جانیے ہمہ گیر شخصیت عرفان محمود کو

داستان کا مقصد اپنے مصنفین کو معاشرے میں ایک نمایاں پہچان دلانا ہے، جس کے لیے وہ ہمیشہ نت نئے تجربات کرتا ہے۔ہر مصنف کی، صاحبِ کتاب ہونے تک کے سفر  کی ایک مختلف کہانی ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے تمام لکھاریوں کے  انٹرویو کا انعقاد کرتے ہیں، اور آج ہمارے ساتھ موجود ہیں، ایک بے مثال ادیب عرفان محمود، جن کی دلچسپ کتاب ” وائس آف ڈیتھ“ حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔عرفان ایک منفرد شخصیت  کے مالک ہیں ، جنہوں نے زندگی کے مختلف رنگوں  کو مختلف ادبی صنفوں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ کہیں اُنہوں نے ہنسی اور مزاح سے بھر پور تخلیق کی تو کہیں وہ غورو فکر کرتےنظر آتے ہیں۔

تو آئیے ملتے ہیں عرفان محمود سے!

السلام علیکم ،عرفان! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔

عرفان: وعلیکم السلام، میں ٹھیک ہوں۔

سوال:  ہمارے پڑھنے والوں کواپنی تعلیمی  اور پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں بتائیں؟

جواب: میں نے گورنمنٹ کالج اٹک سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔اس کے بعد تدریس کا شعبہ اختیار کرنے کے لیے بیچلرز اِن ایجوکیشن (B.A)  کیا۔ ایک عرصہ محکمہ تعلیم میں بطور سانئس ٹیچر خدمات سرانجام دیں۔اس کے ساتھ تحریر نگاری کا شوق پورا  کرنے کے لیے ہمدردِ صحت کراچی کے لیے صحت او رنفسیات پر مضامین بھی لکھتارہا۔ یہاں مجھے مسعود احمد برکاتی مرحوم جیسے اردو زبان کے ماہر انشاءپرداز کی رہنمائی میسر آئی جو زبان کی صحت کے بہت قائل تھے۔میں نےان سے بہت کچھ سیکھا۔اس کے بعد کچھ تو  گھریلو مجبوریاں آڑے آئیں اور کچھ ملازمت کی پابندیوں سے طبیعت اکتا گئی تھی، اس لیے ملازمت کو خیر آباد کہا۔اب فل ٹائم  فری لانس رائیٹر کے طور پر کام کرتاہوں۔

سوال:بچپن کیسا گزرا؟ ادب سے شغف کیا آپ کے ماحول اور پرورش کا اثر ہے؟

جواب:  بچپن ٹارزن کی کہانیاں، لڑکپن عمران سیریز اور نوجوانی جاسوسی ڈائجسٹ پڑھتے گزری۔ اگرچہ ان اصناف کو ادبِ عالیہ میں تو شمار نہیں کیا جاتا مگر میں ادب سے آشنا ان ہی ذرائع سے ہوا۔سائنس کاطالب علم تھا ، اس لیے خالصتاً ادبی لٹریچر  پڑھنے کاوقت نہیں ملتا تھا۔

سوال: مذہب اور الحاد ایک دوسرے کے متضاد ہیں، آپ کے خیال میں سائنس کا تعلق کس سے ہے؟

جواب: سائنس کا طالب علم ہونے کے ناطے ”مذہب اور سائنس“ کا موضوع میرے لیے شروع سے دلچسپی کا باعث تھا۔اس حوالے سے ایک عجیب معاملہ یہ ہے کہ سائنس کی ایک شاخ فزکس کی دریافتیں مذہبی عقائد کی توثیق کرتی نظر آتی ہیں، وہیں ایک دوسری شاخ بائیولوجی الحاد کی ترجمان بن چکی ہے۔اہلِ مذہب  فزکس کے بگ بینگ ماڈل سے تخلیقِ کائنات کے عقیدے  کے لیے دلیل حاصل کرتے ہیں، تو ملحدین بائیولوجی کے نظریہ ارتقا ء سے قوت حاصل کرتے ہیں۔یوں مذہب کے سوال پر جدید سائنس منقسم دکھائی دیتی ہے۔

سوال: ایک طرف آپ نے الحاد جیسے سنجیدہ موضوع  پر قلم اٹھایا تو دوسری طرف طنزو مزاح کے شگوفے بکھیر دیے، کیا یہ ہمہ گیری شخصیت کا حصہ ہے؟

جواب: میں چونکہ سائنس کا طالب علم تھا اور جدید الحاد سائنس کے کندھوں پر سوار ہوکر خداکے وجود کو للکار رہا  ہے ، اس لیے میں اس سے دامن نہ بچا سکا۔ لہٰذاالحاد پر تحقیق ایک ذاتی ضرورت بن گئی تھی  اور میں نے کتاب ”مذہب، سائنس اور الحاد“ ایک مشنری جذبے کے ساتھ لکھی ہےتاکہ میری طرح جو دوسرے لوگ بھی تشکیک کی وادیوں میں بھٹکے ہیں، ان کی کسی حد تک رہنما ئی ہوسکے۔اسی حوالے سے میں اپنے بلاگ پر بھی تحریریں لکھتا ہوں۔

