Check out our most recent publications
Baba e Anatomy
Free sample · no sign-up

Baba e Anatomy

by Seemaa Mustansar

You are reading the first 12% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

12% of the book — free to read

 

بابائے اناٹومی

میرے بابا

(ڈاکٹر مستنصر باللہ)

سیما مستنصر باللہ

 

 

داستان پبلشرز

 

کاپی رائٹ ۲۰۲۶ ء داستان

جملہ حقوق بحق ناشرمحفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ درج بالا افراد یا ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروںمیں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

آئی -ایس-بی-این نمبر

پرنٹ:5 978-627-526-115

ڈیجیٹل: 978-627-526-1162

 

مختصرتعارف

ڈاکٹر مستنصرباللہ

القاب: بابائے اناٹومی، حافظ اناٹومی، معصوم درویش

یومِ پیدائش: ۱۱ ستمبر، ۱۹۴۵

جائے پیدائش: بجنور، انڈیا برصغیر پاک و ہند

یوم وفات: ۲۱ اگست، ۲۰۱۹

جائے وفات: نواب ٹاون، لاہور

ابتدائی تعلیم: شیرانوالٰہ گیٹ ہائی سکول، لاہور

ایف ایس سی پری میڈ: اسلامیہ کالج،لاہور

ایم بی بی ایس: کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج،لاہور

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سات میڈیکل کالجز کے معمار اناٹومی

کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج،لاہور

علامہ اقبال میڈیکل کالج ، لاہور

لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سایئنسز جامشورو،سندھ

واہ میڈیکل کالج واہ کینٹ

یونیورسٹی آف لاہور،کالج آف میڈیکل اینڈ ڈینٹسٹری

سی ایم ایچ لاہورمیڈیکل کالج

سینٹرل پارک میڈیکل کالج،لاہور

 

بابائے اناٹومی کی کہانی

سیما مستنصر باللہ کی زبانی

ایک ایسے استاد کی روداد جن کی دو ہی ترجیحات تھیں

اناٹومی اور ان کے شاگرد

 

انتساب

 

سیدہ فاطمہ زہرا ءسلام اللہ علیہا  کے بابا رحمت للعالمین ﷺ کے نام

بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے بابا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے نام

بی بی سکینہ سلام اللہ علیہا کے بابا حسین علیہ سلام کے نام

ہر اس باپ کے نام جو اپنی بیٹی کے لیے سب سے بڑا ہیرو ہے

 

نشانِ قدردانی

 

میں اپنے حسبی ، نسبی اور سببی رشتوں کی بےحد مشکور ہوں جن کی حوصلہ افزائی سے مجھے ہمت ملی یہ قصہ بیان کرنے کی۔ کچھ خاص لوگ جنہوں نے مواد اکٹھا کرنے اور اس کتاب کو پایہ تکمیل پہنچانے میں میری بہت مدد اور حوصلہ افزائی کی:

 

ڈاکٹر حامد اقبال (سابقہ کوچیف میڈیکل آفیسر بینک دولت پاکستان، لاہور)

ڈاکٹر فخر عباس ( معروف ادبی شخصیت جن کا مجموعہ کلام 'یہ جو لاہور سے محبت ہے' مقبول ہوا)

ڈاکٹر مدثر اشرف

ڈاکٹر سرفراز سپرا (فنانشل سپورٹ ان پبلیشنگ)

ڈاکٹر عائشہ طارق

ڈاکٹر محمد تنویر خان

محترم عامرشہزاد چشتی نظامی صاحب (سرگودھا کے اُبھرتے ہوئے لکھاری)

 

کہتے ہیں کہ دنیا میں اس سے بڑھ کر اور کوئی ایوارڈ نہیں ہوسکتا کہ لوگ آپ کی تربیت کی وجہ سے آپ کے والدین کی تعریف اور عزت کریں۔ تو میں نے یہ ایوارڈ زندگی میں بارہا جیتا ہے ۔الحمدللہ! ان تمام حوصلہ افزائی کرنے والے لوگوں کا بےحد شکریہ۔

 

پیش لفظ

یہ  محض ایک کتاب نہیں بس ایک عاجزانہ کاوش ہے پچھلی صدی کے ایک استاد کی روداد قلم بند کرنے کی، جس نے اناٹومی کے مضمون میں اتنی مہارت حاصل کر رکھی تھی کہ ان کے طلباء انہیں حافظ اناٹومی کہہ کر پکارتے تھے۔ یہ مجموعہ ہے ان کی زندگی کے منظرناموں کا جو آج بھی نوجوان نسل کے لیے مشعل راہ بن سکتے ہیں۔ اگر کاکا والی گلی کا کاکا سٹریٹ لایئٹس تلے پڑھ کے بابائے اناٹومی بن سکتا ہے تو ائر کنڈیشنڈ کمروں اور جدید ترین سہولیات سے مزیّن گھروں میں پڑھتے طلباء بھی ایک مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ روداد ہمارے ایمان کی مضبوطی کا باعث بن سکتی ہے کہ کیسے ایک انسان ایک محنتی کوہ نورد کی طرح زندگی کا پہاڑ سر کر کے اللہ کی رضا کی چوٹی تک پہنچ گیا۔ بقول ایک شاعر؛

وہی آبلے ہیں وہی جلن کوئی سوز دل میں کمی نہیں

جو لگا کے آگ گئے ہو تم وہ لگی ہوئی ہے بجھی نہیں

تری یاد ایسی ہے باوفا پس مرگ بھی نہ ہوئی  جُدا

تری یاد میں ہمیں مٹ گئےتری یاد دل سے مٹی نہیں

یہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ میں ایسے استاد کی بیٹی ہوں جس کے اخلاق اور کردار کی ہزاروں گواہیاں ان کے حسبی، نسبی اور سببی رشتوں کے ذہنوں میں محفوظ ہیں الحمدللہ!  وہ آخری سانس تک اسی فکر میں رہے کہ میرے سٹوڈینٹس میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔جن کا اوڑھنا بچھونا بس گریز اناٹومی کی ضغیم کتاب تھی۔ انسانی جسم ایک شگفتہ اور پیچیدہ نظام ہے جس کے ہرعضو میں تخلیق کی نشانیاں چھپی ہوئی ہیں۔اسے سمجھنا اور پڑھانا ایک فن ہے۔ اور اس فن کا استاد وہ ہوتا ہے جوعلم کے ساتھ ساتھ اخلاق، محبت اور انسان دوستی بھی پیش کرے۔میرے بابا ڈاکٹر مستنصر باللہ مرحوم اسی فن کے حقیقی استاد اور بابائے اناٹومی تھے۔ یہ ہم نہیں کہتے ان کے طلبا کہتے ہیں۔

اللہ سے ان کا گمان ایسے تھا جیسا کہ ایک دوست۔ امام علی نے دوست کی آزمائش کے لیے تین شرائط تجویز فرمائی ہیں:

"A friend cannot be considered a friend unless he is tested on three occasions: in time of need, behind your back, and after your death." (Hazrat Ali).

مجھے لگتا ہے یہ تیسری شرط مجھ سے یہ تحریر لکھوانے کا خدائی سبب ہے۔ ابو کی وفات کے بعد مجھے سورہ قلم اور ایک قلم تواتر سے خواب میں آتا رہا۔ دوستی کا حق ادا کروانے کے لیے رب کریم نے مجھ ناچیز کو چُنا۔ نوازش، کرم، شکریہ، مہربانی۔

اس خوبصورت قصے کو بیان کرنا اس لیے بھی ضروری لگاکہ مادیت پرستی کے اس کٹھن دورمیں استاد اور شاگرد کے رشتے میں دراڑیں پڑتی محسوس ہوتی ہیں۔معاشرے کے اس اعلیٰ ترین رتبے کی وہ قدردیکھنے کو نہیں مل رہی جو پچھلی صدی اور ماضی کے جھروکوں میں مشاہدہ میں آئی۔اپنی قابلیت، سادگی اور عاجزی کی وجہ سے ابو نے بے تحاشا عزت کمائی۔اور رزق میں اتنی برکت کہ اپنے خاندان کے ساتھ ساتھ کئی گھروں کا خرچہ خفیہ طور پر چلانے کے لیے اللہ ربّ العزت نے ان کو وسیلہ بنایا۔ یہ وہ لوگ تھے جو سچ میں نیکی کر کے دریا میں ڈالتے تھے جبکہ آج کل برقی کتابی چہرے (فیس بک) کی زینت بنا دی جاتی ہیں۔

ان کے دو ہی سچے عشق تھے اناٹومی اور ان کے شاگرد۔حق بات یہ ہے کہ ان کے شاگردوں نے بھی حق ادا کیا اور بے حد پیار اور عزت دی۔ یہ نصف صدی سے زیادہ کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں۔ اس قصے میں آپ کو اپنے والدین کی جھلک نظر آئے گی بالخصوص وہ نسلیں جو  ۱۹۵۰ تک پیدا ہوئے۔ مینا کماری پہ پکچرائز کیا ایک پیارا گیت یاد آ رہا ہے ابو کے لیے:

عجیب داستاں ہے یہ کہاں شروع کہاں ختم

یہ منزلیں ہیں کونسی نہ وہ سمجھ سکے نا ہم

مبارکیں تمیں کہ تم کسی کے نور ہو گئے

کسی کے اتنے پاس ہو کہ سب سے دور ہو گئے

کہتے ہیں نا کہ صرف انداز بیاں بات بدل دیتا ہے ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں۔ تو بس ذرا فلمی، ڈرامائی سا انداز اپنایا ہے مابدولت نے انتاکشیری ٹائپ۔ کوشش کی ہے کہ جس قدر ممکن ہو صدق اور سچائی سے یہ قصہ بیان کیا جائےلیکن ابھی اس فیلڈ میں طفل مکتب ہوں اوربہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔ اور ہاں ایک اور بات کہ میری فادری زبان اردو (صدیقی اردو سپیکینگ) اور مادری زبان پنجابی ہے۔ تو ان دونوں زبانوں کا بخوبی استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے انگریزی کے بین الاقوامی تڑکے کے ساتھ۔۔

یہ کتاب کہانی ان کی زندگی،اصول اور علمی خدمات کا مجموعہ ہے۔ اس میں ان کے خاندانی رشتوں، شاگردوں، اہل بیت سے محبت،مخلوق خدا پہ رحم، باکرداری اور علمی ورثہ کے پہلوؤں کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ بقول عامر شہزاد چشتی نظامی:

علم کا دیا جلایا انہوں نے

محبت و اخلاق سکھایا انہوں نے

انسانی جسم کے راز کھول کے

ہر دل میں خدا بسایا انہوں نے

ابو کی شخصیت ایک جگمگاتے جگنو کی طرح لگتی تھی مجھے،  بھولی بھٹکی چڑیا کو راستہ دکھاتے۔ان کی نظر میں شفا تھی۔ مجھے بے حد فخر ہے ان کی بیٹی ہونے پہ جسے امام حسین کے وسیلے سے ابو نے شب غم میں مانگا۔مکمل تفصیلات آپ کو متعلقہ بابوں میں ملیں گی۔بس یوں سمجھ لیجیئے کہ آپ ایک سینما ہال میں ہیں اور ایک فلم دیکھ رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ کاوش آپ کو پسند آئے گی۔ اور ساتھ ساتھ آپ لوگوں کو کافی کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ آپ کے تبصرے اور آراء کا انتظار رہے گا۔

اور ہاں اگر آپ بھی اپنے والدین سے جڑی یادوں کو اس انداز میں دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں تو میرے دیے گئے نمبر پہ رابطہ کر سکتے ہیں۔ داستان کا پلیٹ فارم بہت پر اثر ہے اور آپ بھی ایک مختصر مگر پر اثر کتاب چھپوا سکتے ہیں۔

سیما مستنصر

لاہور پاکستان

stylosee@gmail.com

داستان پبلشرز

03219525753

 

فہرست

 

14

بجنور کا گنا نچڑا پاکستان میں آخری شبِ غم

18

بجنور، انڈیا ۱۹۴۵

21

پرورش کے پہلے دو سال

23

ہجرت پاکستان

29

کاکا والی گلی کا کاکا

34

رب نے بنا دی جوڑی

37

ابو سے میری شعوری ملاقات

80

خاندانی رشتوں کے تاثرات

99

شاگردوں کے تاثرات

116

سرگودھا کے ابھرتے لکھاری عامرشہزاد چشتی نظامی کے قلم سے خراج تحسین

126

کچھ گیت،نظمیں اور خط میرے بابا کے نام

149

مصنفہ کے بارے میں

150

داستان کیا ہے؟

 

بجنور کا گنا نچڑا پاکستان میں آخری شبِ غم

۲۱ اگست ۲۰۱۹ کی شب تھی۔ میں ابھی اپنے صاحبزادے کے ساتھ لاہور کے دورۂ تفریح سے واپس آئی تھی۔ اس دفعہ ابو مجھے کافی چپ چپ سے لگے۔ جب سے وہ کربلا اور ایران کی زیارتوں سے واپس آئے تھے، اپنے حسینؑ و علیؑ سے مل کر، میرے دل میں ربِّ العزت نے یہ بات ڈال دی تھی کہ اب بس کچھ دنوں کا ساتھ ہے، پھر الوداعی فلائٹ ہے۔

چھوٹی بہن نے بھی بتایا کہ بی بی زینبؑ صاحبہ ابو کے خواب میں تشریف لائیں اور فرمانے لگیں:

"اب میں تجھے یہاں نہیں رہنے دوں گی، اپنے ساتھ لے جاؤں گی۔"

(ابو اہلِ بیتؑ، بالخصوص بی بی زینبؑ اُمّ المصائب، سے بے حد عشق کرتے تھے۔)

یہ سن کر میرا دل بھر آیا۔ میں نے ابو سے کثرت سے کلمۂ طیبہ کا ورد کرنے کے لیے کہنا شروع کر دیا تھا اور فجر کی نماز کی خاص تاکید بھی کرتی تھی۔ ابھی جب ان کے پاس رہنے گئی تھی تو انہیں فجر پڑھتے دیکھا۔ وہ اُس وقت بہت معصوم لگ رہے تھے۔

یومِ آزادی پر ہم سب اکٹھے تھے، مینارِ پاکستان پر سجی رنگا رنگ تقریب میں۔ اُس دن ان کے چہرے پر ایک خاص نور نظر آ رہا تھا۔ ابو اپنے وطن سے بہت محبت رکھتے تھے۔

 تو جناب اُسی شب، جب میں اپنے روزمرہ کے معمولات سے فارغ ہو کر سونے کے لیے لیٹنے ہی والی تھی، تقریباً گیارہ بجے ابو کی کال آ گئی۔ سلام دعا کے بعد انہوں نے حال احوال پوچھا۔ اس بار ابو کی آواز کچھ سہمی ہوئی، سسکتی ہوئی اور بے حد اداس لگ رہی تھی۔ کہتے ہیں کہ مرد کو درد نہیں ہوتا، مگر اُس لمحے میرے اندر کی عورت نے اُس مرد کا درد شدت سے محسوس کیا۔ میرے دل پر جیسے ایک دھکا سا لگا۔

ہم سب کی زندگیاں آزمائشوں سے عبارت ہیں۔ ابو کے بھی کچھ ذاتی دکھ تھے جن سے میں واقف تھی۔ میں نے فوراً پوچھا:

“کیا ہوا ابو؟ سب خیریت تو ہے؟”

(اگر مجھ سے محبت ہے، مجھے تم اپنے غم دے دو)

 ابو بولے "دعا کرو میں مر جاؤں، بہت جی لیا۔"

بقولِ شاعر:

؎ شبِ غم تو ہی مختصر ہو جا
زندگی مختصر نہیں ہوتی

میرے اندر کی بیٹی سسکی لیکن بطور مسلمان اب دعا تو حق تھا ان کا۔ تو بس مسنون دعا جو رحمت اللعالمین ﷺ نے سکھائی وہ کر دی ابو کے حق میں۔ کہ اگر زندگی بہتر ہے تو زندگی ورنہ موت بطور انعام عطا فرما دیں اپنے اس دیوانے کو۔

ابو خاموش ہو گئے ایک دم پھر بولے اچھا میں سوتا ہوں اب صبح کالج جانا ہے میرے سٹوڈینٹس میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔ فون بند ہو گیا لیکن میرا دماغ نہیں۔ دعائیں کرتے کرتے سو گئی۔ آدھی رات کو ایک دم آنکھ کھلی ٹانگوں سے جیسے جان نکلتے محسوس کی۔ دل کیا ابو کو کال کروں لیکن پھر خیال آیا سو رہے ہوں گے۔ صبح اُٹھی تو چھوٹے بھائی کا فون آگیا۔ سیما باجی! ابو کی ڈیتھ ہو گئی ہے۔انا للہ پڑھ لی بس۔ پتہ نہیں اس لگا جیسے خدا مر گیا میرے لیے۔ مجھے شدّت سے ابو سے اپنی محبت اور قلبی لگاؤ کا احساس ہوا۔ صاحبزادے کے ساتھ ٹکٹ کروا کے فضائی پرندے پہ سوارداتا کی نگری جا پہنچی۔

