!ملاقات، ایک منفرد مصنفہ نایاب خالد سے

داستان اپنے تمام مصنفین کا بے حد احترام کرتا ہے اور یہ سب ہمارے لیے بہت اہم ہیں۔ہر کامیاب مصنف ،شاعر یا تخلیق کار کے پیچھےجدوجہد کی ایک پوری داستان ہوتی ہے۔ہر مصنف اپنے ساتھ سیکھنے کو بہت کچھ لاتا ہے،اور نئے لکھنے اور پڑھنے والے اس کےتجربات اور نصائح کو سن کر ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اسی بات کے پیشِ نظر ہم اپنے تمام رائٹرز کے ساتھ انٹرویو کا انعقاد کرتے ہیں، اور آج ہمارے ساتھ موجود ہیں، ایک پیاری مصنفہ، نایاب خالد ! جن کا ناول ”سفر کامیابی کا“ حال ہی میں شائع ہوا ہے۔اس ناول میں انہوں نے ایک ایسی لڑکی کی کہانی کو موضوع بنایا ہے، جسے اُس کی دیگر صلاحیتوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے، کیوں کہ وہ تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل نہیں کرپاتی۔ آنے والے وقت میں جب و ہ اپنے جنون کو، اپنے  آرٹ کو  دنیا کے سامنے لاتی ہے، تو  کیا یہ معاشرہ اُسے قبول کرتا ہے؟ نایاب خالد، نے ایک انتہائی حساس موضوع کو اپنے ناول کی تھیم بنایا ہے، جو کہ اِس وقت کی ضرورت ہے۔ 

تو آیئے ملتے ہیں نایاب خالد سے!

السلام علیکم،نایاب خالد! امید ہے آپ خیریت سے ہوں گی۔

نایاب: وعلیکم السلام، الحمداللہ۔ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے اپنے بارے میں کچھ بتانے کا موقع دیا۔

سوال:نایاب خالد،  اپنی تعلیمی اور  پیشہ ورانہ زندگی کے متعلق کچھ  بتائیں؟

جواب : میری تعلیم میرے شوق اور ذوق سے قدرے مختلف ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے میں نے بایولوجی اور کیمسٹری میں ماسٹرز مکمل کیا۔ پڑھائی کے دوران شاعری اور اردو   ناولز  کی طرف رحجان کم رہا  لیکن پڑھائی مکمل ہوتے ہی میں نے کالمز لکھنا شروع کر دیے۔

سوال: بچپن کیسا گزرا؟  ادب سے شغف کیا  آپ کے ماحول  اور پرورش کا  اثر ہے؟

جواب :میں بچپن سے ہی بہت حساس اور مشاہدہ کرنے والی تھی۔ ہر چیز کے بارے میں زیادہ غور وفکر  کرنا  میری عادت ہے۔بچپن سے ہی میں لوگوں کے رویّوں اور ماحول کو مشاہدہ کر کے اپنی ڈائری میں لکھا کرتی تھی۔

سوال: ہمارے معاشرے میں آرٹ کو واقعی ترجیح نہیں دی جاتی، آپ کے خیال میں اس سوچ کو کیسے بدلا جا سکتا ہے؟  کیا آپ سمجھتی ہیں کہ حکومت اور تعلیمی ادارے اس میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں؟

 جواب :ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے کالم اور ناول رائٹر  کو  زیادہ  اہمیت نہیں دی جاتی اور نہ  ان  کی  مدد  اور فروغ کے لیے کوئی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ایسے ہنر کے لیے گورنمنٹ کو سکول، کالج اور یونیورسٹی میں  Creative Writing کے مقابلے کروانے چاہیے تاکہ نیا ہنر سامنے آئے اور بچوں کو آگے بڑھنے کا موقع ملے۔

سوال : آپ شاعری بھی کرتی ہیں اور کالمز بھی لکھتی ہیں،  کیا لکھنا  زیادہ  اچھا  لگتا ہے اور  کیوں؟

جواب :میں نے اپنے لکھائی کے اس سفر کا  آغاز  شاعری سے کیا اور پھر  ایک اخبار میں کالمز لکھنا شروع کیے۔ جب وہ لوگوں کو پسند آئے تو پھر میں نے ناول لکھنا شروع کیا، جسے شائع  کرنے میں میری داستان نے مدد کی۔

سوال: کیا کیا مشاغل رکھتی ہیں؟

جواب :میرے مشاغل خطاطی، مصوّری، کالم نگاری، شاعری اور ناول لکھنا ہیں۔

سوال : نئے لکھنے اور پڑھنے والوں کے لیے کوئی مشورہ  یا  نصیحت کرنا چاہیں گی؟

جواب : نئے لکھنے والوں کے لیے یہ مشورہ ہے کے اپنی محنت اور لگن کو جاری رکھیے۔ وقت لگے گا لیکن آپ اپنی منزل تک ضرور پہنچ جائیں گے۔

سوال :  ادارے کے بارے میں آپ کی کیا  رائے ہے؟

جواب : داستان کے  پلیٹ  فارم نے میرا  ناول شائع  کرنے میں بہت مدد  کی۔ نہ صرف  اشاعت میں،  بلکہ ناول کو سنوارنے اور نکھارنے میں بھی میری مدد  کی۔ اس کے  لیے میں داستان ٹیم کی بہت مشکور ہوں۔

نایاب خالد ایک بہترین مصنفہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین شخصیت بھی ہیں۔ بہت شکریہ نایاب ، کہ آپ نے ہمارے لیے وقت نکالا، ہمیں آپ سے  بات کر کے بہت اچھا لگا، یونہی لکھتی رہیے تاکہ آپ کے قاری آپ کی تحریروں سے مستفید ہوتے رہیں۔

نایاب خالد کا ناول قصہ پرموجود ہے، پڑھنے کےلیے ابھی آرڈر کیجیے۔

آرڈر ناؤ

Daastanhttps://daastan.com/blog
Daastan is a literary forum working for revival of literature in Pakistan. We connect writers with opportunities for career growth.

Related Articles

منیب مسعود کی تحریر کردہ کتاب ادب و تنقید

ادب و تنقید مصنف: منیب مسعود تحریر: دِیا خان بلوچ منیب مسعود چشتی کا...

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

منیب مسعود کی تحریر کردہ کتاب ادب و تنقید

ادب و تنقید مصنف: منیب مسعود تحریر: دِیا خان بلوچ منیب مسعود...

What Does It Take To Make A Good Autobiography?

We all have stories to tell about our lives,...

لکی انسانی سرکس از جہانگیر بدر

لکی انسانی سرکس مصنف: جہانگیر بدر تحریر: دِیا خان بلوچ اگر کتاب...

Stay in touch!

Follow our Instagram