ایسا ہوا جینا – نوشابہ احمد

داستان کے تمام مصنفین ہمارے لیے بہت اہم اور قابلِ احترام ہیں۔ ہر مصنف اپنے ساتھ ہمیں سکھانے کے لیے بہت کچھ لاتا ہے۔ ہماری ایسی ہی ایک مصنفہ ”نوشابہ عرفان “ ہیں۔ جن کی آپ بیتی ”ایسا ہوا جینا“ حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ نوشابہ ایک نئی مصنفہ ہونے کے باوجود سادہ، رواں اور بےتکلف اسلوب کی مالک ہیں۔ اُن کی یہ کتاب ایسے حالات اور واقعات کا مجموعہ ہے جو ہمیں جینے کا ہنر سکھاتے ہیں۔ ان کی عام سی زندگی کی خاص کہانی کئی لوگوں کو جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔ تو آئیں نوشابہ اور ان کی کتاب کے بارے میں مزید جانتے ہیں۔

سوال: نام کس نے رکھا، اور اسی نام کے ساتھ لکھنے کو کیوں ترجیح دی؟

السلام علیکم اور شکریہ کہ آپ نے مجھے اپنے بارے میں کچھ بتانے کا موقع دیا۔

میرا نام ”نوشابہ احمد“ ہے کیوں کہ میرے ابا کا نام سید مبین الدین احمد تھا، اور اسی لیے ”احمد“ ہم سب بہنوں کے نام کے ساتھ لگا۔ یہ نام میرے دادا ابا نے رکھا تھا۔ ہم بہت ساری بہنیں ہیں اور ہم سب ہی کے نام دادا ابا نے رکھے۔ یہ ایک عجیب سی بات ہے کہ انسان کا کسی چیز پر اختیار نہیں۔ سب سے بڑھ کر تو اِس دنیا میں آنے پر بھی اُس کا اختیار نہیں، سب اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ کب آنا ہے، کس کے گھر آنا ہے سب اللہ کی مرضی ہوتی ہے۔ آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کے ماں باپ کون ہونے والے ہیں۔ اس میں آپ کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا بس آپ ان کے یہاں پہنچ جاتے ہیں۔ نام جو ساری عمر آپ کی سب سے زیادہ ذاتی چیز ہوتی ہے، آپ کی پہچان اور شناخت ہوتی ہے اسی میں آپ کی کوئی مرضی شامل نہیں ہوتی۔ میرا نام جو نوشابہ رکھا گیا یہ مجھے بالکل بھی پسند نہیں تھا۔ کیوں کہ مجھے کبھی اپنے اسکول کے زمانے میں بھی نوشابہ نام کا کوئی نظر نہیں آیا تھا،  میرے کالج میں بھی اس نام کی کوئی ایک یا دو ہی تھیں لیکن وہ بھی کسی دوسرے سیکشن میں اور یونی ورسٹی میں بھی کوئی ہم نام نہیں ملا۔ نوشین نام ملتا تھا نوشینہ بھی ملا لیکن نوشابہ نہیں تھا۔ بلکہ مجھے اپنے میٹرک کرنے کے بعد یہ افسوس ہوا کہ اگر مجھے یاد رہتا تو میٹرک کے فارم پر اپنا نام تبدیل کروا لیتی، اسے نوشینہ کروا لیتی۔ یہ بہت ہی حیرت کی بات ہے کہ کافی عمر گزر جانے کے بعد، اپنے ٹیچنگ کیریئر کے دوران بچوں میں مجھے اپنا نام ملا۔ میری ایک اسٹوڈنٹ نوشابہ زبیر ہوتی تھی اور ایک نوشابہ بھٹو۔ یہ دو بچیاں مجھے میری ہم نام ملیں۔ خیر اب مجھے یہ نام برا نہیں لگتا اب لگتا ہے کہ بس یہی میرا نام ہے۔ گھر میں مجھے نوشی کہا جاتا ہے۔ کافی عرصے تک تو میں اپنا نام کسی کو بتایا بھی نہیں کرتی تھی، سب کو نوشی ہی بتاتی تھی۔ بہت سے لوگوں کو تو پتا بھی نہیں تھا کہ میرا اصلی نام  نوشابہ ہے۔ لیکن بس ایک عمر ہوتی ہے جس میں دنیا کی ساری چیزیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ کسی چیز سے نہ تو الجھن رہتی ہے اور نہ ہی بہت زیادہ انسیت۔ تو بس یہی ہوا کہ اب یہ نام ٹھیک لگنے لگا ہے۔ اور کیوں کہ یہ نام مجھے ٹھیک لگنے لگا تو اسی لیے سوچا کہ اسی نام کے ساتھ لکھوں۔ اس نام کے اچھا لگنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ شادی کے بعد میرا نام تبدیل ہوکر ”نوشابہ عرفان“ ہوگیا۔ عرفان میرے شوہر کا نام ہے تو اپنا مکمل نام ”نوشابہ عرفان“ اچھا لگتا ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ میں ٹیچنگ کے عرصے میں ہزار ہا بچوں سے ملی اور کتنے ہی کولیگز سے واقفیت رہی تو اب سب مجھے نوشابہ عرفان کے ہی نام سے جانتے ہیں۔ اس لیے بھی چاہا کہ اب جو شناخت بن گئی ہے اسے برقرار رکھنا چاہیے۔

۔  

 بچپن کیسا گزرا؟ بچپن کی کوئی پسندیدہ یاد؟

میرا بچپن بھی بالکل ویسا ہی بچپن تھا جیسا کہ عام بچوں کا ہوتا ہے۔ یہ بات میں کھیلوں کے حوالے سے کہہ رہی ہوں۔ جیسے سب بچیاں گھروں میں کھیلتی ہیں، گڑیوں سے کھیلتی ہیں اور ڈرامے کرتی ہیں، میں بھی یہی سب کیا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ چھتوں پر آنا جانا، دیواروں پہ چڑھنا اور ریت پہ چھلانگیں لگانا بھی پسند تھا۔ غرض کہ outdoor اور indoor جو جو کھیل میسر آئے سب کھیلے۔ دراصل مجھے کھیلوں کا ہی شوق تھا۔ میں تو پڑھائی سے دور بھاگنے کے بہانے ڈھونڈتی تھی۔ لیکن رسالے اور کتابیں بہت شوق سے پڑھتی تھی۔ ان چیزوں کے  علاوہ جو کام میں بہت شوق سے کرتی تھی وہ سائنسی تجربے تھے۔ وہ میں نے بہت کیے۔ پانی کے گلاس بھر کے، اس میں  سوئی ڈال کر اوپر کاغذ رکھ دیں پھر  بیچ میں سے اگر کاغذ ہٹا دیں اور گلاس کو الٹا کر دیں تو سوئی تیرتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور تجربہ بھی تھا، جس میں پورا گلاس بھر کے اس پر کاغذ لگا کر گلاس الٹا کریں تو پانی نہیں گرتا اور اس کے اوپر تیرتا رہتا ہے۔ یہ دونوں تجربات ویکیوم سے تعلق رکھتے تھے۔ اس قسم کی چیزیں اور وہ رسیوں والے کھیل، جس میں رسی کے دونوں سرے آپس میں باندھ کر دونوں ہاتھوں کے درمیان رسی کی بہت ساری چیزیں بنائی جاتی ہیں، میں بہت شوق سے کھیلتی تھی۔ اس کا جھولا بھی بن جاتا ہے۔ مجھے خیال آرہا ہے کہ لوڈو کھیلنا بھی مجھے بہت پسند تھا۔

