ خوراکاں کھائیے
لنگیا وقت مڑ نہیں آندا
پھاویں لکھ اتھرو بہائیے
رب دا دینا دے نہیں سکدے
پھاویں لکھ سجدے کمائیے
پتل سونا ہو نہیں سکدا
پھاویں لکھ واری چمکائیے
مالی بوٹا اوگا نہیں سکدا
پھاویں لکھ بیج دبائیے
مریا ہویا آ نہیں سکدا
پھاویں لکھ نیل بہائیے
چٹے وال سیاہ نہیں ہوندے
پھاویں لکھ خوراکاں کھائیے


Poem 23

نظم تحریر عمران خان
نہ شہروں کی نہ گائوں کی
نہ رتوں کی نہ ہوائوں کی
نہ دکھوں کی نہ آہوں کی
بس دھوپ کی ہے اور چھائوں کی
اس شفقت کی ہے اور ان دعائوں کی
نہ ثوابوں کی نہ گناہوں کی
نہ فقیروں کی نہ گداہوں کی
نہ سورج کی نہ شعائوں کی 
بس دھوپ کی ہے اور چھائوں کی
اس شفقت کی ہے اور ان دعائوں کی
نہ کشتی کی نہ ملاہوں کی
نہ امیروں کی نہ بادشاہوں کی
نہ محبت کی نہ جفائوں کی
بس دھوپ کی ہے اور چھائوں کی
اس شفقت کی ہے اور ان دعائوں کی
نہ شہروں کی نہ گائوں کی
نہ رتوں کی نہ ہوائوں کی
نہ دکھوں کی نہ آہوں کی
بس دھوپ کی ہے اور چھائوں کی
اس شفقت کی ہے اور ان دعائوں کی

Poem 24

نظم تحریر عمران خان
لبدا ریا مسیت تے مندر
کدی اپنے من وچ وڑیا ای نہیں
ڈردا ریا دنیا توں ہر دیہاڑے
کدی رب اپنے توں ڈریا ای نہیں
مال تے اولاد نے دوڑ لوائی
کدی نفس اپنے نوں گڑھیا ای نہیں
سڑدا ریا دھوپ وچ جگ دی
کدی گناہوں نوں اپنے چھڑیا ای نہیں
رب نوں توں بھولائی بیٹھا
کدی یاد اودھی وچ ہریا ای نہیں 
عمران اونوں کی اے لبنا
جیڑا سچی گل تے اڑیا ای ہے

Poem 25

نظم تحریر عمران خان
شاید کے دل میں اتر جائے میری بات
کہ مجھ سے یہ درد اب نکالا نہیں جاتا
جس قوم میں خودی نہ  ہو جلوہ گر
اس سے اپنا آپ بھی سنبھالا نہیں جاتا
گرداب میں سفینہ ہو اور ساحل ہو دور
ایسے میں بحر کو ٹالا نہیں جاتا
ایک چراغ ہی کافی ہے روشنی کے لیے
کون کہتا ہے کہ اندھیرے میں اجالا نہیں جاتا
غربت ہو جہاں اور جو مفلسی  پر ہوں رضامند
ان غریبوں کی بستی سے  کبھی جالا نہیں جاتا
جب تک نہ دل بے تاب میں ہو گا اضطراب پیدا
تب تک تو دل سے رنگ کالا نہیں جاتا
شاید کے دل میں اتر جائے میری بات
کہ مجھ سے یہ درد اب نکالا نہیں جاتا
جس قوم میں خودی نہ  ہو جلوہ گر
اس سے اپنا آپ بھی سنبھالا نہیں جاتا

Poem 26

نظم تحریر عمران خان
عقل دانائی ہے عشق طوفان ہے
رب کی اس دنیا میں دونوں کا امتحان ہے
عشق کی مستی میں عقل کا کام نہیں
عشق آگ ہے کوئی جھلکتا جام نہیں
عقل والے دنیا میں پریشان رہے
عشق والے تیری دنیا میں ذیشان رہے
مفاد عقل کو ہر دم مطلوب رہا
جب جب عشق عقل کے ہاتھوں مغلوب رہا
عقل والوں میں دل والے بھی ہیں
کئی دانا بھی ہیں کئی دل کے کالے بھی ہیں
عقل دانائی ہے عشق طوفان ہے
رب کی اس دنیا میں دونوں کا امتحان ہے
عشق کی مستی میں عقل کا کام نہیں
عشق آگ ہے کوئی جھلکتا جام نہیں

Poem 27

نظم تحریر عمران خان
ابھی جینا کب سیکھا ہم نے
ابھی تو بادل برسیں گے
ہم نہ کبھی پھر ترسیں گے
ابھی رت ساون کی آئے گی
میرے من میں جو سمائے گی
کچھ راحتیں بھی ضروری ہیں
کچھ باتیں ابھی ادھوری ہیں
ابھی روٹھوں کو منانا ہے
ابھی دل سے دل ملانا ہے
ابھی گرتوں کو اٹھانا ہے
ابھی روتوں کو ہنسانا ہے
ابھی سب کو پاس بلانا ہے
جینے کے لیے یہ ضروری ہیں
کچھ باتیں ابھی ادھوری ہیں
بوڑھوں کا سہارا بننا ہے
بچوں سے پیار کرنا ہے
بچوں کو آگے بڑھنا ہے
مشکل سے نہیں ڈرنا ہے
ہم نے یہ سب کرنا ہے
یہ سانسیں بھی ضروری ہیں
کچھ باتیں ابھی ادھوری ہیں
ابھی جینا کب سیکھا ہم نے
ابھی تو بادل برسیں گے
ہم نہ کبھی پھر ترسیں گے
ابھی رت ساون کی آئے گی
میرے من میں جو سمائے گی
کچھ راحتیں بھی ضروری ہیں
کچھ باتیں ابھی ادھوری ہیں

