سوانح عمری کی مصنفہ سیدہ علینہ ثاقب

داستان نے بہت سے ایسے مصنفین  کے خوابوں کو  پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے، جنہیں اِس بات کا یقین نہ تھا کہ وہ بھی صاحبِ کتاب ہوسکتے ہیں۔لیکن آنے والے وقت میں داستان نے ثابت کردیا   کہ اب کتاب شائع کروانا اتنا مشکل نہیں رہا۔  آج ہم مصنفہ سیدہ علینہ  ثاقب سے گفتگو کریں گے، جن کی پہلی کتاب ایک سوانح عمری ہے. مصنفہ نے ایک اچھوتے موضوع کو  لکھا ہے، ایک ایسے رشتے کو انہوں نے اس قدر خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ پڑھنے والا دنگ رہ جاتا ہے کہ کیا ساس اور بہو کا رشتہ بھی اتنا  گہرا  اور  پیارا ہوسکتا ہے؟  مصنفہ اِس کتاب میں بہت رشتوں اور اُن کے درمیان ہونے والے مختلف مسائل کو بھی زیرِ بحث لائی ہیں۔ سادہ طرزِ تحریر اور دلکش لفظوں کا چناؤ  اِن کی تحریر کا عنصر ہے۔

توآئیے ملتے ہیں سیدہ علینہ ثاقب سے!

السلام علیکم، علینہ، کیا حال ہے؟

علینہ: وعلیکم السلام علیکم، میں ٹھیک ہوں۔

سوال: اپنی تعلیمی اور ذاتی زندگی کے متعلق کچھ بتائیں۔

جواب: میری تعلیم ایف – اے تک ہے۔ میں اپنی والدہ کی بیماری کی وجہ سے میں اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکی۔ اب میں ایک گھریلو خاتون ہوں، میرے ٣ بچے ہیں۔  الحمدللہ میں اپنی ذاتی زندگی میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ بہت خوش ہوں۔

سوال : یہ کتاب لکھنے کا خیال کیوں آیا؟ محرک کیا تھا؟

جواب: یہ کتاب میں نے اپنی ساس کے کردار کو زندہ رکھنے کے لیے  لکھی۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ انہوں  نے اپنی زندگی میں بہت مشکلات دیکھیں۔ ان کے آخری وقت جب میں ان کے ساتھ تھی تبھی دل نے ٹھان لیا کہ میں ان کے لیے کچھ کروں گی اور ان کےلیے لکھنے سے بہتر مجھے اور کچھ نہیں لگا۔  دوسرا، میں اپنے بچوں کے سامنے ان کی دادی کے کردار کو  زندہ رکھنا چاہتی تھی۔

سوال: سوانح عمری لکھنا خاصہ مہارت کا کام ہے، آپ کے خیال میں کیا عوامل اور تدابیر ہیں جو اِسے لکھنے میں مددگار ثابت ہوئیں؟

جواب: اس کتاب کو لکھنے میں سب سے زیادہ میری دوست اور میرے بچوں نے میری حوصلہ افزائی کی۔  دوسرا لکھنا ایک فن ہے جو  قدرتی طور پر بھی آپ کے اندر موجود ہوتا ہے، تھوڑی سی محنت اور آپ کے اپنوں کی حوصلہ افزائی آپ کے جذبے کو اور نکھار دیتا ہے۔  پھر میں نے اپنے آپ کو اپنی ساس کی جگہ رکھ کے دیکھا تو لکھنے میں اور بھی آسانی ہوئی اور پھر جب آپ کسی کردار کو  ذہن میں  رکھ  کے لکھنے لگیں تو اور بھی آسانی ہوتی ہے۔

سوال:  اپنی پہلی کتاب پر گھر والوں اور دوست احباب کے کیا تاثرات رہے؟

جواب: یہ کتاب لکھنے کے بعد میں نے سب سے پہلے اپنے شوہر کو بتایا۔ فطری بات ہےاُن کی آنکھوں میں آنسوؤں کا  آنا اور خوشی بھی،  اور ماں کی یاد بھی۔ انہیں خوشی تھی کہ میں نے لکھا لیکن زیادہ خوشی اس بات کی تھی کہ ان کی ماں کے بارے میں لکھا۔ ان کے بہن بھائی بھی بہت خوش ہوئی۔

جب اپنے بہن بھائیوں کو بتایا تو ان کے یہ تاثرات تھے کہ نہیں تم نے نہیں لکھا ،مگر خوش سب ہوئے۔ دراصل میرے والد کو بہت شوق تھا  کہ ان کے بچوں کے نام اخبار یا ٹی وی پر آئیں۔ جب میری کتاب شائع ہوئی تو مجھے اپنے والد کی بہت یاد آئی،  وہ ہوتے تو بہت خوش ہوتے۔

  سوال: کسی رسالے یا جرائدوغیرہ کے لیے لکھا ہے؟

نہیں میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں لکھا نہ کسی رسالے کے لیے اور نہ کسی جریدے میں۔  یہ میری شائع ہونے والی پہلی کتاب  ہے۔

سوال: مستقبل میں کن  موضوعات اور اصناف  پر قلم اٹھانا  چاہیں گی؟

جواب: میں مستقبل میں بھی ذاتی زندگی پر ہی لکھنا چاہوں گی  کیوں کہ جب شعور  کی دنیا میں قدم رکھا،  تو مجھے عمر رسیدہ افراد کے چہرے اور ہاتھوں کی جھریاں بہت پر کشش لگتی تھیں۔ مجھے لگتا ہے ان کی آنکھیں ان کے ماضی کی عکاسی کرتی ہیں اور پھر عمر  کے اس حصّے  تک پہنچتے پہنچتے  وہ کافی تجربہ کار ہوتے ہیں۔  بس ان کا وہی تجربہ میں اپنے لفظوں میں ڈھال کر دنیا  کو  بتانا چاہتی ہوں اور  یہی کوشش میں نے آبِ بقاء میں کی ہے۔    

سوال: دیگر کیا مشاغل ہیں؟

جواب: ایک گھریلو عورت کی اپنے شوہر اور بچوں کے علاوہ کیا مصروفیت ہوں  گی۔ لکھنے کے علاوہ میرا  کوئی اور خاص مشغلہ نہیں۔  میرا محور میرا شوہر اور بچے ہیں ، الحمدللہ۔                 

سوال: پسندیدہ شعراء/مصنفین اور کتب کون کون سی ہیں؟

جواب: شاعر مشرق علامہ اقبال کو  بہت شوق سے پڑھتی ہوں اور مصنفہ مجھےعمیرہ احمد  پسند  ہیں۔

سوال: ادارے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: داستان ہم نئے لکھنے والوں کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے، جو  آپ کی مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ میری دعا ہے کہ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے۔

سیدہ علینہ ثاقب ایک اچھی ادیبہ ہونے کے ساتھ ساتھ اچھی ہاؤس وائف ہیں، جو اپنی تمام تر ذمہ داریوں کو بخوبی نبھا رہی ہیں۔سیدہ علینہ ثاقب آپ کا بے حد شکریہ کے آپ نے وقت نکالا اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

سیدہ علینہ ثاقب کی لکھی گئی سوانح عمری قصہ پر موجود ہے، پڑھنے کے لیے ابھی آرڈرکیجیے۔

آرڈر Now

Daastanhttps://daastan.com/blog
Daastan is a literary forum working for revival of literature in Pakistan. We connect writers with opportunities for career growth.

Related Articles

کتاب “زندگی ایک کرونا” پر تبصرہ

زندگی ایک کرونا مصنف: وقار احمد بخش وقار احمد بخش کی کتاب” زندگی...

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

کتاب “زندگی ایک کرونا” پر تبصرہ

زندگی ایک کرونا مصنف: وقار احمد بخش وقار احمد بخش کی...

کتاب کی اشاعت کے لیے داستان کی سروسز

*آخری ترمیم: ١ مئی، ٢٠٢٢ء* کتاب کی اشاعت کے لیے...

Poetry Workshop: Winter Poetry And How To Write One

The title may be misleading because of course there...

Stay in touch!

Follow our Instagram