دریا پار ازڈاکٹر رشید احمد شادؔ

دریا پار ڈاکٹر رشید احمد شادؔ کی سوانح عمری ہے۔شادؔ ایک سلجھے ہوئے لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے شاعر بھی ہیں۔ان کی یہ کتاب دو حصوں پر مبنی ہےجس میں پہلا حصہ مصنف کی ذاتی زندگی اور دوسرا حصہ ان کی شاعری پر مشتمل ہے۔

شادؔ کا اسلوبِ بیان سادہ مگر دلکش ہے۔حقیقت پسندی اور سچائی ان کی نمایاں خصوصیات ہیں۔انھوں نے تقسیمِ ہند پر مبنی واقعات کو بھی قلم بند کیا ہے۔کیسے شادؔ اور ان کے گھر والے تقسیم کے بعد دریا عبور کر کے پاکستان پہنچے ان سب کا ذکر انھوں نے بخوبی کیا ہے۔ان کی کتاب کایہ اقتباس ملاحظہ کریں:

کئی دنو ں کا سفر کرنے کے بعدہمارا قافلہ دریائے راوی کے کنارے پہنچ گیا۔درمیان میں تھوڑا رک کر خواتین کھانا کھا لیتی تھیں اور پھرروانہ ہوجاتے۔جب دریائے راوی کے کنارے پہنچے تو دریا بھرپور سیلاب اور طغیانی کی حالت میں تھا۔کشتیاں وغیرہ تو تھیں نہیں، اس وجہ سے دریا کو پیدل ہی پار کرنا تھا۔

اس کتاب میں شادؔ کی ملازمت اور اعلیٰ تعلیم کا بھی ذکر ہے۔ان کی ازدواجی زندگی، ان کے بچوں اور رشتےداروں کا بھی ذکر موجود ہے۔

یہ کتاب ایک سفر نامے کی خصوصیت بھی رکھتی ہےکیوں کہ اس میں مصنف نے اپنے مختلف غیر ملکی دوروں کا ذکر کیا ہے جن میں بھارت، شام، برطانیہ، لبنان اور سعودی عرب سرِفہرست ہیں۔

فلپائن میں فیملی کے ساتھ رہتے ہوئے اچھا وقت گزرا۔بچوں نے سکولوں میں بہت اچھے نتائج دکھائے اور ان کی ٹیچرزبھی ان سے بہت محبت کرتی تھیں اور ہمارے سامنےا ن کی بہت تعریفیں کرتی تھیں۔بیگم اچھے کھانے بنانے کی وجہ سے مشہور ہوگئی تھی۔وہاں روٹی تو ملتی نہیں تھی اور نہ ہی بازار سے پاکستانی کھانے ملتے تھےاسی لیے جو لوگ فیملی کے بغیر رہتے تھے وہ ہمارے گھر آکر کھانا کھاتے تھے۔

شادؔ نے بےحد خوب صورت نظمیں بھی لکھی ہے جن میں الفاظ کا چناؤ قابلِ ستائش ہے۔انھوں نے مختلف موضوعات پر شاعری کی اور اپنے احساسات و تجربات بڑے ہی خوب صورت اندا ز میں قارئین تک پہنچائے ہیں۔ان کی نظموں میں طنزومزاح اور شیرینی کا امتزاج نمایاں ہے۔

یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:

ہے گراں بارا اگرچہ تیری جدائی لیکن
کیسے دستورِزمانہ کو بھلا ٹالیں گے

 

تھی میری بھول جو میں یہ سمجھا تھا
تجھ کو کھو کر تجھ سا کوئی پالیں گے

 

گردشِ وقت کی ہم سے نہ شکایت کرنا
جھڑکیاں تیری صنم آج بھی ہم کھا لیں گے

 

آنے والے کو کرتے ہیں سلام جھک جھک کر
جانے والے کو مگر گھاس نہیں ڈالیں گے

کتاب میں ڈاکٹر شادؔ اور ان کے عزیز و اقارب کی کئی دل چسپ تصاویر بھی موجود ہیں جو ان کی زندگی کے سفر کی ترجمانی کرتی ہیں۔میں سب کو تجویز کروں گی کہ اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔

Related Articles

Top Book Publishers of Pakistan

In the diverse landscape of Pakistani literature, there are many top...

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Top Book Publishers of Pakistan

In the diverse landscape of Pakistani literature, there are...

Top 10 Book Publishing Companies in 2024

Book publishing companies in the vast realm of literature,...

مجمعے کی دوسری عورت از بشریٰ اقبال

بشریٰ اقبال ایک ادبی و سماجی شخصیت ہیں۔وہ مترجم...

Stay in touch!

Follow our Instagram