ہر سطر کسی حقیقی کتاب سے ہے، جو کسی پاکستانی مصنف نے لکھی۔ اقوال پڑھیے، کتاب تک پہنچیے — اور کہانی گھر لے جائیے۔
“"شامیر اگر میں اس گھر کے بارے میں کوئی فیصلہ آپ سے بغیر پوچھے لے لوں، تو؟" اس نے ایک لمحے کے لیے شامیر سے نظریں ملائیں اور پھر چرا لیں۔”

“اگرچہ میری چھاتی میں جذبات کا طوفان ٹھاٹھیں مار رہا تھالیکن جب میں علی کے نزدیک پہنچا تو اس طوفانِ عظیم کا، جس نے میرے وجود کو تھرا دیا تھا، حتمی اظہار ایک مسکین سی مسکراہٹ میں ہوا۔”

“”جہیز میں کیا ماں کو لے کر جاؤ گی؟“سعیدہ بیگم کا اگلا جملہ ادا ہونے سے پہلے ماشاء نے ان کا جملہ(روایتی جملہ)دہرایا، یہ کہہ کر ماشاء مسکرانے لگی۔”

““بیگ صاحب نے سوچا، ”یہ ماہرینِ نفسیات بھی یونہی اپنی اہمیت جتانے کے لیے کچھ بھی چھوڑ دیتے ہیں، بھلا انٹر نیٹ جیسی تفریحی اور سماجی رابطے فراہم کرنے والی چیز کس طرح ڈپریشن پیداکرسکتی ہے!”

“اس کے ساتھ کام کرنے والے لوگ اس کی مکمل مدد کر رہے تھے ہر انسان ایک مقصد پر یقین رکھ کر آگے بڑھ رہا تھا اور اپنا علم دوسروں کو دینے میں فخر محسوس کر رہا تھا۔”

“ہمارے پیدا کرنے والے رب نے بھی ہمیں مقصد دے کر اس دنیا میں بھیجا لیکن ہمیں آزادی دی کہ ہم اپنے سفر میں اپنے انتخاب میں آزاد ہیں۔”

“ناہید باجی کا دل پھر ٹوٹ گیا لیکن انھوں نے ثابت قدمی سے اسکول میں ملازمت جاری رکھتے ہوئے امی کے ساتھ گھر کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا۔”

“’’درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمھارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔”

“سمیر کے والدین بہت خوش تھے کے ان کا بیٹا آج ایک کامیاب گلوکار ہے اور ایک اتنی اچھی لڑکی سے اس کی شادی بھی ہوگئی ہے۔”

“ہر شاپنگ مال کے باہر کچھ فاصلے پر بدھا کے بت نصب کیے گئے ہیں، راہگیر اور سیاح رک کر اگربتیاں جلاتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں۔”

“اُففف، اس شعر میں جذبات کی سیج پر زندگی کے عمرانی رویوں کے ارتقا کوکس قدر خوبصورتی سے الفاظ کاپیرہن دیا گیا ہے۔”

Our authors, in their own words and in the press.
The Sinking Wedding is Sara Amir’s latest work, in which she has used the themes of horror, fiction, mystery, adventure, and friendship as well. The plot is we-knitted and you will feel excitement at the end of each paragraph.
Discover Wajahat Ali’s "Finding My Roots," an inspiring biography that captures the strength of a mother’s love and sacrifices.
I'll meet you there is a poetic book that leaves its readers stunned, to say the least. It was published fairly recently and beautifies the world around us. The book's theme caters to multiple topics and since it is set in modern times and written as poetry, it leaves a lot to be imagined by the readers. The readers are creatively transported into an entirely different world that is beyond the human imagination.
Aysha Khalid is a Turkish poet, she does not believe in the boundaries of language to express herself or her imagination. That’s the reason, she has chosen a Pakistani publishing company ‘Daastan’ to publish her collection of poems.
Interview with Syed Husain Momin Zaidi on Poetry Volume 1 Reflections discussing writing journey and working with Daastan.
ناصر خان نے اس کتاب میں عمدہ اشعار بھی قلم بند کیے ہیں۔ ناصر خان کے اشعار میں تعلیم کے حوالے سے غیر معمولی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ ان کا شعری اسلوب بےحد رواں اور منفرد ہے۔ اس کتاب میں ان کی یہی خوبی نمایاں ہے
Based on Wings of Brotherhood by Wg Cdr (Retd) Badrul Hassan Khan, this gripping account reveals the unseen side of the 1965 War, the fear, discipline, and brotherhood that defined the Pakistan Air Force.
ہر کتاب کا ایک خانہ ادھورا ہوتا ہے اور اس ادھورے کونے کو قاری اپنے تصور کے رنگوں سے بھر دیتا ہے۔ بہت سی باتیں ان کہی رہ جاتی ہیں مگر سننے والا ان ان کہے الفاظ کا بھی مفہوم اخذ کرلیتا ہے اور اسی طرح بہت سی کہانیاں نامکمل ہوتی ہیں مگر دیکھنے والے کی نگاہ اسے مکمل کر دیتی ہے۔یہ کتاب ناتمام قصوں اور کہانیاں کا گھر ہے اور انھیں مکمل کرنے کا اختیار قاری کا تصور محفوظ رکھتا ہے۔
زیرِ نظر کتاب ماہی شاہین ؔ کاشعری مجموعہ ہے جس میں انھوں نے اپنی خوبصورت شاعری کو پیش کیا ہے۔ ان کے اشعار میں ایک تسلسل اور خوبصورتی دکھائی دیتی ہےجو پڑھنے والے بھلی معلوم ہے۔جیسے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں