ہر سطر کسی حقیقی کتاب سے ہے، جو کسی پاکستانی مصنف نے لکھی۔ اقوال پڑھیے، کتاب تک پہنچیے — اور کہانی گھر لے جائیے۔
“ہم چاروں بھائی گھنٹوں ان خطوط کو پڑھ کر امی کی بے مثال زندگی،جدوجہد اور قربانیوں کو یاد کرتے اور ان کی مغفرت کی دعا کرتے۔”

“کامل علی کے نام لکھی گئی نظم، جب وہ بارہ سال کا ہواتھا جو کہ ١٩٨٦ کا سن تھا اور اب ٢٠١٧ء میں ماشاء اللہ اس کا بیٹا بارھویں سال میں لگا ہے۔”

“اس کی عقل کو شیطان دلیلیں دینے لگا تھاکہ وہ اس مقابلے کی دنیا میں پیچھے رہ گیا ہے، ناکام ہو رہا ہے اورپرانے دور میں جا رہا ہے جبکہ دنیا بہت آگے جا چکی ہے۔”

“دن گزرتے گئے اور سمیر جب بھی فری ہوتا گھر میں تو گاتا رہتا تھا اب یہ بات عمر احتشام کو بھی پتہ تھی دن بدن سمیر کی سنگیت میں بہتری آ رہی تھی۔”

“ٹھاٹھیں مارتی لہریں، روشنیاں، دور سے آتی موسیقی کی آواز اور چاند کی تیکھی روشنی، یہ ایک دلفریب منظر تھا۔”

“کچھ عرصہ قبل جب وہ محض شیدا ہوا کرتاتھا تو شغلِ لطیف لڑکیوں کو ان کے گھروں سے کالج تک اورپھر کالج سے بحفاظت گھروں تک چھوڑ آنا ہوتاتھا۔”

“اسی لیے زیادہ تر ملحدین کا رجحان لامقصدیت (Nihilism) کی طرف ہوجاتاہے جس کے مطابق کائنات میں زندگی سمیت ہر شے بے معانی اور بے مقصد ہے!!!”

“ایئر پورٹ روانگی کا وقت ہو چلا تھا، سو وقت ضائع کیے بغیر سامنے موجود ٹیکسی ڈرائیورز سے ایئرپورٹ ڈراپ کی درخواست کی۔”

“بچہ اگر تخلیقی رجحانات کاحامل ہو اور والدین ( یادونوں میں سے کوئی ایک)شاعر ہوں تو وہ بھی اپنے تخلیقی ذوق کی تسکین کے لئے شاعری کو ذریعہ بناسکتاہے۔”

“والدین سے ملی وراثت کہہ لیں یا پھر خود کی شخصیت میں اِک چُھپا جنون کہ انھوں نے صرف خود کو یا تو خطاطی، مصوری یا پھر اپنی عمر سے بڑے درجے کی کتابیں پڑھنے کی کوشش میں پایا۔”

“اِس طرح شاعری انسانی احساس، تجربے، مشاہدے، خواب، خوف، خواہش اور خیال کو یادداشت میں محفوظ کرنے کا ایک بہتر طریقہ بن گئی۔”

“کتّے کی وفاداری کی اتنی صاف ، واضح اور سچی تصویر انسان کی فطرتِ وفاداری کو جھنجھوڑنے کے لئے بالکل تیر بہدف ہے۔”

“کاغذ قلم اٹھا کر گوشہ نشینی میں جب ایک انسان اپنے پیارے کو اپنے دل کی بات لکھتا ہے تو وہ احساس ہی اپنے آپ میں ایک الگ دنیابسا ئے ہوتا ہے۔”

“لکھنؤ میں بھی پاکستانی تہذیب کی اندھی تقلید کی جاتی تھی جہاں جہیز یہ کہہ کر قانونی بنا دیا جاتا تھا کہ ماں باپ جو بھی دے رہے ہیں اپنی خوشی سے ہی تو دے رہے ہیں۔”

Our authors, in their own words and in the press.
ہر ناامید اور مایوس شخص کو اچھے دنوں کے آنے کی امید دلاتی یہ کتاب بلاشبہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ بُرا وقت ہمیشہ آزمائش بن کر آتا ہے اور ہر آزمائش انسان کو منزل سے ایک قدم اور قریب کر دیتی ہے۔
Read our exclusive interview with Alesha Faraz, exploring her life, experiences, & journey behind publishing her book "The crossing" with us.
It is a giant pack full of friendships, thrillers, science, unique ideas, and more. The novel is written beautifully and in well-knitted form, you will get easily attracted to it even at the beginning of the story.
In this interview, Bisma Jatoi, a CSS officer and writer, shares her passion for writing and her experience publishing with Daastan.
مصنفہ نے ان افسانوں میں مختلف موضوعات کو چھیڑا ہے اور سچ پوچھیں تو یہ کتاب ایک خوش رنگ گلدستے کی مانند ہے جس میں طرح طرح کے رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔ان کی ہر کہانی کا طرز تحریر مختلف ہے تاکہ قاری ایک ہی طرح کی کہانیاں پڑھ کر اُکتا نہ جائے۔
Discover the power of Palestinian Poetry a voice of struggle, resilience, and compassion in You, The Witness by Meem Ayien.
Daastan, founded on the very notion of being able to tell your stories by putting one's word out there in the world as a whole, becoming a part of this universe; materializes its principles through the journey of thousands of authors we have published. One such journey is that of Mahnoor Kareem, a teenager from Rawalpindi who grew up aspiring to be an exceptional author and chose to become one of them. From finishing a book in a single day to becoming the author of one, she is a treasured Daastan-published author. In an interview, she revealed that her father used to write short stories for so
کتاب کا اسلوبِ بیان سادہ اوردلکش ہے۔ کتاب بنیادی طور پر چار حصوں میں تقسیم ہے جس کے پہلے حصے میں فورم اور سائیٹ سیورز کا تعارف اور نابینااور معذورقلم کار خواتین کا انٹرویو درج ہے۔ادب سے تعلق رکھنے والی مختلف عورتوں کے بارے میں پڑھ کر آپ جانیں گے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کس قدر مشکلات کا سامنا کیا مگر انھوں نے ہار نہیں مانی اور محنت اور لگن کے ساتھ اپنے کام کو جاری رکھا۔دوسرے حصے میں محترمہ کشور ناہید کے انٹرویوکے ساتھ ساتھ مسلم ثانیثیت اور نسائی ادب اور تنقید شامل ہے۔
زیرِ نظر کتاب ماہی شاہین ؔ کاشعری مجموعہ ہے جس میں انھوں نے اپنی خوبصورت شاعری کو پیش کیا ہے۔ ان کے اشعار میں ایک تسلسل اور خوبصورتی دکھائی دیتی ہےجو پڑھنے والے بھلی معلوم ہے۔جیسے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں