جبرِ مسلسل محمد جہانگیر بدر کا ناول ہے۔ جہانگیر ایک آڈیالوجسٹ ہیں اور لکھاری بھی۔ انھوں نے مختلف موضوعات پر کہانیاں لکھی ہیں۔ان کی یہ کتاب مایوس ہوجانے والوں کو امید کی کرن تھماکر ترقی کا راستہ دکھاتی ہے۔ ناسازگار حالات اور اذیت ناک رویوں کے باوجود ذاتِ خداوندی پر توکل کرنے سے منزل مل ہی جاتی ہے۔جہانگیر بدر کا اندازِ بیان دلکش ہے۔ تحاریر میں خوب صورت کردار اور جذبات نگاری ان کا خاصا ہے۔جیسے یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
”وہ ایک ایسی جگہ پہنچ چکا تھا جہاں پہنچنےکے لیے اس نے دن رات ایک کر دیا تھا ۔وہ خوش تھا، بے انتہا خوش، لیکن تنہا وہ آج بھی تھا۔ وہ اکیلا آج بھی تھا۔ اس کے پاس نہ تو کوئی راستہ تھا واپس پلٹنے کا اور نہ ہی دوبارہ وہ کسی کا سامنا کرنا چاہتا تھا۔لیکن پھر بھی اس کے دل میں اپنوں کے ساتھ یہ خوشی شیئر کرنے کی جستجو جاگی تھی۔ اس کے اندر بھی اپنائیت بڑھی تھی پر وہ پھر سے دھتکارے جانے کے ڈر سے نہیں گیا تھا۔اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔“
فرح جسے سب پیار سے فری کہتے تھے ایک خوبصورت اور ذہین لڑکی تھی۔ وہ میڈیکل کی طالبہ تھی اور ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتی تھی۔ لیکن اچانک اس کی زندگی میں ایک حادثہ رونما ہوتا ہے جو اس کی زندگی کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔
دوسرا کردار رافع کا ہے۔ رافع ایک سلجھا ہوا اور سمجھ دار انسان ہے۔ وہ بھی میڈیکل کا اسٹوڈنٹ ہے لیکن تقدیر کچھ اس طرح پلٹا کھاتی ہے کہ اس پر زیادتی کا الزام لگ جاتا ہے۔ انسان کی زندگی میں مشکلات آتی رہتی ہیں اور یہ آزمائشیں انسان کو اور مضبوط بناتی ہیں۔ اس کہانی سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ انسان کو اگر کوئی مشکل پیش آجائے تو اسے فکر و نظر سے کام لے کر کارزارِ حیات کے تمام مسائل سلجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔کہانی میں موجود کرداروں نے بھی صبر کا مظاہرہ کیا اور منزل ِمراد پائی۔
”وقت گزرتا گیا لمحے لمحوں میں گزرے، پل پلوں میں گزر گئے، دن دنوں میں گزرنے لگے اور سال سالوں میں گزرتے چلے گئے اور وہ ایک محنت کش انسان اپنی محنت، لگن اور جستجو کی وجہ سے اپنے سی۔ ایس ۔ ایس کے امتحانات پاس کرنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔ یہ وہ وقت تھا جس کے لیے اس نے دن رات ایک کیا تھا جس کے لیے اس نے اپنا آپ داؤ پر لگا دیا تھا۔“
مشکلات و مسائل زندگی کا حصہ ہیں اور کبھی یہ اتنی شدت سے حملہ آوار ہوتے ہیں کہ انسان امید تک کھونے لگتا ہے مگر خدا پر کامل یقین رکھ کر مسلسل محنت کرنے والوں کے کامیابی قدم چومتی ہے۔ ناامیدی کی فضا میں امید دلاتی اس کتاب کو ابھی آرڈر کریں۔


