بلند تخیل کی شاعرہ عاطفہ ضیاء

داستان کے اِس سفر میں بہت میں سے ادیب ہمارے ساتھ جڑے ہیں، اُن کا ہم پر یہ اعتماد ہی ہماری کامیابی کی علامت ہے۔ داستان اپنے ادبیوں کی بہتری و ترقی کے لیے نئے عوالم کی تلاش میں سرگرم رہتا ہے۔ یہ انٹرویوز بھی اُسی کی ایک حصہ ہیں۔ آج ہم ایک دلکش شخصیت کے بارے میں جاننے والے ہیں، جن کا شعری مجموعہ ”قصہ تمام شد“ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ہجر و محبت کی داستان، جسے عاطفہ ضیاء نے اپنے باکمال لفظوں کے انتخاب سے بہت دلکش انداز میں بیاں کیا ہے، جو قاری کو جلد ہی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ شاعرہ نے بہت سلیقےسے اچھوتے خیالات کو لفظوں کی مالا میں پرویا ہے۔

!تو آئیے ملتے ہیں عاطفہ ضیاء سے

السلام علیکم، عاطفہ، کیا حال ہے؟

عاطفہ: وعلیکم السلام، جی میں بالکل ٹھیک ہوں۔

سوال: ہمارے پڑھنے والوں کو اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ  زندگی کے متعلق کچھ  بتائیں گی؟

جواب:ضرور کیوں نہیں،بیسیکلی میں نے ایم فل اِن انگلش لٹریچرکیا ہے پنجاب پونیورسٹی سے اور پیشے کے اعتبار سے میں یونیورسٹی آف منجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی میں بطور لیکچرار اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہوں ۔میں  تقریباً پچھلے چھ سال سےدرس و تدریس سے  وابستہ ہوں  اورلکھ تو میں خیر بہت عرصے سے رہی ہوں اور بہت خوش ہوں کہ داستان نے میرے لیے یہ پلیٹ فارم مہیا کیا ہے ، جہاں میں  اپنی لکھی ہوئی صلاحیتوں کو سامنے لا پائی اورلوگوں  تک پہنچا سکی ۔

سوال:لکھنے کا شوق کب اور کیسے  پیدا ہوا ؟اپنی پہلی نظم یاد ہے؟

جواب:جی بالکل یاد ہے ، پہلی محبت اور پہلی نظم میرے خیال میں ایک ایسا  خوب صورت تجربہ ہے  جو انسان کبھی نہیں بھولتا ۔ لکھنے کا شوق مجھے   بچپن سے ہی تھا ، کیوں کہ  میرے فادر خود بھی poetہیں  ۔ میرا تعلق ایک ادبی گھرانے سے رہا ہے اور کچھ اُن کو دیکھ کے کچھ لوگوں کو  سن کر ، جہاں بچپن میں لوگوں   کے ہاتھوں میں کھلونے دیے جاتے ہیں ، مجھے پطرس بخاری، منٹو اور ساحر لدھیانوی  پکڑائے گئے،کتاب کی فارم میں آف کورس۔   تو اُن سے دوستی رہی ، اِنہی لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا رہا۔ کتاب دوستی  مجھے میرے بابا نے سکھائی ۔ پہلی نظم میں نے لکھی تھی، جب میں بہت  چھوٹی تھی ، غالباً چوتھی جماعت  میں تھی اور  نظم کا عنوا ن تھا” ماں“۔ سکول میں ایک کمپٹیشن ہوا تھا جہاں پر اپنی نظمیں اور غزلیں  یا جو بھی آپ لکھتے ہیں اُس کو پریزنٹ کرنے کا  موقع ملا۔ تو پھر میں نے ایک نظم لکھی تھی  ” ماں“ کے عنوان پہ ،جس کا آخری شعر میں ضرور سناؤں  گی۔

؎ ہے ماں کو جس نے سمجھا ، ہے ماں کو جس نے جانا؎

دنیا   میں عاطفہ ہے ،   بندہ    وہی سیانا  

سوال: دیگر کیامشاغل ہیں؟

جواب:پڑھنے سے بہت لگاؤ ہے ، پڑھانے سے بہت دلچسپی ہے ۔دونوں معاملات میرے مشاغل میں شامل ہیں  اور اِس کے علاوہ میوزک بھی سنتی  ہوں ، لیکن اگین  ،موسیقی کے اندر بھی میرا جو ہے دھیان وہ نثر کی طرف زیادہ ہوتا ہے  کہ لیرکس کیا ہیں اور اشعار کیا  ہیں ، شاعری کیسی ہے۔اِس کے علاوہ میں خط لکھتی ہوں ، خطوط  ایک ایسی کیٹگری ہے جس کے اندر  میں لکھنا پسند کرتی  ہوں  شاعری کے علاوہ۔