Poem 28

نظم تحریر عمران خان
سکھ دکھ دا وی مل لاندے نے
لوکی جلدی بھہل جاندے نے
جیندے جی وی رل جاندے نے
لوکی جلدی بھہل جاندے نے
کئی آئے تے کئی گئے
اوچیاں اوچیاں شاناں والے
وڑے وڑے مکاناں والے
پیار دا وی مل لاندے نے
لوکی جلدی بھہل جاندے نے
ایس دنیا وچ جینا اوکھا
ساتھ سب دا نبھانا اوکھا
کسے نوں ہتھ تھمانا اوکھا
دولت ولے ڈل جاندے نے
لوکی جلدی بھہل جاندے نے
کوئی کسے دا دردی نہیں
بنا مفاد دے چلدی نہیں
اپنا بنان دی سر دردی نہیں
دنیا وچوں جد اٹھ جاندے نے
لوکی جلدی بھہل جاندے نے
سکھ دکھ دا وی مل لاندے نے
لوکی جلدی بھہل جاندے نے
جیندے جی وی رل جاندے نے
لوکی جلدی بھہل جاندے نے

Poem 29

نظم تحریر عمران خان
اے خاک کے پتلے
تیری توقیر رہے باقی
مرتبہ تو نے پایا ہے ملائک سے اونچا
تو ہے خاک کا پتلا نہیں تجھ سا کوئی دوجا
قرآن ہے رستہ تیرا اور رب تیرا سہارا
جنت تیری منزل ہے اور نہیں تو بے سہارا
ہرکت میں برکت ہے یہی تو نے ہے جانا
رب تیرا واحدہ و لاشریک ہے یہی تو نے مانا
جانا ہے تو نے اس دنیا سے اک دن
نہیں ہے یہ بس اک مسافر خانہ
رستہ جو سیدھا ہو
تو جنت تیرا آشیانہ

Poem 30

نظم تحریر عمران خان
نہ پوچھ میتوں میری ذات
کہ میں آں مٹی میری ذات اے مٹی
لکھاں آئے تے لکھاں گئے
کہندی عقل نمانی
سکھ وچ جی لے دکھ وچ جی لے
اے جندڑی مک ہی جانی
ساہ دی ڈوری دا وسا نہیں کوئی
کد اے ٹٹ جاوے
اک ساہ آوے اک ساہ جاوے
کہ بندہ مٹی ول ٹردا جاوے
کر لے جو وی کرنا اے
کہ فیر موقع نہیں لبنا
جو کیتا اوہی ٹھوہنا
جو بیجیا اوہی بونا
نہ پوچھ میتوں میری ذات
کہ میں آں مٹی میری ذات اے مٹی

Poem 31

نظم تحریر عمران خان
تیری درویشی کو کیا جانے گی یہ دنیا
کہ شاہوں کی شاہی میں بھی ملتی نہیں تجھ سی فقیری
پیسوں کی امیری تو امیری نہیں ہوتی
گداہوں میں بھی مل سکتی ہے دل کی امیری
جرت گر نہ ہو تو تیغ بھی ہے بے سود
کہنے کو یہ ہے پھر بس ہے رسم شبیری
احساس بھرا دل ہو تو بناتا ہے انسان
گر یہ نہیں ہے تو پھر کیسی ہے دلگیری
ہر دل ہے پریشاں ہر آنکھ ہے نم
تو ہی پتا مجھ کو کہاں ڈھونڈوں خاصیت اکسیری
تمنا ہے گر شاہی کی تو کر خدمت فقیروں کی
کہ فقیری میں ہے شاہی کہ فقیری میں جہاں گیری
تیری درویشی کو کیا جانے گی یہ دنیا
کہ شاہوں کی شاہی میں بھی ملتی نہیں تجھ سی فقیری
پیسوں کی امیری تو امیری نہیں ہوتی
گداہوں میں بھی مل سکتی ہے دل کی امیری

Poem 32

نظم تحریر عمران خان
مدینہ کا سفر کرتے ہیں نصیب والے
حاضری وہاں دینا ہے بات نصیب کی
بلاوہ انہیں آتا ہے جنہیں سرکارﷺ بلاتے ہیں
کیا انﷺ کا کہنا اور کیا بات ہے شہر حبیبﷺکی
رحمت کا ہے وہ عالم کہ برستے ہیں ابر
ہر دعا جہاں پوری ہوتی ہے غریب کی
مدینہ  کی ہوائیں اور گنبد خضرا
رحمت برستی ہے وہاں مجیب کی
وہ امت کے غم خار وہ یتیموں کے سہارے
یہ کہتے ہوئے  آگئے آنسو، آنکھوں میں خطیب کی
مدینہ کا سفر کرتے ہیں نصیب والے
حاضری وہاں دینا ہے بات نصیب کی
بلاوہ انہیں آتا ہے جنہیں سرکارﷺ بلاتے ہیں
کیا انﷺ کا کہنا اور کیا بات ہے شہر حبیبﷺ کی

