نمرہ نورالصمد کا سفرنامہ

داستان کے  تمام مصنفین  ہمارے لیے بہت اہم ہیں ۔ہر مصنف اپنے ساتھ  دوسروں کوسکھانے کے لیے کچھ نہ کچھ نیا لاتا ہے۔ ہماری ایسی ہی ایک مصنفہ” نمرہ نورالصمد“   ہیں،  جو پیشے سے تو انٹیرئیر ڈیزائنر ہیں لیکن لکھنےمیں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ ان کا تحریر کردہ سفرنامہ  ”شہر کنارے“ حال ہی میں شایع ہوا ہے،  جو آذربائیجان کے دارلحکومت اور قدیم ثقافتی ورثے کے حامل شہر  ”باکو“ کے سفر کی دل چسپ داستان ہے۔ نمرہ ایک نئی مصنفہ ہیں اور ”شہر کنارے“ ان کی پہلی کتاب ہے،  اس کے باوجود ان کا انداز خاصہ  پختہ اور دل چسپ ہے۔ تو آئیے ملتے ہیں نمرہ سے!

السلام علیکم، نمرہ! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گی۔

نمرہ: وعلیکم السلام، الحمداللہ۔ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے اپنے بارے میں کچھ بتانے کا موقع دیا۔

سوال: آپ کو ہمیشہ سے سفر کا شوق رہا ہے، تو اب تک کہاں کہاں گھوم چکی ہیں؟ کوئی ایسا سفر جو ناقابلِ فراموش ہو؟

جواب:  ساؤتھ بالخصوص مڈل ایسٹ کے زیادہ تر ممالک گھومنے کا اتفاق ہوا ہے۔ دبئی کا جمیرہ بیچ پسندیدہ ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔ آذربائیجان کے ذریعے یورپ کی دریافت کا آغاز کیا۔ ۲۰۱۲ءمیں عمرے کی ادائیگی کا موقع ملا جو کہ اب تک کا ناقابل فراموش سفر ہے۔

سوال:  بچپن کیسا گزرا؟ بچپن کا کوئی پسندیدہ کھیل؟

جواب:  بچپن کم و بیش ویسا ہی تھا، جیسے نوے کی دہائی میں بڑے ہونے والے بچوں کا گزرا ہے۔ خوش قسمتی سے اس دور میں اسمارٹ فونز کا وجود نہیں تھا، اور ٹیبلیٹ کو صرف دوائی کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ کتابیں، رسائل پڑھنا، آرٹ اور کرافٹ بنانا ہی وقت گزاری کا ذریعہ تھے۔ بچپن کی سب سے قیمتی یاد اپنے نانا، نانی کے ساتھ گزار اہوا وقت ہے۔ پسندیدہ کھیل”کرکٹ“ہے جو کہ بہت کھیلا۔ بقر عید سے ذرا پہلے محلے کے بچوں کے ساتھ مل کر بکروں کی ریس لگانا بھی پسندیدہ مشغلہ تھا۔ (اگر اس کا شمار کھیلوں میں ہوتا ہے تو)۔

سوال:  تعلیمی دور میں، تعلیم سے ہٹ کر کیا مصروفیات تھیں؟ پسندیدہ مضمون؟

جواب:  اسکول کے زمانے سے کتابیں پڑھنے اور جمع کرنے کا شوق تھا جو آج بھی قائم ہے۔ میوزک سے خاصہ شغف تھا اور ہے۔ کالج کے ابتدائی سالوں میں شادی ہو جانے کے باعث،تعلیمی سفر،گھر ،بچوں کی ذمہ داریوں اور پڑھائی کو مینیج کرتے ہوئے گزارا،لہٰذا غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع نہ مل سکا۔ پسندیدہ مضمون کریٹیو آرٹس ہے۔ میوزک میں ڈگری لینا چاہتی تھی لیکن روایتی گھرانے سے تعلق ہونے کے باعث یہ خواب پورا  نہ ہوسکا۔