سوال: نام کس نے  رکھااور اِسی نام کے ساتھ لکھنے  کو  کیوں ترجیح دی؟

جواب:میرا نام میرے دادا ابو نے رکھا تھا۔ عاطفہ، عاطفہ کا مطلب ہوتا ہے رحم دِل ، مہربان جوڑنے والی ، جھکنے والی۔ اِسی لیے اِس  نام کے ساتھ لکھنے کو ترجیح دی کیوں کہ مجھے لگتا ہے  کہ انسان سے عاجزی نکل جائے تو انسان ختم ہو جاتا ہے ۔ اِسی لیے اِس نام کو رکھا ، اور اِسی قلمی نام کے ساتھ لکھنے کو ترجیح دی کہ میں ہمیشہ اپنے آپ کو یاد دلا سکوں کہ چاہے میں کسی بھی مقام پر پہنچ جاؤں  ۔  اِس عاجزی کو اپنے  ذہن سے ، اپنے جسم سے ، اپنی روح سے دُور نہیں کرنا۔ کیوں کہ یہ میرے نام کا ہی حصہ نہیں  ،میری شخصیت کا بھی حصہ ہے۔

سوال:بچپن کیسا گزرا؟ادب سے  شغف  کیا آپ  کے ماحول اور پرورش  کا اثرہے؟

جواب:جی بالکل، جیسا کہ میں نے پچھلے  سوال میں بھی بتایا کہ اِس میں بالکل، بالکل، بالکل  میرے ماحول کا اور پرورش  کا اثر ہے ۔اور باقی جیسا کہ ساحر لدھیانوی  فرماتے ہیں کہ :

؎دنیا نے تجربات وحوادث  کی شکل میں؎

جو کچھ مجھے  دیا ،وہ لوٹ ا رہا  ہوں میں

تو بالکل  کچھ ایسا ہی ہے، ادب سے لگاؤ تو ماحول سے ملتا ہے ۔ لیکن ماحول کے اندر ہونے والے حادثات و  تجربات  بھی آپ کو بہت کچھ سکھاتے ہیں۔ باقی بچپن بہت خوب صورت گزرا، بہت خوب صورت یادیں ہیں ۔ جیسا کہ میں نے بتایا کہ میری ادبی بیٹھک میں پطرس بخاری، منٹو، ساحر لدھیانوی ، فیض احمد فیض اور بہت سے ایسے ہی شعرا شامل تھے ۔تو اِنہی لوگوں کی صحبت میں گزرا میرا بچپن ۔

سوال: اپنے خیالات کے اظہار  کے لیےنثر  کی بجائے  شاعری کا  انتخاب کیوں کیا؟

جواب:آ۔۔۔ایک بہت مشہور مقولہ ہے کہ:

۔The poetry is the best words in best order

تو شاید یہی ایک وجہ تھی کہ نثر پہ شاعری کو ترجیح دی۔ لیکن نثر بھی لکھتی ہوں ، جیسے کہ میں نے بتایا کہ میں خطوط لکھتی ہوں اور میں مضامین لکھتی ہوں۔تو نثر کا  سہارا بھی لیتی ہوں اپنے   خیالات کے اظہار کے لیے ، ایسا نہیں ہے کہ میں نے نثر لکھی نہیں۔لیکن ہاں شاعری پسند ہے ،شاعری بہت خوب صورت ، خوب صورت ایک  جذبہ ہے،جس کے اندر میں  سمجھتی ہوں کہ لفظ بہت خوب صورت پیرہن  اوڑھے بیٹھے ہوتے ہیں اور جیسے ہی کوئی قاری انہیں دیکھتا   ہے تو وہ  اُس پر اُسی طرح سے اترتے اور اثر کرتے ہیں ، جیسے کہ وہ شاعر ہیں ۔ تو  اِس لیے بھی مجھے لگتا ہے کہ شاعری زیادہ خوب صورت انداز  ِ بیاں ہے بجائے نثر کے۔ لیکن ہاں نثر بھی جاندار ہوتی ہے  اور بہت سے لوگوں کی نثر پڑھنے کی میں شوقین  ہوں ۔ کیوں کہ مجھے لگتا ہے کہ نثر  زیادہ خوب صورت ہے جس میں کرشن چندر اور پطرس بخاری سرِ فہرست ہیں ۔