 

Poem 33

نظم تحریر عمران خان
والد کے نام
سال ہوا ہے اس بات کو
لگتا ہے صدیاں بیت گئیں
تیری شفقت کے میں صدقے
بن روئے ہی پلکیں بھیگ گئیں
تیرہ دل تھا ماں سے پیارہ
تیرے پیار کی باتیں جیت گئیں
تیرہ پیار سے وہ دعا دینا
تیرے ساتھ وہ باتیں بیت گئیں
سال ہوا ہے اس بات کو
لگتا ہے صدیاں بیت گئیں
تیری شفقت کے میں صدقے
بن روئے ہی پلکیں بھیگ گئیں
کچھ فکریں اس کو ستاتی تھیں
بچوں کی سوچیں دکھاتی تھیں
جس پیار سے وہ بلاتا تھا
اس پیار کو ہی نبھاتا تھا
ایسا دل اس نے پایا تھا
وہ شفقت کا اک سایا تھا
سال ہوا ہے اس بات کو
لگتا ہے صدیاں بیت گئیں
تیری شفقت کے میں صدقے
بن روئے ہی پلکیں بھیگ گئیں

Poem 34

نظم تحریر عمران خان
گلشن  رہے گا مالی بھی رہے گا
 یہ بس ایک تیرے در کا سوالی ہی رہے گا
دل ٹوٹا ہے پھر کہیں پایا ہے تجھکو
یہ دل اب تیری یاد سے خالی نہ رہے گا
ڈھونڈے گی دنیا کہ یہ حمد ہے کس کی
اک تیرے جیسا کوئی دل میں والی نہ رہے گا
تیری محبت میں پڑھے گا حمد ایسی
یہ بنا اب تو قوالی نہ رہے گا
 بنا تیرے محبوب کے روضے کی جالی نہ رہے گا
بنا آنکھوں کے آنسو اور لالی نہ رہے گا 
گلشن  رہے گا مالی بھی رہے گا
یہ بس ایک تیرے در کا سوالی ہی رہے گا
دل ٹوٹا ہے پھر کہیں پایا ہے تجھکو
یہ دل اب تیری یاد سے خالی نہ رہے گا


Poem 35

حمد باری تعالیٰ
(تحریر عمران خان)
وہ مقیت ہے وہ متین ہے
وہ حکیم ہے وہ حلیم ہے
جس کے آگے جہکتی یہ جبین ہے
وہی میرا رب کریم ہے
وہ قریب ہے نہیں دور ہے
وہ کبیر ہے وہ غفور ہے
یہ جو سب کے دلوں کا جو نور ہے
یہ اس کی چاہت کا سرور ہے
تیری شان کریمی کی حد نہیں
میری گناہوں کی بھی حد نہیں
تیری عطاؤں کی بھی حد نہیں
میری خطاؤں کی بھی حد نہیں
ہے سب اسی کے روبرو
کیا میں اور کیا ہی تو
عزت ذلت آبرو
پھر کیا کیسی گفتگو
جس نے بھلا دیا
خود اپنا آپ گنوا دیا
جس نے اسے پا لیا
ہر شر سے خود کو بچا لیا
سنتا ہے جو ہر دعا
ٹالتا ہے جو ہر بلا
بخشے جو ہر خطا
وہی ہے بس میرا خدا
وہ مقیت ہے وہ متین ہے
وہ حکیم ہے وہ حلیم ہے
جس کے آگے جہکتی یہ جبین ہے
وہی میرا رب کریم ہے

Poem 36

نعت رسول مقبول صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم
تحریر عمران خان
جس سمت سے آتی ہیں مدینے کی ہوائیں
اے کاش کے کبھی وہ رستے میں ہمیں بھی پائیں
جس دل سے آتی ہوں مدینہ کی صدائیں
اے کاش کہ کبھی وہ دہرکن ہم بھی سن پائیں
جس سمت سے گزریں مدینہ کی گھٹائیں
اے کاش کچھ پانی وہ ہم پر بھی برسائیں
جس زباں سے نکلتی ہوں مدینہ میں دعائیں
اے کاش کچھ اس زبان سے ہم بھی سن پائیں
جہاں آکے محبت میں جو آنسو بہائیں
اے کاش کے کہ کچھ آنسو ہمارے بھی پہنچائیں
جہاں ادب کا یہ عالم ہے کہ سب انکھیں بچھائیں
اے کاش کوئی ہمارا بھی نظرانہ پہنچائیں
جہاں بخشش کا عالم ہے کہ مٹتی ہیں خطائیں
اے کاش کے کچھ نفل ہی سہی ہم بھی پڑھ آئیں
جہاں غریبوں اور مسکینوں کو ملتی ہیں پناہیں
اے کاش کہ ہم بھی ان راہوں کو پائیں
جس سمت سے گزریں مدینہ کی گھٹائیں
اے کاش کچھ پانی وہ ہم پر بھی برسائیں
جہاں ادب کا یہ عالم ہے کہ سب انکھیں بچھائیں
اے کاش کوئی ہمارا بھی نظرانہ پہنچائیں
جہاں ادب کا یہ عالم ہے کہ سب انکھیں بچھائیں
اے کاش کوئی ہمارا بھی نظرانہ پہنچائیں