 جب ائیرپورٹ سے نواب ٹاون پہنچی گھر پہ ایک دم دل خالی ویران ہو گیا۔ اب وہاں میرا چوہتر سالہ چوکو ہیرو نہ تھا جو میرا سامان خود اُٹھاتا تھا کسی کی نہ سنتے۔ وہ آواز نہیں تھی۔ شہناز دیکھو کون آیا ہے۔ وہ خوشی کے آنسووں سے تر آنکھیں نہ تھیں جو محوِ انتظار رہا کرتی تھیں کہ سیما کب آئے گی۔

 بس ایک لاش تھی جو مہمان خانے میں اب بھی جیسے میرے لیے محوِ انتظار تھی۔ یاد آیا ابو سے فرمائش کرکے اس مہمان خانے میں ٹھنڈی مشین لگوائی تھی۔ اور اب وہاں وہ خود محو استراحت تھے۔ان کے قدموں کو چھوتے بے اختیار میرے منہ سے نکل گیا۔ ابو مجھے آپ کے پاس آنا ہے۔ یہ بھی یاد آیا ماضی کے جھروکوں میں کچھ منظر اُبھرے جب ابو خود ڈیڈباڈیز کی ڈایسکشن کیا کرتے تھے اور اب۔۔۔۔۔

ویسے آپس کی بات ہے ایک طرح سے دل کو سکون بھی ملا کہ اب سکون سے ہوں گے ابو۔ آدھی رات کو میری والدہ سے پانی کا گلاس مانگا اور ایسا سوئے کہ ساتھ لیٹی بیگم کو خبر تک نہ ہوئی۔تمام عمر سب کے لیے آسانیاں بانٹتا یہ بجنور کا رسیلا گنّا کتنی آسانی سے نچڑا لاہور، پاکستان میں۔ سب سے بڑی بیٹی ہونے کے ناتےہمت باندھی ۔ والدہ کو گلے لگایا۔ مبارک ہو امی! ابو سرخرو ہو کے اپنی حوروں کے پاس جا پہنچے۔ امی کا لونگ اب گواچ چکا تھا پھر بھی صبر اور سکون سے کہنے لگیں۔

"ہور کی۔ اہنے نیک سن۔ جنتاں دے باغاں وچ ہووے گا تیرا پیو۔ "

ابو نواب ٹاؤن کے سرسبز باغوں والے قبرستان میں مدفون ہیں۔ ساتھ ہی ذرا فاصلے پہ میری امی اور سب سے چھوٹے بھائی کی قبریں بھی ہیں۔ اس قبرستان کے داخلے پہ ایک خوبصورت باغیچہ ہے جو بالکل علامہ اقبال میڈیکل کالج کے داخلےکی طرح ہے جہاں ابو نے سب سے زیادہ پڑھایا۔ پھر وہاں سے ریٹائرمنٹ لے کر پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں علم کے موتی بکھیرے۔ نواب شاہ سندھ، واہ کینٹ اور پھر سی ایم ایچ کے بعد سینٹرل پارک والے میڈیکل کالج میں پڑھاتے رہے سب سے آخر میں۔

انا للہ و انا الیہ راجعون۔ دعاؤں کی گزارش۔

 

بجنور، انڈیا ۱۹۴۵

کچھ جھلکیاں ، کچھ منظر نامے

 پچھلی صدی کا یہ استاد ۱۱ ستمبر ۱۹۴۵ کو حسن آراء بیگم اور حکیم عبدالسلام کے آنگن میں ایک پھول کی مانند کھلا۔

آیئے آپ کو لیے چلتے ہیں بجنور، انڈیا ۱۹۴۵،اب تو جدید ٹیکنالوجی نے وقت کا سفر ایک ٹائم مشین کی طرح بہت سہل کر دیا ہے۔ سوائے خود کے گوگل بابا اور میٹا اے آئی  کی مدد سے آپ کبھی بھی،کہیں کی بھی سیر کر سکتے ہیں چاہے ورچوئل ہی سہی۔تو جناب گنگا کنارے آباد اس شہر میں اور بھی بڑی شخصیات نے جنم لیا ہے جن میں وشال بھردواج(فلم لکشیا ۲۰۰۴) اور پرکاش مہرہ (ڈائریکٹر میوزک) جیسے بڑے نام شامل ہیں۔