جبکہ مزاح لکھنا مجھے طبعاً پسند ہے۔ یہ رجحان میں نے کرنل شفیق الرحمٰن کی کتابیں پڑھ کرحاصل کیا۔میں ان کے طرزِ تحریر سے اتنا متاثر ہوں کہ میری کتاب ”احمق پارے“ میں آپ کو ان کے انداز کی جھلک دکھائی دے گی۔اس شعبے میں کرنل شفیق الرحمٰن میرے روحانی استاد ہیں۔

سوال:  آپ نے مختلف جرائد اور رسالوں کے لیے بھی مضامین لکھے اور اپنے ذاتی بلاگ پر بھی لکھتے ہیں، اس حوالے سے کچھ تفصیلات بتائیے؟

جواب : ہمدردِ صحت کراچی کے لیے میں نے تقریباً پندرہ سال  تک انگریزی کے ہیلتھ آرٹیکلز  کا اردو میں ترجمہ کیا اور میرے نفسیات کے موضوع پر طبع زاد مضامین   بھی ہمدردِ صحت اور اردو ڈائجسٹ  میں چھپتے رہے۔ اسی ”صحت ونفسیات“کے موضوع پر میں نےاپنا بلاگ شروع کیا ہے جس میں عام نوجوانوں کو پیش آنے والے مسائل کا احاطہ کرکے ان کا تدارک پیش کیا جاتا ہے۔

سوال: پسندیدہ مصنفین اور کتب کونسی ہیں؟

جواب:    فکشن میں میرے پسندیدہ مصنفین میں کرنل شفیق الرحمٰن ، مظہر کلیم ایم اے، اشتیاق احمد، محی الدین نواب، نسیم حجازی اور الیاس سیتا پوری شامل ہیں اور ان کی لکھی ہوئی تمام کتابیں مجھے پسند ہیں۔

سوال:  کیا کیا مشاغل رکھتے ہیں؟

جواب : اب تو پڑھنا لکھنا  کام بھی ہے اور مشغلہ بھی۔ ویسے مجھے آثارِ قدیمہ کی سیر کرنے کا بہت شوق ہے اور جب بھی موقع ملتا ہے ایسے مقامات کا قصد کرلیتا ہوں۔

سوال:  نئے لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کے لیے کوئی مشورہ یا نصیحت کرنا چاہیں گے؟

جواب:  نئے لکھنے والوں کے لیے تو میں وہی بات دوہراؤں گا کہ اس علم بیزار اور کتاب دشمن معاشرے میں ستائش اور شہرت کی توقع دل سے نکال کر صرف اپنے ذاتی رجحان کی تسکین کے لیے لکھیں، اسی سے ممکن ہوگا کہ آپ کادل بھی نہ ٹوٹے اور آپ لکھتے بھی چلے جائیں۔

سوال:  ادارے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب:   ایک  ایسے معاشرے میں جہاں  کتاب سے مراد صرف نصابی کتاب لی جاتی ہو اورکسی کے ہاتھ میں کتاب دیکھ کرمعصومیت سے پوچھا جاتاہو کہ ”بھئی ، کون سے امتحان کی تیاری کررہے ہو؟“ وہاں کتاب کے فروغ کا علمبردار بننا واقعی ایک ایسی کاوش ہے جس کو ہر علم دوست انسان بہت قدر کی نگاہ سے دیکھے گا۔ اس ادارے نے بہت ہی عظیم کام کا بیڑہ اُٹھایا ہے۔تاہم چونکہ ہمارے ہاں ای پبلشنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا تصور فی الحال  نوزائیدگی کے مرحلے میں ہے،  اس لیے ابھی کتابوں کی تشہیرو فروخت کے روایتی ذرائع کو ساتھ ساتھ اختیار کیے رکھنا مناسب ہوگا۔ امید ہے کہ یہ ادارہ اپنے تجربات سے سیکھتا ہوا مسلسل آگے بڑھتاچلاجائے گا۔

عرفان محمود  جنہوں نے مختلف ادبی صنفوں میں اپنے قلم کے جوہر دکھائے ہیں، ایک منفرد سوچ کے مالک ہیں جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عرفان محمود کی کتابیں قصہ پر موجود ہیں، ابھی آرڈر کیجیے اور  لطف اٹھائیے۔

 

آرڈر Now

Daastanhttps://daastan.com/blog
Daastan is a literary forum working for revival of literature in Pakistan. We connect writers with opportunities for career growth.

Related Articles

کتاب “زندگی ایک کرونا” پر تبصرہ

زندگی ایک کرونا مصنف: وقار احمد بخش وقار احمد بخش کی کتاب” زندگی...

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

کتاب “زندگی ایک کرونا” پر تبصرہ

زندگی ایک کرونا مصنف: وقار احمد بخش وقار احمد بخش کی...

کتاب کی اشاعت کے لیے داستان کی سروسز

*آخری ترمیم: ١ مئی، ٢٠٢٢ء* کتاب کی اشاعت کے لیے...

Poetry Workshop: Winter Poetry And How To Write One

The title may be misleading because of course there...

Stay in touch!

Follow our Instagram