ملیے اذانِ نزع کی مصنفہ شہلا رعنا اعجاز سے

داستان کا سفرجاری ہے اورہمارا مقصد  ادیبوں کے لکھے کو عوام الناس تک پہنچانا ہے۔ ہر نئی تخیلق کے ساتھ  ایک نئی سوچ پروان  چڑھتی ہے اور داستان اُس سوچ کو وسیع   پیمانے پر پھیلانے کا ذریعہ بن رہا ہے، تاکہ ہر  ادیب چاہے وہ جس بھی موضوع پر زور آزمائی کرے، وہ لوگوں تک پہنچ  سکے۔ ہماری آج کی مصنفہ شہلا رعنا اعجاز  ہیں، جنہوں نے ایک مختلف موضوع کو  اپنی تخلیق ”اذانِ نزع“ کے لیے چنا ہے۔انہوں نے ایک تاریخی جائزہ پیش کیا ہے جو  اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرزمینِ پاکستان میں مسیحیت بطور خاندان کن مسائل سے دوچار ہے۔مصنفہ نےاپنے موضوع کے ساتھ بھرپور انصاف کیا ہے۔ اِن کا اسلوب رواں اور دلچسپ ہے۔

توآئیے ملتے پیں شہلا رعنا اعجاز سے!

داستان:گڈ ایوننگ،  کیا حال ہے؟

شہلا: گڈ ایوننگ، میں ٹھیک ہوں۔

سوال: اپنی تعلیمی اور  پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں کچھ  بتائیں؟

جواب: تعلیمی زندگی کا آغاز تو بچپن کے اُن لمحوں میں ہی ہوگیا تھا ،جب ہم کو نا ک بھی پونچھنا نہیں آتی تھی اورشاید کسی ڈھنگ سے ہنسنا اور رونا بھی نہیں آتا تھا۔ میری پیدائش یخ موسم کے وسط میں جنوری 6 ،1957 کو علی الصباح ایک مشنری کلینک میں نوری گیٹ ، سیلاں والی روڈ پر ہوئی۔ انتہائی کمزور اور چھوٹا سا بچہ تھی اور شاید اُن ہی لمحوں سے میری ذات نے جدو جہد کرنا سیکھ لی اِس سب میں ، میں  اپنی والدہ کے لیے ہمیشہ ایک چیلنج ہوا کرتی تھی۔ اِس  لیے ٹھکائی خوب ہوتی تھی۔ جس کو میں نے ہمیشہ، کمرے کے ایک کونے میں سزا کے مواقعوں کے دورانیہ میں اپنے سوچ و بچار کے لمحات بنا لیا  اور یوں میری شخصیت کی نشوونما ایک خاموش طبعی انسان کے بن گئی۔

چونکہ میرے والد ائیر فورس  پبلک سکول (کالج) جو پی ۔اے۔ایف پبلک سکول کہلاتا ہے اور تقریباً  چار سو  ایکڑ کے لگ بھگ زمین پر بنا ہوا ہے۔ اُس کے ایک کونہ پر جو  اب موجودہ ائیر بیس کالج ہے یہ سینٹ میری سکول کے نام سے موجود تھا، اور  یہاں سے میری نرسری سے ہائی سکول تک تعلیم جاری رہی۔ درمیان میں ایک بڑا سا  کرکٹ گراؤنڈ  تھا، جو  اب پریڈ  گراؤنڈ  بن گیا ہے۔ اُس کے پار  ہماری رہائش تھی اور میں انتہائی صبح ، جسے ارلی برڈ’ کہتے ہیں، ویسے ہی خود بخود سکول جایا  کرتی تھی۔ کوئی دوست نہیں تھا، کسی سے کھیلا نہیں کرتی تھی اور سب کو  دور سے دیکھ  کر تجزیاتی  گیان میں کوزہ  بند کیا  کرتی تھی۔جماعت چہارم تک پہنچتے ہوئے اپنے ہم جماعت لڑکوں کے لیے خوف و ہراس کا نشان تھی۔ کوئی میری طرف غلطی سے بھی آنکھ  اُٹھا کر نہیں دیکھتا تھا۔اپنے محلہ میں بھی میرے ناپ کی کوئی لڑکی نہیں تھی اور یوں آس پڑوس میں بھی ، میں ایک نشان تھی، جو آرمی نوجوان کے عزم سے ملتا جلتا تھا۔دشمن سے لڑ جانا ہمارے خون و گوشت میں شامل تھا۔ یہ وہی دور ہے جب 1965 کی جنگ ہوئی تھی۔ 104 طیارے کی آواز اور پرواز  سے پہلے کی چیخ ہمارے صبح کے ناشتہ سے شروع کر کے رات سوتے وقت، یعنی ہر وقت  کا لہو  گرم رکھنے کا ساز تھا۔ میں نسلی باغی تھی، اور میری سہولت کے لیے یہ وہ دور تھا جب ائیر  بیس کی دیواریں نہیں تھیں اور میں کھیل کے پچھلے آخری میدان کو پار کرکے جہازوں کو  ہینگر میں لگے ہوئے ، دیکھنے چلی جایا کرتی تھی۔ میگ، سیبر اور 104 جہاز اپنے شیڈز  میں کھڑے ہوتے تھے۔