Poem 37

نظم ( تحریر عمران خان)
ملاح اور کشتی
چلا تھا کشتی تو ملاح یہ بولا
مضبوط میری کشتی نہ اسمے کوئی ڈولا
دیکھا جو سمندر نے تو اسکا تن بھی کھولا
کہنے لگا خود سے تو نہ سمجھ مجکو ہولا
سمندر نے جب لہروں سے کشتی کو آن جنجھولا
کشتی جب ڈولی ملاح یہ دل سے بولا
رونے لگا کچھ ایسے پھیلا کے اپنا جھولا
تو ہی بچا مجکو کہ تو ہی ہے میرا مولا
اس درد سے پکارا تو در دحمتوں کا کھولا
اک کن کا منظر تھا ختم ہوا یہ رولا

Poem 38

نظم تحریر عمران خان
لبیا رب نوں مسیت وچ
کدی کعبے تے کدی پریت وچ
ٹوٹے دلاں وچ لبیا سی
نہیں لبدا ہار تے جیت وچ
کی رکھیا ہر اک ریت وچ
او لبدا نہیں صرف مسیت وچ
او وسدا من دی پریت وچ
لبیا رب نوں مسیت وچ
او لبدا نہیں صرف مسیت وچ
او وسدا من دی پریت وچ

Poem 39

نظم تحریر عمران خان
دل تے اے ہی دسدا اے
کہ رب دلاں وچ وسدا اے
دنیا دے کمن گھیرے
کجھ دور نہیں اے سویرے
لبدناں کی اے اپنے ویڑے
او تے پانداں اے دلاں وچ ڈیرے
دل وچ کسے ہور وساویں نہ
اپنے من وچ ڈب جاویں ہاں
ملے گا تینوں اسے ہی تھاں
دل مسجد اے ہے اوس دا مکاں
اودھی یاد تو منہ موڑیں نہ
دل کسے ہور نال جوڑیں نہ
او تے بڑا کریم اے
غفور اے رحیم اے
جیڑا لبے اوسنو پاندا اے
او ماں تو زیادہ چاہندہ اے
دل تے اے ہی دسدا اے
کہ رب دلاں وچ وسدا اے

Poem 40

حمد باری تعالٰی
(تحریر عمران خان)
میری نگاہوں کی پہنچ سے اگے تیری رحمتوں کے سائے
جسے تجھ سا ملا ہو خالق کیوں نہ سجدے میں سر جھکائے
جس کی چاہت ہے کچھ ایسی کہ ماں بھی چاہ نہ پائے
جسے تجھ سا ملا ہو مالک کیوں نہ سجدے میں سر جھکائے
پرکھے تمام ناتے پرکھے تمام بندھن ہر ناتہ اور بندھن یہی کہتا جائے
ایسی وفا ہے کس میں جو ہر مشکل میں ساتھ نبھائے
بھوک بھی ہے کہتی اور زبان بھی یہ فرمائے
جسے تجھ سا ملا ہے رازق اسے بھوک کیوں ڈرائے
جسے اوروں پے مان ہے تو وہ سن لے میری رائے
جسے اوروں پے مان ہے کوئی تجسا ڈھونڈ لائے
تعریف کروں میں کیسے کہ لفظوں سے ہو نہ پائے
جسے تجھ سا ملا ہو خالق کیوں نہ سجدے میں سر جھکائے
جسے تجھ سا ملا ہو مالک کیوں نہ سجدے میں سر جھکائے
جسے تجھ سا ملا ہے رازق اسے بھوک کیوں ڈرائے
سجدے میں سر جہکے اور ذہن بھی یہی دہرائے
میری نگاہوں کی پہنچ سے اگے تیری رحمتوں کے سائے
جسے تجھ سا ملا ہو خالق کیوں نہ سجدے میں سر جھکائے

Poem 41

حمد باری تعالٰی
تحریر عمران خان
چل ڈھونڈ اسے نظاروں میں
دریا کے کناروں میں
پہاڑوں میں آبشاروں میں
پھولوں میں مرغزاروں میں
سورج چاند ستاروں میں
پرندوں کی پکاروں میں
پانی کی جہنکاروں میں
خزائوں میں بہاروں میں
چل ڈھونڈ اسے نظاروں میں
تیرے میرے پیاروں میں
دوستوں میں دلداروں میں
اپنے اپنے یاروں میں
دنیا کے بازاروں میں
دکھوں میں غم خواروں میں
اونچے اونچے پہاڑوں میں
تکبیر کے نعروں میں
چل ڈھونڈ اسے نظاروں میں
ٹوٹے دل کی سب تاروں میں
من کے سب دہاروں میں
جیتوں میں اور ہاروں میں
پانی کی دہاروں میں
قرآن کے سب پاروں میں
سجدوں میں تہجت گزاروں میں
سچوں میں روزے داروں میں
چل ڈھونڈ اسے نظاروں میں
چل ڈھونڈ اسے نظاروں میں

