ملاقات، ذہنی صحت کے حامی اشہد قریشی سے

داستان اپنے تمام مصنفین کا بے حد احترام کرتا ہے اور یہ سب ہمارے لیے بہت اہم ہیں۔ہر کامیاب مصنف ،شاعریا تخلیق کار کے پیچھےجدوجہد کی ایک پوری داستان ہوتی ہے۔ہر مصنف اپنے ساتھ سیکھنے کو بہت کچھ لاتا ہے،اور نئے لکھنے اور پڑھنے والے اس کےتجربات اور نصائح کو سن کر ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اسی بات کے پیشِ نظر ہم اپنے تمام رائٹرز کے ساتھ انٹرویو کا انعقاد کرتے ہیں، اور آج ہمارے ساتھ موجود ہیں، ایک باکمال  مصنف اشہد قریشی! جن کی  کتاب میرا جسم میرا ہےحال ہی میں شائع ہوئی ہے۔اس کتاب کے عنوان سے ہی معلوم ہورہا ہے کہ یہ  ایک حساس موضوع  پر لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب  بچوں کی مکمل رہنمائی کرتی ہے کہ جب کوئی انہیں غیر مطلوب چھوئے تو اُنہیں اس صورتحال میں کیا کرنا چاہے۔ اِس کے علاوہ کتاب میں بڑوں کے بھی چند ضروری ہدایات ہیں جو کہ بچوں کی معاشرتی تربیت کرنے میں اہم درجہ رکھتی ہیں کہ بچوں کو ایسے موقع پر کیا کرنا چاہیے۔

تو آئیےملیے مصنف اشہد قریشی سے!

السلام علیکم، اشہد! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔

اشہد: وعلیکم السلام، الحمداللہ۔ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے اپنے بارے میں کچھ بتانے کا موقع دیا۔

سوال: ہمارے پڑھنے والوں کواپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی کے متعلق کچھ بتائیں گے ؟

جواب: میں ذہنی صحت کا ایک سرگرم حامی ہوں۔ امریکہ اور پاکستان میں رہنے سے میں نے یہ دیکھا کہ معاشرے اور شناخت سے ذہنی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔ میں کئی سالوں سے ذہنی  صحت کے اداروں میں کام کر رہا ہوں۔ اس جد و جہد نے میری ذہنی صحت کے متعلق نقطہ نظر اور انداز کی بنیاد ڈالی۔ میں نے اپنی تعلیم یونیورسٹی آف شکاگو سے جنوبی ایشیائی زبانوں اور تہذیبوں میں حاصل کی۔ آج کل میں امریکہ میں رضاکارانہ طور پر جنسی ہراساں اور تشدد کے متاثرین کی مدد کرتا ہوں۔ انشاءاللہ عنقریب میں میڈیکل کالج شروع کروں گا تاکہ مستقبل میں ماہرِ نفسیات کا پیشہ اختیار کر سکوں۔

سوال: آپ نے کتاب  کے لیے بہت حسّاس موضوع  کا انتخاب  کیا۔۔۔ کیا  دل میں خدشات تھے کہ اسے رد کیا جائے گا یا آپ کو لوگوں کے  منفی رویّے کا سامنا کرنا پڑے گا؟

جواب: میرے دل میں خدشات ضرور تھے کیونکہ یہ ایسا نازک موضوع ہے جس پر ہمارے معاشرے میں گفتگو کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ لیکن مجھے پوری امید تھی کہ لوگ بچوں کے ساتھ زیادتی کے دردناک واقعات کی وجہ سے کتاب اور اس کے موضوع  کو سراہئیں گے۔ 

سوال: کیا آپ  سمجھتے  ہیں پاکستان میں  جہاں ان واقعات میں  روز بہ  روز  اضافہ ہو رہا ہے اس  موضوع  کو نصاب  میں شامل کرنا چاہیے؟

جواب :جی بالکل ہونا چاہیے بلکہ میرا نصب العین ہی یہی ہے کہ نہ صرف اس کتاب کو اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا جائے بلکہ گھروں، کتب خانوں وغیرہ میں بھی پڑھایا جائے۔ اس طرح یہ سبق بچوں کے دماغ میں پختہ ہو جائے گا اور اگر خدانخواستہ ان کو اس ناگہانی کا سامنا کرنا پڑے تو وہ کسی بڑے کو بتانے سے نہیں ہچکچائیں گے ۔

سوال:  نئے لکھنے والے جہاں انگریزی زبان میں لکھنے کو کامیابی کی ضمانت سمجھتے ہیں وہاں آپ نے اس کتاب کو لکھنے کے لیے اردو زبان کا کیوں انتخاب کیا؟