  تعلیمی دور میں، تعلیم سے ہٹ کر کیا مصروفیات رہیں؟ 

تعلیمی دور میں ایک تو یہ تھا کہ کھیلوں میں بہت دل لگتا تھا۔ پھر جب میں بڑی ہوئی اور فرسٹ ایئر میں پہنچی، اس وقت ہاتھ دیکھنے، دکھانے اور ستاروں کا حال جاننے میں بہت دل چسپی تھی۔ بچپن سے جو ایک چیز ساتھ ساتھ ہے، وہ پڑھنا اور پڑھانا ہے۔ پڑھائی کےعلاوہ ہر طرح کے ناول کتابیں پڑھنا۔ پہلے تو بچوں کی کہانیاں پڑھتی تھی، پھر درمیان میں افسانے اور ناول، پھر تھوڑا آگے جا کے ادبی کتابیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ترجیحات بدلتی رہیں۔ عمر کے ساتھ ساتھ کتابوں کے موضوعات بدلتے رہے لیکن پڑھنے لکھنے کا شوق ہمیشہ رہا۔ اس کے علاوہ ایک شوق تھا جو شاید چھوٹی عمر میں سب کو ہوتا ہے اور وہ تھا ٹی وی دیکھنا اور گانے سننا۔ اس کے علاوہ لکھنے کا شوق تو مجھے بچپن سے تھا، اپنے دماغ سے کہانیاں بنایا کرتی تھی۔ لیکن لکھنے کا موقع اس طرح شاید بچپن میں نہیں ملا تھا۔ میٹرک انٹر وغیرہ میں جاکے نظمیں اور شاعری لکھنا شروع کیا۔ دماغ میں یہ تھا کہ میں لکھ سکتی ہوں اور کبھی نہ کبھی تو مجھے لکھنا ہے۔ وہ جو ایک چیز دل میں طے کی ہوئی تھی، اب جاکر پوری ہوئی اور یہ کتاب لکھ ڈالی۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ میں نے شاعری زیادہ لکھی ہے۔ شادی کے بعد جب میں بحریہ کالج میں جاب کر رہی تھی، تو مجھے اچانک شاعری کا شوق ہو گیا تھا اور ہر موقع پر خودبخود شعر بن جاتے تھے۔ کہیں باہر نکلے تو راستے میں شاعری ہوگئی، کسی نے کچھ کہہ دیا اس پر شاعری ہوگئی۔ پھر یہ ہوا تھا کہ میری کولیگز میں سے کوئی مجھے ایک لفظ دے دیا کرتا تھا کہ چلیں اس پر شاعری کریں۔ پھر جب لوگوں کے لیے لکھنا شروع کیا تو سہرے اور رخصتیاں تک خودبخود لکھتی چلی گئی۔ میرے خیال میں جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کو جو چیزیں کرنی ہوتی ہیں یا اللہ تعالیٰ نے اس سے کروانی ہوتی ہیں وہ اس کے اندر رکھ دی جاتی ہیں، تو بس مجھ میں بھی تھی کہ مجھے لکھنا ہے اور میں بس لکھتی رہی۔ ہاں کالج کے زمانے میں لکھنے کا یہ فائدہ بھی ہوا کہ تھوڑا کالج میگزین میں لکھا پھر جو ٹیلنٹ شوز وغیرہ ہوتے تھے تو اس میں بچوں کے لیے ڈرامے اور نظمیں وغیرہ لکھیں، کبھی ٹیبلو وغیرہ کے لیے کچھ لکھ ڈالا، پھر اسی طرح جہاں جہاں ضرورت پڑی کبھی مورننگ اسمبلی میں تو کبھی کلاس میں۔ جہاں جہاں لکھا کام آیا۔ چوں کہ یہ میرا شوق تھا اور کوئی زور زبردستی نہیں ہوتی تھی، کبھی یہ نہیں ہوا کہ کوئی کام کرتے ہوئے لگا کہ یہ کیسے ہو گا یا کیسے کروں گی۔ بلکہ جب جب قلم کا سہارا لینے کی ضرورت پڑی بہت آرام سے لیا۔

 کیا کبھی ایسا لگا کہ شاعری کرنا میرے بس کی بات نہیں، یا کسی بات کی وجہ سے ہمت ہاری ہو؟

ہمت تو خیر کبھی بھی نہیں ہاری کیوں کہ جس چیز کا شوق ہو جاتا ہے اس میں تو ہمت ہارنے  کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میراکتاب لکھنے کا یہ تجربہ بہت اچھا اور دل چسپ رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی جو چیزیں میں اپنے کالج میگزین میں لکھتی رہی ہوں اور لوگوں کے لیے جو شاعری کرتی رہی ہوں، سب اچھا ہی رہا۔ کبھی ہمت نہیں ہاری، یہ نہیں لگا کہ میرے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ چیز میرے دماغ میں تب آتی تھی جب میں پڑھائی کر رہی ہوتی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ اسٹیڈیز میرے بس کی بات نہیں ہے، لیکن پھر پڑھ ہی لیا۔