Poem 42

حمد باری تعالیٰ
(تحریر عمران خان)
خطا دا پتلا کی تعریف کرے
کل جہاں دا خالق او
تو میں کی تخلیق کریں
ست آسماناں دا خالق او
بس اودے مہتاج نے سب
نہ کسے در دا طالب او
جو چاہوے او ہوندا اے
اہو جیا غالب او
او رحیم وی اے او کریم وی اے
میرا تیرا رازق او
او ستار وی اے او غفار وی اے
ہر اک شہ دا مالک او
خطا دا پتلا کی تعریف کرے
کل جہاں دا خالق او
تو میں کی تخلیق کریں
ست آسماناں دا خالق او

Poem 43

نظم تحریر عمران خان
دعا
نہیں دور تو مجھ سے قریب ہے
جو لکھا وہ میرا نصیب ہے
تیرا نام بھی تو مجیب ہے
تو ہی سب کا حبیب ہے
میری زندگی اک قرض ہے
انسان تو بس خود غرض ہے
اک بات ہے اک عرض ہے
مجھے اتنی ضرور حیات دے
میری بات میں میری ذات میں
ہر گناہ کو ایسی مات دے
جب پہنچوں میں تیرے پاس تو
نہ دکھ ہو نہ ملال ہو
نہ پھر نعمتوں کا زوال ہو
کچھ ایسا حسن و جمال ہو
میرے روبرو اک کمال ہو
سامنے ربے ذولجلال ہو
کہ دے وہ خود ہی مجھے
مانا کہ تو گناہوں سے چور ہے
کہیں عرش ہے کہیں طور ہے
ہر اک شہ میں میرا ظہور ہے
تیرا دل تو گناہ سے چور ہے
پر میرا نام بھی تو غفور ہے
نہیں دور تو مجھ سے قریب ہے
جو لکھا وہ میرا نصیب ہے
تیرا نام بھی تو مجیب ہے
تو ہی سب کا حبیب ہے

Poem 44

نظم تحریر عمران خان
رکنا تیرہ کام نہیں
جہلکے نہ وہ یہ جام نہیں
جیتے جی آرام نہیں
اک بات ہے یہ پیغام نہیں
معلوم تجھے انجام نہیں
بے نام نہیں بدنام نہیں
سب خاص ہے کچھ بھی عام نہیں
کہنے کو بے دام نہیں
تیری راہ انجانی ہے
تو مٹی اور کچھ پانی ہے
خالق نے تجھ کو تراشہ ہے
نہ تیرا کوئی ثانی ہے
مٹی کا یہ تن تیرا
اوپر سے یہ من تیرہ
تو ایسا خطا کا پتلا ہے
سب کچھ ہے بس دھن تیرا
فطرت میں تیرے شکر نہیں
زیرے زباں اگر ذکر نہیں
فتنہ تیری رگ رگ میں
اسکی بھی تجھ کو فکر نہیں
پلٹے تو انسان کہوں
نہ پلٹے تو شیطان کہوں
سمجھے تو لقمان کہوں
نہ سمجھے تو حیوان کہوں
رکنا تیرہ کام نہیں
جہلکے نہ وہ یہ کام نہیں
جیتے جی آرام نہیں
اک بات ہے یہ پیغام نہیں

Poem 45

نعت رسول مقبول صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم
(تحریر عمران خان)
ان نگاہوں کو جو طلب ہے حسن و جمال کی
پوری نہ ہو سکے تو یہ بات ملال کی
لکھنے والے تو بہت ہیں اور باتیں کمال کی
ڈھونڈوں جو مثل میں بھی جو یہ مجال کی
آپﷺ کی مثل دینے کو پھر آپﷺ کی ہی مثال دی
گہرائی تو بہت ہے میرے سوال کی
بات مختصر پر ہے جلال کی
تعریف کروں میں کیسے آمنہ کے لال کی
ان نگاہوں کو جو طلب ہے حسن و جمال کی
پوری نہ ہو سکے تو یہ بات ملال کی


Poem 46

نظم تحریر عمران خان
چلدا چلدا رک نہ جاویں
اینج سوچاں وچ مک نہ جاویں
راکھا اوہی والی اوہی
غیراں دے آگے جہک نہ جاویں
رزق تے عزت اودھے ہتھ اے
کسے بھہل وچ سکھ نا جاویں
چلدا چلدا رک نہ جاویں
اینج سوچاں وچ مک نہ جاویں

