نورِ سحر از ماریہ شہزاد

ماریہ شہزاد کا تعلق لاہور سے ہے۔ انھوں نے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کی اور وفاق المدارس سے منسلک رہیں۔ ماریہ نے ناول نورِ سحر کےعلاوہ بہت سے افسانے اور ناولٹ بھی لکھے۔ وہ جذبات کو الفاظ کی صورت میں پرونے کے ہنر سے خواب واقف ہیں۔ مصنفہ کو منظر نگاری اور کردار سازی میں بھی بےحد مہارت حاصل ہے۔

اس کتاب میں مصنفہ نے بہترین منظر نگاری پیش کی ہے۔ جیسے یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

” آج نور پور گاؤں کا منظرپہلے سے زیادہ حسین لگ رہا تھا۔ سرسبز اونچے پہاڑ جوکہ اتنے دنوں سے بارش اور بادلوں کی لپیٹ میں تھےآج سورج کی روشنی میں جیسے نہا کرچمک گئے تھےاور گاؤں کے بیچوں بیچ بہتی خوبصورت ندی کا پانی بھی تیزی سےبہنے لگا تھا۔ اس میں سے ہلکا ہلکا ٹھنڈا دھواں نکل رہا تھا۔ “

مختلف کرداروں کی حامل یہ کہانی سادگی کے پیرائے میں لکھی گئی ہے۔ کسی بھی ناول میں زیادہ کرداروں کو مینج کرنا ایک مشکل کام ہے لیکن ماریہ نے اس میں ان کرداروں کو اس طرح بیان کیا ہے کہ ہر کردار قاری کے دل میں گھر کر جاتا ہے۔ کہانی ہے یحییٰ اور گلِ رعنا کے ایک ہونے کی۔۔۔ ان کے بچوں کے پراسرار اغوا کی۔۔۔

حذیفہ نے جیسے ہی منہ پر کمبل لیا اس کے ساتھ لیٹے ہوئےحسان نے کھینچ لیا۔

اوئے گدھے! تجھے کیا تکلیف ہے؟ کیوں تنگ کررہا ہے۔ خود تو تمھیں نیند نہیں آرہی۔اور مجھے۔۔۔ مجھے کیا باقی سب کو بھی نہیں سونے دے رہا۔

اب کی بار حذیفہ نے قدرے اُونچی آواز میں کہا کیونکہ وہ مسلسل تین دفعہ سے اسے تنگ کرچکا تھا۔ حسان نے اسے ٹانگ ماری اور غصے سے دوسری طرف کروٹ لےلی۔

اس کہانی میں ایک اور اہم کردار مصعب عثمان شاہ کا ہےجو کہ ایک قابل ہارٹ سرجن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک حسین مگر انا پرست شخص کے طور دکھایا گیا ہے۔ اس کی انا اس وقت ٹوٹتی ہے جب وہ عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی تک کا سفر طے کرتا ہے۔ 

اس ناول میں مصنفہ نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے ہوئے بہترین کردار نگاری کی ہے۔ کہانی کا طرزِبیان سادہ مگر دلچسپ ہے اور الفاظ کا چناؤ بھی اچھا ہے۔ چند سطور اور ملاحظہ ہوں۔

” بارش بالکل ختم ہوچکی تھی۔ آسمان پر ہلکی ہلکی بجلی چمک رہی تھی۔ باہر کا موسم جتنا سرد تھا اس سے بڑھ کر اندر کا موسم سرد ہوچکا تھا۔ پورے کمرے میں ہُو کاعالم تھا۔ علی، عبداللہ، زید اور ریان سب ایک دیوار کےساتھ سرجھکا کر بیٹھے تھے۔ “

نور سحر سے یہ سبق سیکھنے کو ملتا ہے کہ زندگی کا مقصد صرف اور صرف رضائے الٰہی کا حصول ہی نہیں بلکہ رحمٰن کے بندوں سے محبت بھی ہے۔ ہمارا مذہب ہمیں محبت، اخلاق اور حسنِ سلوک سکھاتا ہے۔ 

ماریہ شہزاد کے اس ناول کو آرڈر کرنے کےلیے اس لنک کو دبائیں۔

 

Related Articles

Top Book Publishers of Pakistan

In the diverse landscape of Pakistani literature, there are many top...

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Top Book Publishers of Pakistan

In the diverse landscape of Pakistani literature, there are...

Top 10 Book Publishing Companies in 2024

Book publishing companies in the vast realm of literature,...

مجمعے کی دوسری عورت از بشریٰ اقبال

بشریٰ اقبال ایک ادبی و سماجی شخصیت ہیں۔وہ مترجم...

Stay in touch!

Follow our Instagram