سوال:آپ نے ریڈیوپر بھی کام کیا۔۔۔کیسا تجربہ تھا؟

جواب:تجربہ میرا بہت ، بہت اچھا تھااور ریڈیو پر بھی میں از آ پریزینٹرکام کیا ۔ کچھ پروگرامز کیے نمغائے شب کے اندر۔ سن کر جان کر خوشی ہوئی  کہ ایسے لوگ ابھی بھی زندہ  ہیں جو ادب سے شغف رکھتے ہیں۔ کیوں کہ پروگرام کی ٹائمنگ کافی لیٹ ہوتی تھی رات بارہ سے تین ، مجھے اُمید نہیں تھی کہ لوگ سنتے ہیں  ریڈیو ابھی بھی تو جیسے وہ مصرعہ ہے:

؎ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں؎

تو ایسا مجھے جان کر اچھا لگا کہ ابھی  کچھ لوگ باقی ہیں جو ادب سے لگاؤ رکھتے ہیں ،اور اُس کے لیے اُن کو اپنی کیوں نہ قربان کرنی پڑے ، اُس کو وہ جاگ کر ضرور سنتے ہیں ۔تو بہت اچھا تجربہ رہا ۔نئے لوگوں ے ساتھ ملاقات ہوئی ، کہتے ہیں    خط نصف ملاقات ہوتی ہے ، ٹیلی فونک ملاقات کو میں  نصف سے تھوڑا زیادہ رعایت دوں گی تو وہ ایک اچھا تجربہ تھا۔

سوال:پسندیدہ شعراور کتب کون سی ہیں؟

جواب:دیکھیں  پسندیدہ  شعر تو بہت سارے ہیں ۔ پسندیدہ شعرا بھی بہت سارے ہیں ،فیض احمد فیض میرے  پسندیدہ شاعر ہیں ۔ اور کتب ، بہت مشکل سا سوال ہے ۔مشکل سا سوال اِس لیے ہے کہ اب بھی میں تلاش میں ہوں  ایک ایسی کتاب کی ، جس کو میں پڑھوں اور اُس کی ہو کے رہ جاؤں ، تو ابھی  بھی ویٹ کر رہی ہوں ایسی کتاب آنے کا۔ شاید  کبھی ملے تو ضرور بتاؤں گی۔

سوال:نئے لکھنے اور پڑھنے  والوں کے لیے  کوئی مشورہ  یانصیحت  کرنا چاہیں گی؟

جواب: بالکل کرنا چاہوں گی ، پڑھنا اور لکھنا میرے  خیال میں دو اہم جز ہیں انسانی زندگی کے  اور  اچھی شاعری ، اچھا نثر اچھا  ادب پڑھنا  بہت ضروری ہے آپ کی شخصیت میں نکھار لانے کے لیے اور میرے  خیال میں اُن کا اُن خیالات  کا، اُس نکھار کا اظہار کرنے  کے لیے  بھی آپ کو ایک پلیٹ فارم چاہیے ۔ اور میرے خیال میں لکھنے سے پہلے

زندگی میں جو کچھ بھی آپ کے ساتھ بیتتا ہے، گزرتا ہے، کوئی تجربہ ہے کچھ بھی ہے ۔ وہ سب آپ کو ایک  انرجی پروائڈ کرتے ہیں اور میرے خیال میں اُس انرجی کا اخراج  اگر  لفظوں کی صورت میں ہو جائے تو  ایک تو وہ موقع ،وہ مومنٹ ، وہ لمحہ  امر ہوجاتا ہے اور دوسری امپورٹنٹ بات یہ کہ آپ کا کتھارسس ہوجاتا ہے ۔ آپ کے وہ تلخ  تجربات ، جب آپ قلم کی نوک سے گزار دیتے ہیں تو آپ کے درد میں  خاطر خواہ کمی واقعہ ہوتی ہے ۔تو اِس لیے میں نئے پرھنے اورلکھنے والوں  کو ضرور یہی مشورہ اور نصیحت دینا چاہو ں گی کہ پڑھیں اور لکھیں ۔ ٹی ایس ایلیٹ کا ایک مشہور essay ہے، مضمون ہے