Poem 47

حمد باری تعالٰی
تحریر عمران خان
تیری حمد و ثنا لبوں پے آتی ہے کچھ ایسے
تو نے اتنا ہم کو چاہیا کہ کوئی چاہ نہ پایا
سوالوں کا جواب ڈھونڈا تو جواب یہی آیا
اک ماں سے بھی زیادہ تجھ کو اپنا پایا
ہم گناہگاروں کو کہاں اور پناہ ملتی
کہ اک تیرا ہی تو در راہ میں تھا پایا
رحمت پے تیری ایسی جو کھینچتی ہے ہمکو
ہم نے اسی کے سائے میں ہی ہے سکوں پایا
ودود ہے وہ اور ہے وہ والی، لبوں پے یہی آیا
اے مولا میرے ہم نے نہ تجھ سا کریم پایا
تیری حمد و ثنا لبوں پے آتی ہے کچھ ایسے
تو نے اتنا ہم کو چاہیا کہ کوئی چاہ نہ پایا
رحمت پے تیری ایسی جو کھینچتی ہے ہمکو
ہم نے اسی کے سائے میں ہی ہے سکوں پایا

Poem 48

نظم تحریر عمران خان
پڑھ لے بھاویں لکھ کتاباں پھاویں پھر لے وچ بازاراں
نہیں لبھ نی تینوں او گل جیڑی لبھنی وچ دلداراں
جندڑی او جیڑی شیراں وانگو او جندڑی کی جیڑی مرداراں
عجز نہ چھڈیں چل او بندیا پاویں چڑھدا پھرے پہاڑاں
رب دا کرم نہ ہوے تے فیر پاویں بہ لے وچ سرداراں
دل تیرا پلیت رہنا توں رویں گا جویں مکاراں
ماں پے تیرے صدا نہیں رہنے ویلے لکھ گزاراں
جیندے جی توں کر لے خدمت تے دھو لےاپنے کرداراں
استاد دی مار دا غصہ نہ کریے پاویں پوے سو سو ماراں
جیڑا نہیں سکھیا اس گل نو تے پھردا روے بے کاراں 
پڑھ لے بھاویں لکھ کتاباں پھاویں پھر لے وچ بازاراں
نہیں لبھ نی تینوں او گل جیڑی لبھنی وچ دلداراں

Poem 49

نظم تحریر عمران خان
عیباں والا (حصہ دوم)
وے عیباں والے تو نہ جانے
اودھے رحم دی حد نو نہ پہچانے
عمل تیرے سب چولھے وچ
رحم کرے تے تر جاوے
جو مانگے جو چاہوے
اودے رحم دی حد نو نہ پہچانے
وے عیباں والے تو نہ جانے
جو میہ نو برساندا اے
جو سب گناہ مٹاندا اے
جیڑا تینو مینوں چاہندااے
اودے رحم دی حد نو نہ پہچانے
وے عیباں والے تو نہ جانے
جیڑا ودود اے جیڑا والی اے
جیدا ہر اک بندہ سوالی اے
جدی شان کریمی دی حد نہیں
اودے رحم دی حد نو نہ پہچانے
وے عیباں والے تو نہ جانے
جیڑا چھپاندا اے تیرے عیباں نوں
جیڑا لکوندا اے میرے عیباں نو
عیباں نال وی قبولدا اے اپنے ہر اک بندے نوں
اودے رحم دی حد نو نہ پہچانے
وے عیباں والے تو نہ جانے
وے عیباں والے تو نہ جانے
وے عیباں والے تو نہ جانے
اودے رحم دی حد نو نہ پہچانے
وے عیباں والے تو نہ جانے
۔۔۔

Poem 50

نظم تحریر عمران خان
عیباں والا (حصہ اول)
عیباں والا جاندا اے
اپنے رب نوں پہچاندا اے
جیڑا سدھی راہ دکھاندا اے
جیڑا ہر گناہ مٹاندا اے
جیڑا گناہ نو چھپاندا اے
جیڑا میہ نو برساندا اے
جیڑا پھولاں نو کھلاندا اے
جیڑا تینو مینو چاہندا سے
جیڑا رحیم اے جیڑا کریم اے
جیڑا مالک اے جیڑا متین اے
جیڑا عظیم اے جیڑا علیم اے
جیڑا مجیب اے جیڑا متین اے
جیڑا صبور اے جیڑا شکور اے
جیڑا حلیم اے جیڑا غفور اے
جیڑا ودود اے جیڑا والی اے
جیدا ہر اک بندا سوالی اے
جیدی شان کریمی دی حد نہیں
جیڑا اول اے جیڑا آخر اے
جیڑا واجد اے جیڑا ماجد اے
جیڑا غفار اے, جنوں ہر اک بندے نال پیار اے
عیباں والا جاندا اے
اپنے رب نو پہچاندا اے

Poem 51

نظم تحریر عمران خان
جب راہ ملے کچھ پانے کی
کوئی ایسا قرض چکانےکی
کہیں دور افق پر جانے کی
کچھ دل کا بوجھ گھٹانے کی
کوئی بیتی بات بھلانے کی
کبھی ہسانے کی کبھی رولانے کی
جب راہ ملے کچھ پانے کی
کوئی ایسا قرض چکانےکی
اس بجتی آگ کو سلگانے کی
کہیں باغ میں پھول کھلانے کی
کہیں بن بادل برسانے کی
کبھی روٹھوں کو منانے کی
جب راہ ملے کچھ پانے کی
کوئی ایسا قرض چکانےکی
کبھی خوشبو کو مہکانے کی
کبھی سر سنگیت سنانے کی
کہیں آس کا دیا جلانے کی
کہیں گرتوں کو اٹھانے کی
جب راہ ملے کچھ پانے کی
کوئی ایسا قرض چکانےکی
پیار کی سیج سجانے کی
الفت کا گیت گانے کی
اک بات وہ ہنسانے کی
کہ ہر بات نہیں بتانے کی
جب راہ ملے کچھ پانے کی
کوئی ایسا قرض چکانےکی
جب راہ ملے کچھ پانے کی
کوئی ایسا قرض چکانےکی

