ہر سطر کسی حقیقی کتاب سے ہے، جو کسی پاکستانی مصنف نے لکھی۔ اقوال پڑھیے، کتاب تک پہنچیے — اور کہانی گھر لے جائیے۔
“ڈارلنگ، کہہ دو کہ تم میرا ساتھ دو گی اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو میرے لیے زندگی بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔”

“میں اکثرمحبت کے مارےکہہ اٹھتا : '' آپ اپنے سٹودنٹس کے سامنے تو انگلش بولتے ہیں، لیکن میرے انسسٹ کرنے پر بھی آپ میرے ساتھ انگلش نہیں بولتے۔”

“ہماری قسمت کے تالے کی چابی ہمارے اندر موجود ثابت قدمی ، ہمت، ذہانت اور اپنے حصے کی ذہنی و تخلیقی صلاحیتوں کا درست استعمال اور صبر ہوتی ہے۔”

“بچپن سے یہی چیزیں اس کے استعمال میں رہی تھیں اور کشاف زیادہ چیزیں بدلنے کا شوقین بھی نہیں تھا لیکن وہ اس چھوٹے سے کمرے میں لیٹا بہت بڑے بڑے خواب ضرور دیکھتا تھا۔”

“اس کی آنکھوں سے پھوٹنے والےکرب و تکلیف کا لاوا اس کے ماں باپو کو دکھائی دیتا تو وہ اس کے لبوں پر ھاتھ رکھ دیا کرتے۔”

“اس نظم کو مکمل کرنا میرے بس میں نہیں، رخصت کا آخری منظر صرف الوداع کہنے والی آنکھیں ہی بیان کرسکتی ہیں۔”

“اس لئےخلوت اور جلوت یعنی تنہائی اور سب کے سامنے آپ کا لین دین، رویّہ، کردار اور معاملہ ایک ہی طرز کا ہو؛اس میں منافقت نہ ہو، ہروقت حق تعالیٰ کا آئینہ دار ہو۔”

“جو انسان زندگی میں خود آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنےکام کو وقت پر انجام دیتا ہے وہی دولت کا حقدار ٹھہرتا ہے۔”

“۱۹۸۸ء میں مذہبی شدت پسندی اور نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے میری طبیعت خراب ہوگئی تو امی نے مجھے سمجھایا کہ زندگی کے ہر شعبے میں میانہ روی ضروری ہے۔”

“شاعری کے لگے بندھے انداز سے ہٹ کر میری نظمیں کسی کے طرزِتحریر سے متاثر ہو کر نہیں لکھی گئیں اور نہ ہی میں نے نظم میں کسی کی پیروی کی۔”

“نمازکا مقصد دن کو تقسیم کرکے اس کے استعمال کو یقینی بنانا، اللہ تعالی سے اپنے مشن پر قائم رہنے کی دعا اور مدد حاصل کرنے کا ذریعہ فراہم کرنا اور جسم کو صحت مہیا کرنا ہے۔”

Our authors, in their own words and in the press.
Read our exclusive interview with Alesha Faraz, exploring her life, experiences, & journey behind publishing her book "The crossing" with us.
The Sinking Wedding is Sara Amir’s latest work, in which she has used the themes of horror, fiction, mystery, adventure, and friendship as well. The plot is we-knitted and you will feel excitement at the end of each paragraph.
Read an in-depth blog on Hamood Butt, trader and market analyst, sharing real trading strategies, insights, & market psychology.
”یہ ڈھاکہ کالج کے قریب ایک پُرہجوم بازار تھا۔یہاں ضروریاتِ زندگی کی تمام چیزیں دستیاب تھیں۔یہ ہر طبقے کے لوگوں کی خریداری کے لیے سب سے مشہورجگہ تھی۔ایک بہت اچھی مارکیٹ تھی جہاں زیورات، بیگ، کپڑے، اسٹیشنری کی اشیاء، بیڈ شیٹس اور تکیے وغیرہ ملتے تھے۔“
Interview with author Faizan Jalal sharing insights on his book, inspiration, writing journey, and experience with publishing.
ہر کتاب کا ایک خانہ ادھورا ہوتا ہے اور اس ادھورے کونے کو قاری اپنے تصور کے رنگوں سے بھر دیتا ہے۔ بہت سی باتیں ان کہی رہ جاتی ہیں مگر سننے والا ان ان کہے الفاظ کا بھی مفہوم اخذ کرلیتا ہے اور اسی طرح بہت سی کہانیاں نامکمل ہوتی ہیں مگر دیکھنے والے کی نگاہ اسے مکمل کر دیتی ہے۔یہ کتاب ناتمام قصوں اور کہانیاں کا گھر ہے اور انھیں مکمل کرنے کا اختیار قاری کا تصور محفوظ رکھتا ہے۔
سلمان کا شعری اسلوب بےحد رواں اور منفرد ہے۔ اس کتاب میں ان کی یہی خوبی نمایاں ہے۔ انھوں نے بہت سے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے اور ان کے ہر شعر میں شاعری سے محبت جھلکتی ہے۔یہی نہیں بلکہ وہ کمال کی منظرنگاری پیش کرنے کا بھی ہنر جانتے ہیں
کتاب کا اسلوبِ بیان سادہ اوردلکش ہے۔ کتاب بنیادی طور پر چار حصوں میں تقسیم ہے جس کے پہلے حصے میں فورم اور سائیٹ سیورز کا تعارف اور نابینااور معذورقلم کار خواتین کا انٹرویو درج ہے۔ادب سے تعلق رکھنے والی مختلف عورتوں کے بارے میں پڑھ کر آپ جانیں گے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کس قدر مشکلات کا سامنا کیا مگر انھوں نے ہار نہیں مانی اور محنت اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھا۔دوسرے حصے میں محترمہ کشور ناہید کے انٹرویوکے ساتھ ساتھ مسلم ثانیثیت اور نسائی ادب اور تنقید شامل ہے۔
”اِک پرخیال“بنیادی طور پر بہت سی تحریروں پر مبنی ہے۔اس میں موجود دلچسپ مضامین قاری کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔اس کتاب کے ذریعے منیرہ قریشی نے دراصل قاری کو بہت اچھی اچھی نصیحتوں سے نوازا ہے۔ اپنے احساسات وخيالات کو لفظ کے پیرہن میں سموتے ”اک پرخيال!“ مختلف النوع موضوعات کا ایک ایسا آئینہ ہے جو فاضل مصنفہ کے دلی جذبات کا عکاس ہے