شاعری کے علاوہ، کیا کیا مشاغل رکھتی ہیں؟

 آج کل کے زمانے میں تو کسی سے اگر یہ پوچھا جائے کہ وہ کیا مشاغل رکھتا ہے تو میرا خیال ہے کہ نوے پچانوے نہیں تو کم از کم اسی  فیصد لوگ تو یہی کہیں گے کہ ان کے سارے مشاغل کا دارومدار انٹرنیٹ پر ہے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔

ہم لوگوں کو لگتا ہے کہ ساری دنیا فون کے اندر ہی ہے۔ لوگوں سے ملنا، ان سے باتیں کرنا، ان کی باتوں کو سمجھنا اور اپنی چیزیں بتانا یہی سب چل رہا ہے، اور حقیقی معنوں میں میری زندگی کا مشغلہ لوگوں سے ملنا ہی ہے۔ میرا سب سے زیادہ انٹرسٹ لوگوں میں ہوتا ہے۔ مجھے لوگوں کی شاپنگ میں دلچسپی نہیں ہے، لوگوں کے گھروں میں دلچسپی نہیں ہے، لوگوں کے کپڑوں میں بھی دلچسپی نہیں ہے، میں ان سب چیزوں کو سراہتی ضرور ہوں لیکن مجھے سب سے زیادہ مزہ لوگوں کی باتوں میں آتا ہے۔ لوگوں سے ملنا، یہ میرے لیے کچھ پروفیشنل ہے۔ یہ کرونا وائرس تو اب آیا ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو کافی عرصے سے لوگوں نے ملنا اور آمنے سامنے بیٹھ کر باتیں کرنا کم کردیا ہے۔ فون پر رابطہ رکھنا اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے حال سے واقف رہنا بس یہی سب چل رہا ہے۔ لہٰذا یہی سب کچھ میرے ساتھ بھی ہے۔ اس کے علاوہ بچپن سے اب تک کتابیں پڑھنے کا مشغلہ ساتھ ہے۔ مجھے کپڑے سینے کا شوق ہے، جو میں مشغلے کے طور پر کرتی ہوں اور وہ اب بھی جاری ہے۔ میں گھر کے کاموں کو بھی مشغلے کے طور پر کرتی ہوں۔ مجھے گھومنا پھرنا بے انتہا پسند ہے۔ نئی نئی جگہوں پر اور لانگ ڈرائیو پر جانے کا مجھے بہت شوق ہے۔ یہ بات عجیب ہے لیکن میں کہا کرتی تھی کہ مجھے اگر بس میں بھی سیٹ مل جائے تو بھی میں بیٹھ جاؤں گی۔ لمبا سفر ہو اور موسم بھی اچھا ہو تو میں تو بس میں بھی انجوائے کرتی تھی۔ میں نے کبھی چیزوں کو سر پر سوار نہیں کیا جو کیا شوق سے کیا۔ اگر میں کھانا بھی پکاؤں گی تو وہ بھی میرے لیے ایک دل چسپ سا کام ہوگا۔ دیکھا جائے تو میں زندگی کو الگ طریقے سے انجوائے کرتی ہوں۔ سب کام چاہے وہ کچن کے کام ہوں، ٹی۔ وی دیکھنا ہو، کتابیں پڑھنی ہوں، فیس بک چیک کرنی ہو، لوگوں سے باتیں کرنی ہوں یا کپڑے سینے ہوں یہ سب میرے لیے مشاغل ہی ہیں۔

زندگی میں کیا کرنے کی جستجو ہے؟ مقصدِ حیات کیا ہے؟

میرے نزدیک زندگی گزارنے کا سب سے بڑا مقصد خوش رہنا اور خوش رکھنا ہے۔ لوگوں کو خوش رکھو اور خود بھی خوش رہو۔ زندگی کو بوجھ نہ سمجھو اور ہر کام کو پوری توجہ سے کرو، یہی میری زندگی کا مقصد ہے۔ اب کوئی اتنی لمبی چوڑی زندگی باقی نہیں ہے کہ میں کچھ نیا پلان کروں مگر اب جو بھی زندگی بچی ہے اسے اچھی طرح گزارنے کا ارادہ ہے۔ ایک کام جو میں نہیں سمجھتی تھی کہ اتنی آسانی سے ہو جائے گا وہ ہو بھی گیا، کتاب لکھ بھی گئی اور شائع بھی ہو گئی۔ میں نے اپنی زندگی بہت زیادہ پلان کر کے نہیں گزاری۔ صرف ایک جستجو رہی ہے کہ کچھ اچھا کروں اور کرتی رہوں۔ یہ چاہتی ہوں کے مجھ سے وابستہ جتنے لوگ ہیں سب خوش رہیں اور جب میں اس دنیا سے جاؤں تو اپنے آس پاس کے لوگوں کو خوش اور مطمئن دیکھ کے جاؤں۔ اب زندگی کی یہی جستجو ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں چاہیے۔ آپ کچھ بھی کرلیں لیکن آخر کار آپ کو یہ دنیا چھوڑ کر چلے جانا ہے۔ تو اب یہی آرزو رہ گئی ہے کہ جب اللہ تعالی کے یہاں پہنچوں تو بہت اچھا استقبال ہو، اب یہی زندگی کا مقصد ہے۔