یہ وہ وقت تھا جب برطانوی راج کے خلاف آزادی کی تحریک برصغیر پاک وہند کے چپےّ چپےّمیں جاری تھی۔اتر پردیش میں واقع بجنور اپنی زرخیز تاریخ اور ثقافتی ورثہ کے لیے مشہور ہے۔ اس دور میں یہ تحریکِ آزادی کا اہم مرکز تھا۔مقامی لیڈران اور باشندوں نے اجتجاجوں،تحریکوں اور بہت سے دیگر اہم ذریعوں سے آزادی کے لیے جدو جہد میں حصہ لیا۔ ڈاکٹر صاحب کے مزاج میں باغی پن غالباً اسی ماحول کے زیرِ اثر شامل تھا۔

گنگا کنارے آباد اس شہر سے گنگا جل کی شفاء بطور طبیب، ڈاکٹر صاحب کی شخصیت میں رچی بسی تھی۔ مشاہدے میں بارہا آیا کہ بیماروں کو ان سے مل کر شفایاب ہوتے پایا بقول شاعر:

ان کے دیکھے سے جو آجائے ہے منہ پہ رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

اس کے علاوہ یہ شہر ثقافتی تنوع کے لیے جانا جاتا تھا۔جس میں مختلف کمیونیٹیز کے لوگ اکٹھے مل جل کر رہتے تھے۔اور مقامی روایات اور رسومات میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا کرتے تھے۔یہ رنگ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت میں خوب گہرا چڑھا تھا۔

معاشی اعتبار سے گنّا زراعت کا ایک بہت بڑا حصہ تھا۔ معاشی سرگرمیوں پر دریاؤں اور مال برداری کے راستوں کا نمایاں اثر تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے آفٹر ایفیکٹس بھی گہرے اثرات چھوڑ چکے تھے۔

بجنور سے ڈاکٹر صاحب کو گنے کے رس جیسی مٹھاس ملی، بالخصوص استاد کے روپ میں۔ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کا ایک امتیازی پہلو یہ بھی تھا کہ انہوں نے فی سبیل اللہ محنت کرکے نہ جانے کتنے انسانوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کیں۔ بطورِ استاد نسلیں سنواریں۔ بجنور کے اس گنے سے نچڑے علم کے رس سے، بفضلِ خدا، ہزاروں طلبہ فیضیاب ہوئے۔

ایک اور دلچپ بات نظر سے گزری اس شہر محبت کے بارے میں کہ اس ضلع کا نام پہلے نگینہ تھا۔ٍ پھر بعد میں بدل کر بجنور رکھا گیا۔ داکتر صاحب بھی ایک نگینے کی مانند قیمتی اور چمکدار تھے ہرسو چمکیلی روشنی بکھیرتے۔

ان کی عمر کے پہلے دو برس اس شاندار سیاسی،مذہبی اور علمی و ادبی ماحول میں گزرے۔ اس عمر میں بچہ اپنے اردگرد کے ماحول سے لاشعوری اثرات جذب کر لیتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو قدرت نے بابائے اناٹومی کے رتبے تک پہنچانا تھا۔ زندگی ایک پہاڑ سر کرنے کے برابرہے  تو اس سدپارہ جیسے کوہ نورد کا پہلا پڑاؤ تھا بجنور انڈیا۔ اس زمانے کا بجنور زرخیز ثقافت، متنوع آبادی اور تاریخی پس منظر کا گہوارا تھا۔یہ شہر اپنے روایتی ہُنر کے لیے جانا جاتا تھا جن مین لکڑی کا کام،سفالگری اور ٹیکسٹائل کے لیے مشہور تھا۔

روایتی انڈین موسیقی اور رقص کی مختلف جہتیں جیسے کہ کلاسیکی موسیقی،لوک موسیقی اور لوک ڈانس کلچرل منظرنامے کا ایک لازم جزو تھے۔ ادب کے میدان میں اُردو اور ہندی ادب عیاں تھا اور مقامی شعراء اور لکھاری ادبی منطرنامے میں اپنا اپنا کردارادا کر رہے تھے۔تہوار جیسے کہ عید، دیوالی اور ہولی بہت جوش و خروش اور یک جہتی سے منائے جاتے تھے۔بجنور کے پکوان اس کے ثقافتی ورثے سے متاثر تھے اور روایتی کھانے جیسے کہ کباب،بریانی،مقامی مٹھائیاں کافی مقبول تھیں۔ ارد گوشت چاول ہر دلعزیز ڈش تھی۔

That’s the end of the free sample

You have read 12% of Baba e Anatomy. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Seemaa Mustansar earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 600

See all editions, reviews and details

Baba e Anatomy Buy — Rs 600