سوال:  لکھنے کا شوق کب اور کیسے پیدا ہوا؟

جواب:  لکھنے کا شوق نہ کبھی تھا اور نہ ہی ہے۔ ۲۰۱۷ء میں اپنی ڈیزائن کمپنی Zeen Interiors کی مارکیٹنگ کے لیے blogs لکھنے کا آغاز کیا۔ روزمرہ گفتگو کے دوران بے ساختہ جملوں اور انوکھی مثالوں سے قریبی افراد خاصے لطف اندوز ہوتے تھے۔ میری والدہ اور تزئین (میری نند) دونوں کا یہ اصرار رہا ہے کہ مجھے لکھنے کی طرف دھیان دینا چاہیے۔ ان دونوں کے زور دینے پر ڈرتے ڈرتے لکھنا شروع کیا تو واقعی یہ کام میرے لیے بہت آسان اور دلچسپ ثابت ہوا۔ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ بعض دفعہ قریبی افراد آپ کی صلاحیتوں کو آپ سے زیادہ بہتر جج کر لیتے ہیں۔

سوال: کیا کبھی ایسا لگا کہ لکھنا میرے بس کی بات نہیں، یا کسی بات کی وجہ سے ہمت ہاری ہو؟

جواب:  تعلیم، پوزیشن اور کیریئر کے درمیان ہونے والی ناکامیوں سے نہ کبھی دل برداشتہ ہوئی، نہ انھیں سر پر سوار کیا۔ وقتی افسردگی ہوئی مگر بعد میں جب ٹھنڈے دماغ سے غور کیا تو اپنی ہی کوئی بیوقوفی نظر آئی۔ ذاتی زندگی میں کچھ وقت ایسا ضرور تھا کہ جب لگا ہمت اور حوصلہ بس ختم ہونے کو ہے، مگر اللہ کی مہربانی سے وہ وقت بھی گزر گیا۔

سوال:  سفرنامہ لکھنے کا خیال کیسے آیا؟


جواب:  ویسے تو پہلے بھی مختلف جگہوں پر جانے کا اتفاق ہوا ہے مگر آذربائیجان کی خاصیت یہ تھی کہ قدرتی طور پر حسین ہونے کے ساتھ یہاں کےآثارِ قدیمہ دیکھنے کے لائق تھے۔ ہزاروں سال پرانی تاریخ کو یہاں کی حکومت نے بے حد اچھے طریقے سے محفوظ کیا ہے۔ سو سفرنامہ لکھنے کے لیے خاصہ مواد ملا۔ واپس آنے کے بعد کئی لوگوں نے یہ سوال کیا کہ باکو ہی کیوں؟ کوئی اور جگہ کیوں نہیں۔ اس بات کا جواب مختصراً دینا ممکن نہیں تھا، تو سوچا سفرنامہ کیوں نہ لکھ ڈالوں۔

سوال:  کیا کیا مشاغل رکھتی ہیں؟

جواب:  مشاغل وہی ہیں جن کا ذکر پہلے بھی کیا ہے  یعنی کتابیں پڑھنا، خریدنا اور جمع کرنا،  بچوں کے ساتھ play making اور فالتو اشیاء سے crafts بنانا اور گھر کی آرائش اور سجاوٹ کرنا۔ آخری مشغلہ اب میرا پروفیشن بھی ہے۔ اپنے کام کو میں بہت خوشی اور دل چسپی سے مکمل کرتی ہوں۔

سوال:  زندگی میں کیا کرنے کی جستجو ہے؟ زندگی کا مقصد کیا ہے؟

جواب:  کبھی پلاننگ کے تحت زندگی نہیں گزاری۔ جو سامنے آیا اسے خوش دلی سے قبول کیا۔ فی الحال اپنی چھوٹی سی Interior designing کمپنی کی ترقی کی خواہش مند ہوں۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آن لائن ڈیزائن سروسز سے متعارف کرانا اور مزید نئی سروسز کا اِجرا فیوچر پلانز میں شامل ہے۔ باقی رہا زندگی کا مقصد، تو ہر والدین کی طرح میری بھی یہی خواہش ہے کہ بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور اچھے انسان بنیں۔

سوال: پسندیدہ مصنفین اور کتب کون کون سی ہیں؟

جواب:  فہرست بہت طویل ہے ، اگر مختصراً  بتاؤں تو ”مونی محسن“کی”بٹرفلائی سیریز“ اور ”ڈیوٹی فری“ آل ٹائم فیورٹ ہیں۔ حمیدہ اختر حسین رائے پوری کی”ہمسفر“، مظہرالاسلام کی ”خط میں پوسٹ کی ہوئی دوپہر“ اور منٹو کی”ٹوبہ ٹیک سنگھ“وہ کتابیں ہیں جو بار بار پڑھی ہیں۔”ایلف شفق“،”اورھان پامک“اور فرحت اشتیاق کی ہر تحریر پسند ہے۔ پسندیدہ شاعر”فیض احمد فیض“ ہیں۔

سوال:  نئے لکھنے اور پڑھنے والوں کے لیے کوئی مشورہ یا نصیحت کرنا چاہیں گی؟

جواب:  کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے اگر اس کی مکمل تربیت حاصل کر لی جائے تو کام کا معیار بہت بہتر ہو جاتا ہے۔ لکھاری بننے کا ارادہ ہے تو رائٹنگ میں پروفیشنل ڈگری حاصل کر کے یا کریٹورائٹنگ کورسز کے ذریعے اپنی skill کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ پڑھنے اور لکھنے والوں کے لیے یہی صلاح ہے کہ کوشش کریں زیادہ سے زیادہ کتابیں پڑھیں۔ کسی ایک genre میں اپنے آپ کو قید نہ کریں۔ دوسری زبانوں کا ادب پڑھیں اس سے نہ صرف آپ کی سوچ کا دائرہ وسیع ہو گا، بلکہ الفاظ کے بہتر چناؤ میں بھی مدد ملے گی۔

سوال:  ادارے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟


جواب:  ادارے کے بارے میں رائے نہایت ہی عمدہ ہے۔ بہترین ٹیم کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ پبلشنگ کے حوالے سے مکمل guidance ملی۔ سب سے اچھی بات یہ تھی کہ پبلشنگ سے متعلق دیگر سروسز جیسے کہ کمپوزنگ، ٹائٹل ڈیزائننگ وغیرہ کے سلسلے میں بھی بھرپور تعاون حاصل رہا۔ یہ احساس بھی ہوا کہ ایک چھوٹی سی کتاب کو شایع کرنے میں کتنے لوگوں کی محنت شامل ہوتی ہے۔ اس بات کی خوشی ہے کہ اپنی پہلی کتاب کی اشاعت کے لیے میں نے  ”داستان پبلشنگ“   کا انتخاب کیا۔

نمرہ نورالصمد  آپ کا بے حد شکریہ کہ آپ نے اپنی مصروفیات میں سے اس انٹرویو کے لیے وقت نکالا، اور آخر میں ہم تمام پڑھنے والوں  سے کہنا چاہیں گے کہ  نمرہ کی کتاب ”شہر کنارے“  ضرور خریدیں۔ یہ دل چسپ کتاب  نا صرف آپ کی معلومات میں اضافہ کرے گی بلکہ آپ کو سفر پر بھی اکسائے گی۔  اپنا خیال رکھیے۔ اللہ حافظ۔

نمرہ نورالصمد کا سفرنامہ ”شہر کنارے“ ابھی اس لنک پر جاکر آرڈر کریں۔

https://www.meraqissa.com/book/1645  

Samin Qureshi
Samin Qureshi is an undergraduate Art student at NCA following her passion for writing through various online avenues. Samin takes a keen interest in empowering women and advocating for their rights. In her free time, Samin loves to cook and listen to old music.

Related Articles

منیب مسعود کی تحریر کردہ کتاب ادب و تنقید

ادب و تنقید مصنف: منیب مسعود تحریر: دِیا خان بلوچ منیب مسعود چشتی کا...

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

منیب مسعود کی تحریر کردہ کتاب ادب و تنقید

ادب و تنقید مصنف: منیب مسعود تحریر: دِیا خان بلوچ منیب مسعود...

What Does It Take To Make A Good Autobiography?

We all have stories to tell about our lives,...

لکی انسانی سرکس از جہانگیر بدر

لکی انسانی سرکس مصنف: جہانگیر بدر تحریر: دِیا خان بلوچ اگر کتاب...

Stay in touch!

Follow our Instagram