پسندیدہ مصنفین اور کتب کون کون سی ہیں؟

میری پسندیدہ ترین مصنفہ ”قرۃالعین حیدر“ ہیں۔  مجھے ان کا ناول ”آگ کا دریا“ اس قدر پسند ہے کہ کئی دفعہ پڑھا ہے۔ وہ ناول ڈھائی ہزار سال پر محیط ہے۔ میں اس کی کہانی تک بتا سکتی ہوں کہ کہاں اور کب انہوں نے کس کو جوڑا ہے۔ پھر مجھے ”شہاب نامہ“ بھی بےانتہا پسند ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے کچھ عجیب سا محسوس ہوتا ہے۔ پاکستان کے حالات سے واقفیت بھی ہوتی ہے، ان پر افسوس بھی ہوتا ہے اور دعائیں بھی ہوتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ جلد از جلد سب ٹھیک کر دے۔ دراصل کتابوں کے نام سے ہی مصنفین کا تعارف ہوتا ہے۔ مجھے ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“، جو ”صدیق سالک“ کی کتاب ہے،  بہت زیادہ پسند ہے۔ پھر ”بانو قدسیہ“  پسند تھیں۔ ان کی کتاب ”عروہ“ مجھے بہت پسند آئی۔ اور نئے لکھنے والوں میں ”عمیرہ احمد“ کی میں بڑی مداح ہوں کیوں کہ وہ ایسی کتابیں لے کر آئی جس کی بدولت لوگوں نے دوبارہ اردو پڑھنا شروع کیا۔ مجھے ”جاوید چوہدری“ کے کالمز سے بھی خاصی دل چسپی ہے۔ ان کے کالمز کی سب کتابیں (جو مکمل آئے ہیں) میرے پاس موجود ہیں۔ پہلے اخبار میں ان کی تحریریں بہت شوق سے پڑھا کرتی تھی اور اب بھی جہاں موقع ملتا ہے انھیں سنتی ہوں۔ خاص طور پر ان کے تجزیے مجھے بہت پسند آتے ہیں۔

  نئے لکھنے اور پڑھنے والوں کے لیے کوئی مشورہ یا نصیحت کرنا چاہیں گی؟

نئے لکھنے والوں کے لیے میری ایک ہی نصیحت ہے کہ وہ جو بھی لکھیں اپنے شوق سے لکھیں۔ اس خیال سےنہ لکھیں کہ لوگ پڑھیں گے کیوں کہ اس طرح مشکل ہو جاتی ہے۔ میرا تجربہ رہا ہے کہ جس طرح میں سمجھتی تھی کہ لوگ میری کتاب پڑھنا چاہیں گے، اس طرح نہیں ہو پایا۔ کیوں کہ میری کہانی کوئی قصہ نہیں تھی، وہ میری آپ بیتی تھی اور مجھے ایسا لگتا تھا کہ لوگ پڑھیں گے۔ لہٰذا میں سمجھتی ہوں کہ لوگوں کا سوچ کر نہ لکھا جائے۔  میں نے بھی اپنے شوق سے لکھا،  جو شاعری کی وہ سب شوق میں ہی کی۔ اس لیے مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ کوئی سن رہا ہے یا نہیں، پڑھ رہا ہے یا نہیں۔ ہاں کتاب لکھنے کے بعد تھوڑا سا دل چاہ رہا تھا کہ لوگ خریدیں، لیکن اب یہ سمجھ میں آرہا ہے کہ یہ اتنا خاص نہیں رہا۔  کہتے ہیں نا کہ فون بہت ساری چیزوں کو کھا گیا ہے۔ ان چیزوں میں یہ کتابیں بھی ہیں۔ ہاتھ میں کتاب لے کے پڑھنے والی عادت اب لوگوں میں نہیں رہی ہے۔ تو نئے لکھنے والوں کے لیے میری یہی نصیحت ہوسکتی ہے کہ جو بھی لکھیں شوق سے لکھیں یہ سوچ کر نہ لکھیں کہ اسے بہت سارے لوگ پڑھیں گے اور آپ کو سراہیں گے۔ ہاں جو پڑھیں گے وہ سراہیں گے کیوں کہ جو بھی لکھتا ہے سوچ سمجھ کر اچھا ہی لکھتا ہے۔ ہمارے سامنے ہر طرح سے ادب آرہا ہے بس پڑھنے والے لوگ بہت کم رہ گئے ہیں اور جو پڑھنے والے لوگ ہیں ان کے لیے یہی نصیحت ہے کہ وہ جو بھی پڑھیں اور ان کو اچھا لگے اس کو آگے ضرور پہنچائیں، یعنی مصنفین تک اپنی رائے ضرور پہنچائیں۔ کیوں کہ انسان کی فطرت ایسی ہے کہ وہ تعریف کا ہمیشہ خواہش مند رہتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ اس کی تعریف ہی کی جائے، تاکید بھی ایک طرح کا سراہنا ہی ہوتا ہے کہ کسی کی تحریر کو اتنی اچھی طرح پڑھا کہ اس کی خامیاں بھی ڈھونڈ لائے۔ آپ نے اس کو پڑھا ہے تبھی تو آپ بتا رہے ہیں کہ اس میں کس چیز کی کمی ہے کون سی چیز کیسی ہونی چاہیے تھی، یہ بھی ایک طرح اسے سراہنا ہی ہوتا ہے۔ مصنفین چاہتے ہیں کہ ادب میں تنقید و تعریف دونوں ان تک پہنچیں۔ تو ضروری ہے کہ ان کو یہ دونوں باتیں بتائی جائیں۔ جو لکھنے والے ہیں وہ یہ سوچ کر نہ لکھیں کہ لوگ پڑھیں گے، اور جو پڑھ رہے ہیں ان کے لیے ایک چھوٹی سی نصیحت یہ ہے کہ اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیا کریں۔  

ادارے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

 داستان پبلشرز سے میرا رابطہ ہونا تو میرے لیے بہت ہی خوش قسمتی کی بات تھی۔ میں اس معاملے میں اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھتی ہوں کہ میرا ان سے رابطہ ہوا۔ الحمدللہ ان کے ساتھ میرا بہت اچھا تجربہ رہا ہے۔ میرے سب کام بہت اچھی طرح ہوئے۔ اور کتاب کے شائع ہونے میں جو وقت لگا اس میں میری طرف سے بھی کچھ کوتاہیاں تھیں اور جب پبلشنگ کا ٹائم آیا تھا تو پوری دنیا کے حالات اچانک تبدیل ہورہے تھے۔ اسی لیے اس کے چھپنے میں بھی اتنی تاخیر ہوئی۔ یہاں پر میں یہ بھی بتا دوں کہ مجھے یہ خیال تھا کہ لوگوں نے کتاب اس طرح نہیں لی جیسا مجھے  لگ رہا تھا۔ وہ پڑھنا تو شاید چاہتے ہیں منگوانا بھی چاہتے ہیں لیکن دنیا کے حالات ہی اتنے مختلف ہوگئے  کہ میری اس کتاب کی طرف زیادہ توجہ نہیں دے پارہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس میں ادارے کی کوئی معمولی سی بھی خطا نہیں ہے ساری چیزیں حالات کی وجہ سے ہوئیں۔ اور دوسری بات یہ کہ میں اس بات کو دل سے مانتی ہوں ”جس کام کا جو وقت مقرر ہے اس سے آگے پیچھے نہیں ہوتا“ تو کتاب جب چھپنی تھی، جب آنی تھی، جب جہاں پہنچنی تھی اسی طرح پہنچی ہوگی۔ لیکن مجھے اس کے شائع ہونے کی بہت زیادہ خوشی ہے۔  بہت اچھا لگتا ہے جب لوگ آپ ہی کی طرح سوچتے اور سمجھتے ہیں۔ مجھے ایسے لوگوں سے بات کرنا اور ان سے رابطہ رکھنا بہت پسند ہے۔ یہاں مجھے ہر سہولت ملی، تو یہ بھی اللہ تعالی کی مجھ پر ایک مہربانی ہے کہ مجھے داستان والوں سے ملوا دیا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی تمام لوگوں کو، جو اس ادارے سے وابستہ ہیں، ہمیشہ خوش رکھے، اور اس ادارے کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی عطا کرے۔ آمین ثم آمین۔

آمین۔ نوشابہ آپ کا بے حد شکریہ کہ آپ نے اپنی مصروفیات میں سےاس انٹرویو کے لیے وقت نکالا، اور آخر میں، ہم تمام پڑھنے والوں سےکہنا چاہ‍یں گے‍ کہ آپ سب نوشابہ عرفان کی کتاب ضرور خریدیں، یہ آپ کو زندگی کو ایک نئے رخ سے دیکھنا سکھائے گی
اور آپ کے نقطۂ نظر کو مزید وسعت عطاکرے گی۔ اپنا خیال رکھیے۔ اللّہ حافظ

نوشابہ عرفان کی آپ بیتی”ایسا ہوا جینا“ ابھی آرڈر کریں۔

Buy Now

Samin Qureshi
Samin Qureshi is an undergraduate Art student at NCA following her passion for writing through various online avenues. Samin takes a keen interest in empowering women and advocating for their rights. In her free time, Samin loves to cook and listen to old music.

Related Articles

منیب مسعود کی تحریر کردہ کتاب ادب و تنقید

ادب و تنقید مصنف: منیب مسعود تحریر: دِیا خان بلوچ منیب مسعود چشتی کا...

Comments

  1. Very candid and super simple way of sharing her thoughts about her life, good job Noushaba Irfan
    Keep writing your experiences don’t stop here
    !اللہ کرے زور قلم اور بھی زیادہ
    Good luck ❤️

  2. نوشابہ سے میری ملاقات تیس بتیس برس قبل اس وقت ہوئی جب انھوں نے بحریہ کالج کراچی میں ملازمت شروع کی میں چونکہ اس سے پہلے سے وہاں موجود تھی اس طرح زہنی ہم آہنگی گہری دوستی میں بدل گئی ہم دونوں کی کچھ دلچسپیاں مشترکہ تھیں جیسے کپڑے ڈیزائین کرنا اور سینا ، جنگ اخبار کے کالموں پر تبصرے اور کتابوں کا مطالعہ وغیرہ ۔ اتنی دوستی کے باوجود مجھے نوشابہ کے بچپن کے متعلق زیادہ تفصیلات کا علم نہیں تھا ان کی کتاب کے مطالعے نے مجھے ان کو سمجھنے میں بڑی مدد دی انتہائی دردمند دل رکھنے والی نوشابہ ہر ایک سے اتنی محبت اور خلوص سے کیوں ملتی تھی اس کے پیچھے بچپن کی محرومیاں چھپی ہوئی تھیں یہ بھی شکر ہے کہ اس نے ان محرومیوں کو مثبت طریقے سے لیا اور اس کا بدلہ دوسروں سے لینے کے بجائے اپنی محبتیں سب پر نچھاور کر دیں اللہ کا شکر ہے کہ آج وہ ایک پرسکون اور خوشگوار زندگی بسر کر رہی ہیں ۔ اللہ انھیں ہمیشہ شاد و آباد رکھے آمین شو مئی قسمت کہ جب وہ امریکہ سدھاریں تو میں بھی اس سے پہلے وہاں پہنچ چکی تھی اس طرح دوستی اور میل جول وہاں بھی برقرار رہا اللہ ہماری اس دوستی کو تا دم مرگ قائم رکھے آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

منیب مسعود کی تحریر کردہ کتاب ادب و تنقید

ادب و تنقید مصنف: منیب مسعود تحریر: دِیا خان بلوچ منیب مسعود...

What Does It Take To Make A Good Autobiography?

We all have stories to tell about our lives,...

لکی انسانی سرکس از جہانگیر بدر

لکی انسانی سرکس مصنف: جہانگیر بدر تحریر: دِیا خان بلوچ اگر کتاب...

Stay in touch!

Follow our Instagram