جواب:اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس دور میں انگریزی زبان کا سیکھنا بہت فائدہ مند اور منافع بخش ثابت ہوتا ہے۔ بدقسمتی کی بات لیکن یہ ہے کہ انگریزی نہ جاننا احساس کمتری کا باعث بن جاتا ہے جو کہ یقیناً برطانوی استعماریت کا نتیجہ ہے۔ خیر میرا کتاب کے ساتھ مقصد یہ تھا کہ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو یہ پیغام پہنچا سکوں۔ اردو کیونکہ ہماری قومی زبان ہے اور کیونکہ اس زبان میں اس طرح کی کتاب موجود نہیں تھی اس لیے میں نے اردو زبان کا انتخاب کیا۔ میرا ارادہ ہے کہ اسے انگریزی اور ہماری دوسری مقامی زبانوں میں بھی اختیار کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ آڈیو بُک بھی ہو تاکہ کوئی بھی اس سبق سے محروم نہ رہے۔

 سوال: یو ِ ِشاگومن مکتی”کے حوالے سے بتائیے کہ یہ ادارہ کیوں تشکیل دیا اور اس کے  اغراض و مقاصد کیا ہیں؟

جواب:اپنی یونیورسٹی میں میں نے “یوشِکاگو من مکتی” کے نام سے ایک فلاحی ادارہ قائم کیا جس کا مقصد جنوبی ایشیائی قوم کی ذہنی صحت کے مخصوص مسائل کو حل تھا۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے ہم نے مختلف سرگرمیاں منعقد کیں مثلاً ذہنی صحت کے مسائل کے متعلق دستاویزی فلم کی اسکریننگ، آگاہی کی مہم، ماہرینِ نفسیات کے ساتھ تبصرہ، یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ مل کر امدادی ذرائعے کی ارتقاوغیرہ وغیرہ۔

سوال: دیگر کیا مشاغل ہیں؟

جواب : مجھے بچپن سے گانے کا بے حد شوق ہے۔ آج کل میں گانے ‘آکاپیلا’ کی روپ میں گاتا ہوں جس میں تمام ساز کی آوازیں منہ سے بنائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مجھے مختلف زبانیں سیکھنے کا شوق ہے۔ بچپن میں جرمن سیکھی تھی اور آج کل ہسپانوی سیکھ رہا ہوں۔

سوال: پسندیدہ  مصنفین اور کتب کون سی ہیں؟

 جواب: نیر مسعود اور عصمت چغتائی کی کوئی بھی تصنیف۔

سوال: نئے لکھنے اور پڑھنے والوں کے لیے کوئی مشورہ یا نصیحت کرنا چاہیں گے؟

جواب: میں تو خود ایک نیا مصنف ہوں۔مشورہ یا نصیحت دینے کے قابل تو نہیں۔۔۔ بس میں نامور مصنف ٹونی مورسن کے الفاظ یہاں پیش کرنا چاہتا گا:

”اگر کوئی ایسی کتاب ہے جو آپ پڑھنا چاہتے ہیں لیکن وہ ابھی تک لکھی نہیں گئی، تو لازمی ہے کہ آپ اسے لکھیں۔“

سوال:  ادارے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: میں داستان کا مشکور ہوں کہ انہوں نے میری کتاب اور اس اہم و حساس موضوع کو ایک پلیٹ فارم دیا۔ جہاں دوسرے ناشر اس جیسی کتاب سے ہچکچائے وہاں انہوں نے اپنی بہادری اور روشن خیالی کے ساتھ آگے بڑھ کر ساتھ دیا۔

Daastanhttps://daastan.com/blog
Daastan is a literary forum working for revival of literature in Pakistan. We connect writers with opportunities for career growth.

Related Articles

منیب مسعود کی تحریر کردہ کتاب ادب و تنقید

ادب و تنقید مصنف: منیب مسعود تحریر: دِیا خان بلوچ منیب مسعود چشتی کا...

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

منیب مسعود کی تحریر کردہ کتاب ادب و تنقید

ادب و تنقید مصنف: منیب مسعود تحریر: دِیا خان بلوچ منیب مسعود...

What Does It Take To Make A Good Autobiography?

We all have stories to tell about our lives,...

لکی انسانی سرکس از جہانگیر بدر

لکی انسانی سرکس مصنف: جہانگیر بدر تحریر: دِیا خان بلوچ اگر کتاب...

Stay in touch!

Follow our Instagram