”Tradition and Individual talent“ جب آپ لکھنا چاہتے ہیں ،تو اِس کا مدعا یہی ہے کہ جب آپ لکھنا چاہتے ہیں  تو  اُس کے لیے آپ کو پڑھنا بہت ضروری ہے  اور جب تک آپ  بہت زیداہ پڑھ نہیں لیتے آپ بہت اچھا لکھ نہیں پاتے ۔ میں کسی حد تک ٹی ایس ایلیٹ سےسحمت ہوں اور لکھیں  ضرور لکھیں اور آپ  کے لکھنے میں نکھار تبھی پیدا ہوگا جب آپ پڑھیں گے تو اچھا ادب  پڑھیں اور اچھا اچھا ادب لکھیں ۔

سوال: ادارے  کے بارے میں آپ کی  کیا رائےہے؟

جواب:داستان ایک بہت خوب صورت پلیٹ فارم ہے اور میں تو بہت ہی مشکور و ممنون ہوں  پلیٹ فارم کی ۔ جس نے  مجھے صاحبِ کتاب کیا۔ کتاب اولاد کی طرح  ہوتی ہے ، اور  ایک ماں کے لیے اُس کی اولاد کی کیا اہمیت ہوتی  ہے وہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں۔داستان کی  سب سے اچھی بات جو مجھے لگی ، وہ یہ کہ وہ نئے رائٹرز کو پروموٹ کرتا ہے،اور ایسے اداروں کی ، ایسے پلیٹ فارمز کی ، میرے ، مجھے لگتا ہے ہماری نوجوان نسل کو بہت زیادہ ضرورت ہے ،کیوں کہ میں نے بہت زیادہ ایسے ایسے اسٹوڈنٹس دیکھے ہیں کیوں کہ میں نے آپ کو بتایا ہے  کہ میں یونیورسٹی میں پڑھاتی  ہوں۔ ایسے ایسے اسٹوڈنٹس دیکھے  ہیں جو  بہت عمدہ لکھتے ہیں ، لیکن اُن کا کام کوئی پبلش نہیں کرتا ۔ کیوں کہ یا تو پبلشرز بہت زیادہ پیسے  لیتے ہیں  یا پھر پبلشرز آپ کا کام لینے سے ہی انکار ی ہوتے ہیں ،کیوں کہ آپ نیو کمر ہیں اِس فیلڈ میں ۔ تو پھر وہ نیو کمرز کہاں جائیں ؟ تو میرے خیال میں داستان بہت اچھا initiative لیا ہے اور اِس  initiative  کو لے  کر جو داستان چلی ہے تو میرےخیال میں داستان بہت لمبا سفر طے کرے گی اور ضرور ایک داستان بن جائے  گی، داستان گوئی ہماری اردو ادب  کا بھی بہت امپورٹنٹ حصہ ہے ۔ باقی میری طرف سے داستان کو بہت بہت بیسٹ وشز ہیں اور  داستان جس طرح سے کام کر رہا ہے ، نئے آنے والے قلم کاروں کے لیے میرے  خیال میں وہ قبلِ تحسین بھی ہے  اور قابلِ داد بھی۔ اور اللہ کرے کر زورِ قلم اور      زیادہ اور ایسے ہی لکھتے  رہیں اور سارے لکھنے والے اور پڑھنے والے بھی۔

عاطفہ ضیاء جو نہ صرف دلچسپ گفتگو کرتی ہیں، بلکہ اتنا ہی عمدہ لکھتی ہیں۔ بہت شکریہ عافطہ کہ آپ نے داستان کے لیے وقت نکالا اور اپنے بارے میں بتایا۔ آپ عاطفہ ضیاء صاحبہ کا شعری مجموعہ دیے گئے لنک پر کلک کر کے حاصل کرسکتے ہیں۔

آرڈر Now

Daastanhttps://daastan.com/blog
Daastan is a literary forum working for revival of literature in Pakistan. We connect writers with opportunities for career growth.

Related Articles

کتاب “زندگی ایک کرونا” پر تبصرہ

زندگی ایک کرونا مصنف: وقار احمد بخش وقار احمد بخش کی کتاب” زندگی...

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

کتاب “زندگی ایک کرونا” پر تبصرہ

زندگی ایک کرونا مصنف: وقار احمد بخش وقار احمد بخش کی...

کتاب کی اشاعت کے لیے داستان کی سروسز

*آخری ترمیم: ١ مئی، ٢٠٢٢ء* کتاب کی اشاعت کے لیے...

Poetry Workshop: Winter Poetry And How To Write One

The title may be misleading because of course there...

Stay in touch!

Follow our Instagram