Poem 52

نظم تحریر عمران خان
والد کے نام
جا جاندا ویں تے ٹر جا
ساڈے دلاں وچوں تو ٹر نہیں سکدا
تیری دعا دا ہر اک اک ہرف
خدا دی قسم اک پل نہیں بھلدا
رکھے خدا تینوں امان دے وچ
کہ تیرا وچھوڑا ہر پل اے دکھدا
کچھ گلاں ہور وی کرنیاں سن
پل دو پل دا موقع جے ہور ملدا
پھول سکھ کے مرجھا جاندا اے
پر خوشبو اودی ہر اک سنگھدا
تینوں کیتا رب دے ہوالے
کہ سچا بندا کدی نہیں رلدا
انکھاں دے آنسو دیندے نے گواہی
آج دے دور وچ تیرے جیا نہیں لبھدا

Poem 53

نظم تحریر عمران خان
جو کرتے ہیں محبت ہارا نہیں کرتے
شکست کھا کے بھی وہ ڈرنا گوارا نہیں کرتے
دل میں نہیں رکھتے کنارہ نہیں کرتے
جی جی کر کے گزارا نہیں کرتے
کوئی کہے ہم تو تمھارا نہیں کرتے
زخم دے کر لوگوں کو مارا نہیں کرتے
صرف اپنے جیون کو سنوارا نہیں کرتے
دل ٹوٹ جائے پھر بھی دھاڑا نہیں کرتے
جو کرتے ہیں محبت ہارا نہیں کرتے
شکست کھا کے بھی وہ ڈرنا گوارا نہیں کرتے
دل میں نہیں رکھتے کنارہ نہیں کرتے
جی جی کر کے گزارا نہیں کرتے

Poem 54

نظم تحریر عمران خان
حاصل ہے ہم کو وہ جُنوں محبت میں
سوچا ہے اس بار حد سے گزر جائیں گے
تم ڈھونڈو گے ہمیں ہر سمت لیکن
ہم  تیری دنیا ہی چوڑ جائیں گے
الفت کا ترانہ ہم کو سنا پھر سے
ہم ایسے نہیں جو لبوں کو ہلائیں گے
دکھ درد کی تمنا دل میں رکھتے ہیں
پر اس بار ہم تجھ کو بھولائیں گے
جینے نہیں دیتی ہمیں تیری جدائی
پر اس بار ہم سب کچھ دنیا کو بتائیں گے
حاصل ہے ہم کو وہ جُنوں محبت میں
سوچا ہے اس بار حد سے گزر جائیں گے
تم ڈھونڈو گے ہمیں ہر سمت لیکن
ہم تیری دنیا ہی چوڑ جائیں گے

Poem 55

نظم تحریر عمران خان
اہل عشق کے انداز ہیں نرالے
شکر ہے ان میں اور نہیں کوئی  نالے
خودی ہے ان میں اور عاجزی کے پالے
ان کو ایسی عطا ہے ان کو کہتے ہیں سب جیالے
گناہوں پہ توبہ اور نہیں عمل ان کے کالے
یہ تو وہ ہیں جن کے دلوں پے نہیں تالے
تکبر نہیں کرتے اور ہیں یہ سجدوں والے
دشمن ہیں ان کے لیے جیسے تر نوالے
ان پے آشکار ہوتے ہیں دنیا اور دنیا والے
یہ وہ ہیں جن کی آنکھوں پر پڑتے نہیں جالے
کرتیں ہیں یہ سب کچھ اللہ کے ہوالے
ان کے لیے  مشکل نہیں کہ یہ ہیں مشکلوں کے ڈھالے
کہتے ہیں لوگ ان کو کہ یہ ہیں اللہ والے
کھلاتے ہیں یہ اوروں کو کر کر نوالے
اہل عشق کے انداز ہیں نرالے
شکر ہے ان میں اور نہیں کوئی  نالے
گناہوں پہ توبہ اور نہیں عمل ان کے کالے
یہ تو وہ ہیں جن کے دلوں پے نہیں تالے

Poem 56

حمد باری تعالٰی
تحریر عمران خان
میری خطائیں ہیں بے شمار
تیری عطائیں ہیں بےشمار
میں بندہ عاجز ناتواں
تو مالک دو جہاں
میری خرد محدود ہے
تو والی تو ودود ہے
میں ادنا اور حقیر بھی
میں تیرے در کا فقیر بھی
میری خطا کی حد نہیں
تیری عطا کی حد نہیں
تیری رحمتوں کا شمار کہاں
تو مالک ہے تو رازداں
مجھے گھیرا ہے گناہوں نے
پھر بھی دل دھڑکتا ہے تیری چاہوں میں
تو عظیم ہے تو کریم ہے
تو مالک ہے تو متین ہے
لائق حمد ہے بس تیری ذات
تونے ہی بنائی ہے کائنات
تو رب ہے تمام جہانوں کا
تو رب ہے سات آسمانوں کا
تعریف نہ کرسکوں میں اے رب ذوالجلال
مجھے تو ہے اپنے گناہوں پر ملال
تیری رحمت کا سہارا ہے
تو نے عطا کیا جب بھی پکارا ہے
تو جانتا ہے دل کی صدا
جو سنتا ہے ہر دعا وہی ہے میرا خدا
میں بندہ عاجز ناتواں
تو مالک دو جہاں

