ہر سطر کسی حقیقی کتاب سے ہے، جو کسی پاکستانی مصنف نے لکھی۔ اقوال پڑھیے، کتاب تک پہنچیے — اور کہانی گھر لے جائیے۔
“اپنے سفر میں صبر کا دامن کبھی بھی مت چھوڑنا اور یاد رکھنا چاند کو مکمل ہونے میں کچھ وقت ضرور لگتا ہے۔”

“قیدِ حیات میں مصنّف نے اپنی والدہ مرحومہ کی بے مثال زندگی اور لازوال موت کے ناقابلِ یقین اور تلخ حقائق سے پردہ اُٹھایا ہے اور ان کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیاہے۔”

“ان کی شاعری میں باطل کی نبض کاٹنے والی سیف اللہ کی للکار بھی سنائی دیتی ہے اور انتہائی عاجز انسان کی انسانیت کی رشد و ہدایت کی تڑپ بھی دکھائی دیتی ہے۔”

“نماز ہم میں ایک ایسی خوبصورت عادت کو پروان چڑھاتی ہے جس سےہم وقت کو زیادہ سے زیادہ اپنے مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔”

“اب عالیہ اسلام آباد کی خوبصورتی دیکھ کے بہت خوش ہوئی اب ان دونوں کی کوشش تھی کے لوگ ان کو کم ہی پہچانیں کہ زیادہ مسئلہ نہ ہو۔”

“”پیار کا تیسرا شہر“ پڑھتے ہوئے شاید بہت سے لوگوں کو کرداروں کے الجھے رہنے سے گلہ ہوگا، مگر یہ سچ ہے کہ دکھوں، نوحوں اور ناانصافیوں کو لفظوں میں ڈھال کر۔۔”

“اگر فلائٹ پکڑنے میں زیادہ وقت باقی ہو تو ہوٹل انتظامیہ ایک یا دو گھنٹے کا اضافی وقت عنایت کر دیتی ہے، لیکن اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی انتظامیہ کو بروقت اطلاع دینی ہوتی ہے۔”

“ایسی حکمت عملی ممکن ہے ، جس سے زندگی کی تلخیوں کی شدت کم سے کم ہوجائے اور مسرتوں کارنگ زیادہ سے زیادہ نمایا ں ہوجائے ۔”

“اب وہ سوچ رہا تھا کہ آپا کو سچ میں اس سے کتنی محبت ہے،کہ اس کے لیے دیر تک کالج کے گیٹ پر کھڑی رہیں اور اس کے نظروں سے اوجھل ہو جانے تک مسکرا کر الوداع کہتی رہیں۔”

“آج صبح پھر جب روزی کمانے کے لے راستہ ناپنے نکلی تو نظر ہوا میں جھولتے پھول پہ پڑی جو اپنا بہترین رنگ اور تازگی لیے پودے کی شاخ کا اکیلا مالک بنا بیٹھا۔”

“اکثر لوگوں کے لیے شعر کہنا اور شاعری کرنا ایک مشغلہ رہا ہے، جو ہر مشغلے کی طرح باقی زندگی کے کاموں کے علاوہ، ایک اضافی چیز رہا ہے۔”

“اگر ڈاکٹر اکبر نیدری اپنے درندے پر قائم رہتے تو ایک دن میں اس نایاب اسنے کو پہلی بار اپنے کامشن ادارة النقوش کو ہی حاصل ہوتا ۔”

“پسِ نوشت : ۱۹۹۵ء میں ٹاڈا قانون ختم ہونے کے بعد وزیرِ اعظم شری نر سمہا راؤ نے اظہارِ خوشی میں پرائم منسٹر ہاؤس ، دلی میں اخباروں کے مدیروں کو ڈنر دیا۔”

“اے‘‘ کی حد تک یاد رکھے ہوئے ہیں لیکن اگر عملی زندگی میں دیکھیں تو دونوں آج ترقی اور خوش حالی کے جس مقام پر ہیں میرے خیال میں آپ مجھ سے زیادہ بہتر طور پر بتا سکتے ہیں۔”

“گجرانوالا میں پلے بڑھے، ابتدائی تعلیم مشن پرائمری سکول گوجرانوالا سے حاصل کی، میٹرک محبوب عالم ہائی سکول گوجرانوالا سے ہی پاس کیا۔”

Our authors, in their own words and in the press.
An insightful interview with Aqleem Fatimah on Ishq Ilhaam Hai, discussing love, her writing inspiration, and her journey with daastan.
Explore From Partition to Pioneer book launch events & highlights, featuring inspiring sessions and tributes to Dr. Bashir Ahmed’s legacy.
الفاظ بہت زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔ لفظوں کی طاقت اوران کااثر ایک حقیقت ہے۔ ایک لفظ کسی کی پوری زندگی تبدیل کر دیتا ہے، الفاظ جہاں زندگی دیتے ہیں وہی زندگی چھین بھی لیتے ہیں اسی لیے کہتے ہیں الفاظ کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔
ہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جس کی خوش و خرم زندگی میں اچانک ہی سماعت سے محرومی داخل ہو جاتی ہے اور مشکلات اور آزمائشیں اس کے گھر کی راہ دیکھ لیتی ہیں۔ سماعت کی محرومی کا ہمت و حوصلے سے مقابلہ کرنے کی کہانی آپ میں بھی امید کی ایک نئی روح پھونک دے گی۔ اس باہمت لڑکی کی کہانی کے ساتھ ساتھ یہ کتاب اپنے اندر سماعت کے نقائص اور اس کے علاج سے متعلق بھی بیش بہا معلومات رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ سماعت کے نقائص سے متعلق لوگوں کی کئی غلط فہمیوں کا بھی ازالہ کرتی ہے۔
Discover Wajahat Ali’s "Finding My Roots," an inspiring biography that captures the strength of a mother’s love and sacrifices.
Based on Wings of Brotherhood by Wg Cdr (Retd) Badrul Hassan Khan, this gripping account reveals the unseen side of the 1965 War, the fear, discipline, and brotherhood that defined the Pakistan Air Force.
Read our exclusive interview with Alesha Faraz, exploring her life, experiences, & journey behind publishing her book "The crossing" with us.
I'll meet you there is a poetic book that leaves its readers stunned, to say the least. It was published fairly recently and beautifies the world around us. The book's theme caters to multiple topics and since it is set in modern times and written as poetry, it leaves a lot to be imagined by the readers. The readers are creatively transported into an entirely different world that is beyond the human imagination.
From the turmoil of Partition to the operating rooms of Lahore, the legacy of neurosurgery pioneer Prof. Dr. Bashir Ahmad (1934–2014) stands as a timeless story of resilience, intellect, and devotion to humanity. His life’s work not only built the foundations of modern neurosurgery in Pakistan but also inspired generations of doctors to serve their homeland with […]