کرئیٹو رائیٹنگ ورکشاپ

لکھنے کی اہمیت سے کبھی  بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ آج  کے ڈیجیٹل دور میں بھی تحریر کا غلبہ جاری ہے۔  ایک لکھاری معاشرے کا ترجمان ہوتا ہے۔ وہ زندگی کےنشیب و فراز کو خوبصورت الفاظ میں ڈھالنے میں ماہر ہوتا ہے۔  انسان کے ذہن میں ایک چیز یا واقعے کے متعلق مختلف خیالات آتے ہیں۔ ان خیالات کو ایک تھیم کے ذریعے پیش کرنا کرئیٹو رائیٹنگ یا تخلیقی تحریر کہلاتا ہے۔  

داستان کی جانب سے آئی بی اے  سکھر  کے زیرِ انتظام  ”پبلک سکول حیدر آباد – بوائز “   میں دو روزہ ورک شاپ کا انعقاد ہوا۔ یہ سلسلہ عفیفہ اقبال صاحبہ کے توسط سےتکمیل تک پہنچا۔ اس میں پرنسپل  عمران لاڑک نے  بھی اہم حصہادا کیا۔ اس ورک شاپ میں طلباء کی تخلیقی تحاریرکو مزید بہتر بنانے کے لیے مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔داستان کی مایہ ناز  مدیرۂ اعلیٰ ”نرمین سرھیو“ (NarmeenSurahio) نے ناصرف اس پروگرام کو تشکیل دی بلکہ باقاعدہ اس ورک شاپ  کی سربراہی  بھی کی۔ انھوں نے سلائیڈز کے ذریعے  تخلیقی تحاریر کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ 

اس ورکشاپ میں ایک خاکہ ترتیب دیا گیا۔ کچھ طلباء کو چنا گیا اور انھیں ڈسکشن میں شامل کیا گیا۔  اس میں بتایا گیا کہ لکھنے کے تین مراحل ہوتے ہیں۔

پہلے مرحلے میں ریسرچ کی جاتی ہے۔ اس میں بنیادی ڈھانچہ تشکیل دیا جاتا ہے۔

دوسرے مرحلے میں اس میں کمی، اضافہ یا ترمیم کی جاتی ہے۔ 

تیسرے اور آخری مرحلے میں اس کی دہرائی کی جاتی ہےاور  مجوزہ مسودے کی کسی ماہر شخص سے نظرِ ثانی کروائی جاتی ہے۔  ورکشاپ میں ادب کی چار اصناف  کو بھی  زیرِ بحث لایا گیا۔ 

  • افسانوی فکشن
  • غیر افسانوی/نان فکشن
  • شاعری
  • دستاویز نویسی/ اسکرپ رائٹنگ

کرئیٹو رائیٹنگ  کے لیے ضروری ہے کہ رائٹر کا اندازِ سخن دلچسپ ہو۔ زبان کا خاص طور پر خیال رکھا جائے۔ زمانے کے مطابق زبان میں کچھ ترامیم ہوجاتی ہیں۔ لکھنے والے کا اندازِ تحریر اس طرح کا ہو کہ قاری کی سمجھ میں آئے۔  ایک حیرت انگیز عنوان کے بارے میں سوچیں جو کام کی وضاحت کرتا ہے اور اسی وقت پڑھنے والے کی دلچسپی کو بھی متاثر کرتا ہے۔آپ کی تحریرصرف الفاظ اور نظریات کا مجموعہ  ہی نہ ہو بلکہ جذبات کی بھی مکمل طور پرعکاسی کرتی ہو۔ 

اس ورکشاپ میں  چند سرگرمیاں کروائی گئیں۔  جس میں طلباءنے کافی جوش اور ولولے کا اظہار کیا ۔ ایک طالبِ علم نے اپنے خیالات کو نظم  میں ڈھال کر پیش کیا۔

سیکھی آج میں نے یہ چیز لکھائی
ورکشاپ میں عجب یہ موڑ لائی

سوالات کی بوچھار یوں آئی
آج تو محترمہ نرمین کی شامت آئی

مسئلہ یوں یہ حل نہ ہوگا
آپ نے جواب تو دینا ہوگا

ہماری  الجھنوں کو سلجھانا ہوگا
ہمیں کچھ انوکھا تو سِکھانا ہوگا

(زوہیب حیدر)

سب سے اہم سرگرمی ”دو سطری رسپانس“ کے نام سے کروائی گئی تھی۔ طلباء کو یہ ہدایت دی گئی کہ انھیں مختلف صورتِ حال دی جائیں گی اور انھیں اس حوالے سےاپنے  احساسات، خیالات  یا  تاثرات کو  دو جملوں میں مختصر اور جامع انداز میں  بیان کرنا ہوگا۔  مثالوں کے ذریعے انھیں یہ بھیوضاحت دی گئی  کہ ایسی صورتِ حال میں صرف ایک خیال، تاثر یا احساس  کو ہی اہم جان کر بیان کرنا  چاہیے۔ بہت سے طلباء نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔  انھوں نے دی گئی  مختلف صورتِ حال میں  اپنے جذبات کو الفاظ میں ڈھال کر پیش کیا۔ 

آخر میں نرمین سرھیو نے طلباء میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے، طلباء کا کتب بینی کا شوق انھیں داستان کی طرف سے لگائے گئے  بک سٹال تک بھی لے گیا۔ یوں یہ دو روزہ ورکشاپ کامیابی کے مراحل طے کرتے ہوئے اپنے اختتام کوپہنچی۔

Related Articles

آخری سانس تک ازمحمد جہانگیر بدر

ہمارے ملک میں ایسے کتنے ہی نوجوان ہیں جنھوں نے ملک...

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

آخری سانس تک ازمحمد جہانگیر بدر

ہمارے ملک میں ایسے کتنے ہی نوجوان ہیں جنھوں...

الفاظ کی طاقت از طوبیٰ ایمن

الفاظ بہت زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔ لفظوں کی طاقت...

مانا کہ ہم یار نہیں از کومل بھٹی

کومل بھٹی لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک باصلاحیت...

Stay in touch!

Follow our Instagram