Poem 57

نظم تحریر عمران خان
پاس ہے وہ میرے
دور تو نہیں
اتنا میں بھی
مجبور تو نہیں
کسی کا اس میں
قصور تو نہیں
دل ہے یہ میرا
کوہے طور تو نہیں
زخموں سے اب بھی
چور تو نہیں
سہارا کس نے مانگا
معزور تو نہیں
ہر ایک راہ گزر
پرنور تو نہیں
پاس ہے وہ میرے
دور تو نہیں
اتنا میں بھی
مجبور تو نہیں
دل ہے یہ میرا
کوہے طور تو نہیں

Poem 58

نظم تحریر عمران خان
ایس دنیا وچ توں مسافر
اے راز میں دتا کھول
کہندا اے چل او بندیا
دکھ اپنے توں پھڑول
دکھ دا ترے اکو دردی
جیدا اوچا بول
پڑھدا دا جا حمد تو اودھی
لباں نوں اپنے کھول
پا لیں گا جے اونو اندر
بن جاویں گا انمول
ایس دنیا وچ توں مسافر
اے راز میں دتا کھول
پا لیں گا جے اونو اندر
بن جاویں گا انمول

Poem 59

نظم تحریر عمران خان
ایس دنیا وچ توں مسافر
اے راز میں دتا کھول
کہندا اے چل او بندیا
دکھ اپنے توں پھڑول
دکھ دا ترے اکو دردی
جیدا اوچا بول
پڑھدا دا جا حمد تو اودھی
لباں نوں اپنے کھول
پا لیں گا جے اونو اندر
بن جاویں گا انمول
ایس دنیا وچ توں مسافر
اے راز میں دتا کھول
پا لیں گا جے اونو اندر
بن جاویں گا انمول

Poem 60

نظم تحریر عمران خان
باغ کی سبز ہریالی کو
اس چمن کو مالی کو
آگ لگے اس خوشحالی کو
نہ پاس رہے تیرا دھن
جس سے دکھے کسی کا من
ہری پھری اس تھالی کو
سونے کی اس بالی کو
آگ لگے اس خوشحالی کو
نہ پاس رہے تیرا دھن
جسے دکھے کسی کا من
دودھ کی اس پیالی کو
بہتے پانی کی نالی کو
آگ لگے اس خوشحالی کو
نہ پاس رہے تیرا دھن
جسے دکھے کسی کا من
دیکھی ہے ہمنے مستی بھی
موجوں کے ہوالے جو ہو گئی
ایسی ڈوبتی کشتی بھی
آگ لگے اس بستی کو
ایسی ڈوبتی کشتی کو
جوڑ لے جو سارا دھن
جس سے دکھے کسی کا من
باغ کی سبز ہریالی کو
اس چمن کو مالی کو
آگ لگے اس خوشحالی کو
نہ پاس رہے تیرا دھن
جس سے دکھے کسی کا من

Poem 61

حمد باری تعالٰی
تحریر عمران خان
اودھی دین دا دینا
کوئی وی دے سکدا نہیں
رحمت اودھی دے گن اے گاندا
بندہ عاجز بھہل سکدا نہیں
اودھی ذات کریم اے
چاہت اودھی بن رہ سکدا نہیں
او غفور وی اے رحیم وی اے
اودھے ورگا کوئی ہو سکدا نہیں
اودے اگے جہکے جیڑا
کسے ہور دے اگے جہک سکدا نہیں
اوہی داتا تے اوہی والی
اودھی مرضی بغیر پتہ وی ہل سکدا نہیں
اودھی دین دا دینا
کوئی وی دے سکدا نہیں
رحمت اودھی دے گن اے گاندا
بندہ عاجز بھہل سکدا نہیں

Poem 62

نظم تحریر عمران خان
عشق پیاسے دی رام کہانی
 عشق گھڑے دا مٹھا پانی
کر بیٹھا جے اے نادانی
رولدیاں لنگنی فیر  جوانی
کہندی اے رات دی رانی
اپنے منہ توں تے اپنی زبانی
اے دنیا اے فانی فانی
ٹر گئی جندڑی  فیر نہیں آنی
عشق پیاسے دی رام کہانی
 عشق گھڑے دا مٹھا پانی
عشق گھڑے دا مٹھا پانی
ٹر گئی جندڑی  فیر نہیں آنی

 

Poem 63

That’s the end of the free sample

You have read 12% of Aiban wala - Urdu and Punjabi Poetry Book. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Imran Khan earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 500

See all editions, reviews and details

Aiban wala - Urdu and Punjabi Poetry Book Buy — Rs 500