اپنی جسمانی ساخت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک جسمانی  کمزوری کے ساتھ  پیدا ہوئی ،یعنی ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق مجھ  کو  پیدائش سے پہلے یا دورانِ پیدائش پولیو کا حملہ ہوا ،مگر میں گہری معذوری سے بچ گئی۔ مگر میری  دائیں جسمانی کیفیت بائیں سے کمزور رہی، جس کی وجہ سے قلم پکڑنا او ر خصوصاً  اُردو لکھائی کرنا میرے لیے ہمیشہ مسئلہ ہوتی تھی، اور جماعت سوئم تک میں اُردو میں فیل ہونے کی وجہ سے اپنی اُردو اور اسلامیات کی اُستاد مس طلعت زیدی (مہ پارہ زیدی جو مہ پارہ صفدر ہوئیں، اُن کی بڑی بہن) کی کٹار سی نظروں سے بچنے کے لیے کلاس کے آخری میز  پر  بیٹھا کرتی تھی۔ اِس لیے یہ سوال میرے لیے کوئی عام سا سوال نہیں کیوں کہ میں نے ابتدائی تعلیم برفانی تھپیڑوں کے ساتھ حاصل  کی اور  یوں جماعت ہشتم میں لڑکیوں کا  تبادلہ کانونٹ سکول میں کر دیا جاتا تھا اور  وہاں میں پہلی مرتبہ لڑکیوں  کی سیاست سے آگاہ ہوئی۔ اور پھر پڑھائی تو سینئر  کیمبرج  کی لی مگر اسکول کے 1972 میں سرگودھا بورڈسے منسلک ہونے کی پابندی میں میٹرک کیا اور بورڈ میں چھٹا درجہ حاصل کیا۔ تب زندگی میں پہلی مرتبہ میں نے محسوس کیا  کہ میری کوئی اہمیت ہے۔ میری والدہ نے ایک تھال لڈو منگوا  کر سارے پی۔اے۔ایف خاندان میں جو لگ بھگ  30 فیملیز تھیں اور 60 کے قریب ہمارے گراؤنڈ  مار کر اوردو خاندان جو ہمارے گھر کام کرنے والی ہماری آیا تھیں ، ہمارا ماشکی اور  تندور پر روٹی لگانے والی طالعہ خالہ اور  چرچ کے لوگوں میں تقسیم ہوئی۔لوگوں کا تانتا بندھ گیا  جو  مبارک دینے آئے اور یوں ہم تعلیم کے پہلے مرحلہ میٹرک سے چودہ  برس کی عمر میں فارغ  ہوئے۔

آپ نے ایک ہی سوال میں، میری کُل زندگی پوچھ  لی ہے کیوں کہ  ویسے تو میں ڈاکٹر  بننا چاہتی تھی، ایف  ایس سی کے بعد  ایک ڈاکٹری کورس بھی کیا  مگر پھر سب  کچھ پسِ پشت ڈال دیا  کیوں کہ میر اچھوٹا بھائی میرے والد کی خواہش پر میٹرک کرنے کے بعد  ڈاکٹر بننے لگا  تو  مجھ کو یہ کہہ کر کالج بھجوا  دیا  گیا  کہ بی ایس سی کر لو  کیوں کہ وہ دو جگہ خرچہ برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ تب میری دو  چھوٹی بہنیں بھی اسکول جاتی تھیں۔ میرے ماموں کی بیٹی بھی ہماری لے پالک بہن کے طور پر میرے ساتھ  پڑھتی تھی اور یہ قربانی دینا مجھ پر لازم ہوئی۔  تب میری والدہ  بھی کانونٹ اسکول کے اُردو سیکشن  کی نویں اور دسویں جماعت کی انچارج اور تمام مضامین کی اُستاد تھیں۔ میں اپنی والدہ  کی جگہ کالج سے چھٹی کرکے سبسٹی ٹیوٹ کے طور پر نویں دسویں کو شغل کے طور پر پڑھانے جایا کرتی تھی، جب والدہ بورڈ کے امتحان لینے جایا کرتی تھیں۔

ایم ایس سی کیمسٹری،  پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فارغ ہونے پر اپنے پرنسپلز کی نظر میں ہوتی تھی کہ کب وہ مجھے بلا کر بڑی کلاسز  پڑھانے کو  دے دیں۔ کیوں کہ ہماری رہائش اسکول کے بائیں جانب، بنا دیوار کے موجود تھی۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کبھی کوئی انٹر ویو دیا ہو، بس مجھ  کو  بلا  کر  کتاب دی جاتی تھی کہ اُس کلاس میں آج یہ سبق پڑھا دو۔ اور میرے سامنے کوئی سبق راہ میں آنے والا نہیں ہوتا تھا۔ بس ہم پانی  کے ریلے کی طرح گزر  جایا  کرتے تھے۔

اِس دورانیہ میں میرے والد صاحب کا، دورانِ سروس انتقال ہوا۔ اُن کو پہلی 28 جی ڈی پیز  کی تعلیم کا اعزاز حاصل ہوا۔ اُن دِنوں جناب ہیوگ کیچ پول صاحب برن ہال ایبٹ آباد جا چکے تھے اور پی اے ایف کے پرنسپل جناب عبدالرحمان قریشی صاحب تھے(جو ریٹائرمنٹ کے بعد ایچ ای سن لاہور میں بھی تعنیات رہے)

تب میں نے ایک دوست کی مدد سے اسلام آباد میں منسٹری آف پٹرولیم کے ڈی جی آر، ہیڈ  آفس میں نوکری کر لی جو اُس وقت کا  گریڈ 17 تھا۔ یوں میں  نے کچھ عرصہ اپنے من پسند کام کا خوب مزہ لیا ، مگر والدہ کے اسرار پر گھر بسانے اور بیاہ کے چکر میں نوکری چھوڑ کر سرگودھا آگئی۔ اور شادی کے بعد کے دور میں تعلیم و تدریس کے شعبے سے منسلک رہی۔ کیوں کہ اب اپنے چار بچوں کی تعلیم میرے لیے ایک سب سے اہم ہدف تھا۔

سوال: بچپن کیسا گزرا، ادب سے شغف کیا آپ کے ماحول اور پرورش کا اثر ہے؟

جواب: جیسا  کہ میں نے ذکر  کیا  کہ میرا  بچپن انتہائی مختلف گزرا ،  کیوں کہ تعلیم میرے لیے ایک چیلنج نہیں تھی۔ میں جماعت ہفتم میں والد صاحب کی اور والدہ کی ایم اے اُردو  کی کتابوں کو  پڑھ کر اپنا وقت گزارا  کرتی تھی۔ میری 20 کے لگ بھگ  کالی اسیل اور لال گولڈن پف مرغیاں تھیں، جن کے میں نے نام رکھے ہوتے تھے اور صبح سکول جانے سے پہلے اور سکول سے واپس آنے کے بعد  وہ میری دوست تھیں اور رہائش کے پچھلی طرف بڑے بڑے چار کھیت تھے جو میری مرغیوں کی چراہ گاہ تھی، اور شام تک اُن کے ساتھ بھاگنا دوڑنا او ر آوارہ گردی کے علاوہ ابو  کی کتابوں کو  اُن کی الماری سے چوری نکال کر   کھیت میں بیٹھ  کر پڑھنا میرا عام مشغلہ تھا۔ کیوں کہ میرا  زندگی کے شروع سے ایک اصول تھا، اسکول کا کام سکول میں اور گھر کا کام گھر میں۔ میں اپنا ہوم ورک اسکول میں ہی ختم کر کے آتی تھی۔

دیگر میرے پڑوسی انکل نقوی ادبی شخصیت تھے( جن کے فرزند ظوریت نقوی ، سرگودھا یونیورسٹی میں شعبہ اُردو کے ہیڈ تھے) اور وہ اور ڈاکٹر وزیر آغا (سب رس کے مصنف اور موجودہ  سر گودھا  یونیورسٹی  کے ، ایم اے اُردو کے استاد تھے) ڈاکٹر صاحب اور انکل نقوی میری والدہ کے ہاتھ کے پکوڑے  کھانے کے انتہائی شوقین تھے اور ہماری بیٹھک میں وہ ابو کے ساتھ ایم اے اُردو  کی بحث کیا  کرتے اور علامہ اقبال کی شاعری پر تنقید  کیا  کرتے تھے اور میں چائے پکوڑے پہنچانے کے ساتھ کبھی کبھی فری اسٹوڈنٹ کے طور پر بیٹھ  جاتی اورمیرا تجسس کوئی اور کتاب چوری کرنے پر تُل جایا  کرتا تھا۔ تب گرمیوں کی تعطیلات پورے تین ماہ کی ہوا  کرتی تھیں اور  اِس دوران میرے والد  اپنی پی-اے-ایف کی لائبریری سے مجھے موٹی موٹی نالج  بکس لا دیا  کرتے تھے، اور اُن کو  پڑھنا میرا  دائیں ہاتھ  کا شغل ہوا  کرتا تھا۔

نویں، دسویں  کے دور میں  اپنے اسکول کی لائبریری کی  انچارج  ہوا  کرتی تھی اور  کوئی بھی کتاب رجسٹر  پر لکھ کر لانا میرا  یومیہ کام تھا۔ میں ہفتہ کو چھٹی والے دِن بھی اسکول جا کر ساری سائنس کی لیبارٹری (جو دو الماریوں پر کلاس کے پیچھے تھی) اُس کی صفائی کرنا اور ترتیب دینا میرا  کام تھا۔ اسکول کی پہلی گھنٹی صرف سسٹر ڈیمین (جرمن)بجایا کرتی تھیں اور دیگر گھنٹا بجانا میرا کام تھا۔اُس زمانہ میں میرے والد صاحب کی پرانی اومیگا  گھڑی جو کہ مردانہ گھڑی  تھی، میری کلائی پرہوتی تھی۔ وہ اُن کو ہیوگ کیچ پول کی طرف سے ملی ہوئی تھی۔ یوں اپنے کھیل کود کے دور میں، میں نے ایک الگ ذمہ داریوں کی جھیل اپنے ارد گرد پھیلا ئی ہوئی تھی اور بنا  کسی روک ٹوک (آٹو میٹک) کام کیا کرتی تھی۔ جو کہ آج بھی میرا شعوری اور لاشعوری فعل ہے۔

سوال: آپ نے اپنی کتاب ” اذانِ نزع“ کے لیے اتنے متنازعہ موضوع کا انتخاب کیوں کیا؟

جواب:پہلے دونوں سوالات کے جواب حاصل کرنے کے بعد کسی ایک اندازے سے تو آپ کو  اِس سوال کا جواب حاصل ہوجا تا ہے۔ مگر آپ  کی تشنگی،من کی تسلی کے لیے اور اپنی  پیشہ ورانہ ذمہ کے دائرہ میں رہتے ہوئے عرض کرنا چاہوں گی کہ یہ آج کے دور  کی میڈیا  اور اسٹوڈنٹ مائنڈ سیٹ کا پرابلم ہے جو  سچ  بولنے والے کو متنازعہ شخصیت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ جب کہ ایسا موضوع تو ہر ذی شعور شخص کے ذہن میں ہے، مگر آج کے سیاسی اور دیگر   حکومتی پابندیوں اور ادبی حلقوں کا ایسے مائنڈ سیٹ کی نظر ہوجانا بالکل ایسے ہے جیسے کوئی مگر مچھ  کے منہ میں ہو۔ اِس کی وجہ سے ہمارے اِس دور کے طالب علم کو  کسی اصل موضوع سے واقفیت ہی نہیں ہے۔ اِس لیے میرے نقط  نگاہ میں یہ موضوع تو ہر خبروں کا بلیٹن کا موضوع ہے۔ یہ ٹارگٹ کلنگ، وہ آنر کلنگ، معصوم بچیوں اور بچوں کا اغوا، جنسی زیادتی اور قتل، انسانیت کی تذلیل اور دکھ  کی داستانیں، ہر وقت سننے کو ملتی ہیں۔ یہاں تک کے کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں کو  ایک طرف طاق  میں رکھیں اور میدان میں اُتر  آئیں۔ ہمارے ملک میں کیا  کوئی بھی خاتون، یا صنفِ نازک اکیلے سفر کرسکتی ہے؟ ابا یہ یا بنا ابا یہ، اغوا  اور جنسی زیادتی ایک عام خبر ہے ۔ اقلیتی  فرقوں کو  کیا  کوئی تحفظ ہے!

بے شک  چند سال پہلے میں نے ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔ آخری وہ دِل دہلا دینے والی خبریں تھیں جب مشعل خان کو  مرتے اور اُس کی میت کی تذلیل میں انسان کو  درندہ اور انسانیت کو سولی پر لٹکتے دیکھا تھا۔ آٹھ  دِن صبح شام میں ٹی وی کے سامنے منجمد ، برف کے تودے کی طرح جم کر بیٹھی رہی اور آنسو بہاتی رہی۔  تب میں نے سوچا تھا  کہ ہمارے ملک میں معاشرتی حصار کو بے نقاب کرنے کے لیے تاریخ کو  اُس کی اصلیت کے ساتھ  بیان کرنا انتہائی ضروری ہے۔ بس اِس کتاب میں، میں نے کچھ  ایسا کرنے کی کوشش کی ہے۔

سوال: مستقبل میں آپ کن موضوعات اور اصناف پر قلم اٹھانا چاہیں گی؟

جواب: آپ کا سوال انتہائی شیریں ہے۔ میرا جواب کہیں آپ کو تلخ نہ لگے، اِس لیے معافی کی خواستگار ہوں۔

قلم تو کسی تیغ کی مانند ہے، جب وہ معاشرتی شر  اور بے انصافی کے پردوں کو چیرنا شروع کردے تو وہ کسی طرح سے کہیں بھی  رکھا نہیں جائے گا۔ وہ اُٹھا ہی رہے گا!

جہاں تک بات آتی ہے کہ موضوع  کیا ہوں  گے تو  یہ ایک اچھنبے کی بات ہے کہ پہلے بھی میں نے موضوع کو نہیں چنا تھا، موضوع نے مجھ کو چنا ہے۔ ورنہ ہمارے ملک میں علم و ہنر  اورلکھاریوں اور پڑھنے والوں کی کمی نہیں۔ بے شک وہ  پنجابی یا  پشتو  فلمی ہیروئن کی، یا کسی اسٹیج  ڈرامہ کی ہیروئن کی ذاتیات ہی کیوں نہ پڑھ رہے ہوں، مگر کچھ نہ کچھ  پڑھتے  ضرور  ہیں۔ اِس لیے میں نے بھی موضوع کے آگے گردن خم کردی اور کلمہ کا ورد کر لیا۔

دیکھتے ہیں آئندہ کون سا موضوع ہم کو چنتا ہے!

سوال: نئے لکھنے اور پڑھنے والے اب انگریزی  زبان کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں، آپ کے خیال میں اِس کے کیا اسباب ہیں؟

جواب: آپ کا سوال بے حد مناسب اوروقت کے دھارے کے ساتھ اٹھنے والی سنامی کے عین مطابق ہے۔ یہ انگریزی زبان کی ضرورت  انتہائی اہم ہے اِس بات سے منکر ہونا غلطی ہے کہ جیسے کبوتر  بلی کو  دیکھ کر آنکھیں موند لے۔ کیوں کہ ہم ایک گلوبلائزیشن کے دھارے میں بہہ ر ہے ہیں۔ وہاں مقامی اور قومی زبان کی اہمیت کو جانتے ہوئے بین الاقوامی زبان میں اظہارِ خیال کرنا ایک لازمی، بالکل لازمی ہی نہیں بلکہ ایک ‘صرف’ کی طرح  کی ضرورت بن گئی ہے۔ اپنے ذاتی تجربے سے جواب دوں گی کہ میری سب سے چھوٹی بیٹی کی  پیدائش سے پہلے ایک دِن مجھ  کو  ایک عزیزہ کو  اُردو  میں خط لکھنا  پڑا  تو میں نے سوچا  کہ آج میں نے کتنے سال بعد اُردو  لکھی ہے تو  گنتی کرنے پر حساب کچھ  یوں بیٹھا  کہ ایف-ایس-سی کے بعد  22 سال گزر گئے ہیں اور میں نے کبھی اُردو نہیں لکھی۔

ہم ایک ایسے دور کی پیداوار ہیں اور پاکستان بننے کے بعد وہ تیسری نسل ہیں جنہوں نے پاکستان کو  اگر آج سائنسدان دیے اور انجینئر  دیے اور گلی گلی میں نئی یونیورسٹی دی تو اِس کا طرہ  انگریزی میں پڑھائی ہی کی بہتات ہے۔ گورنمنٹ اسکول جو مقامی تعلیم میں مصروف ہیں، وہاں بھی تعلیم کے رتبہ میں انگریزی  کے اضافی استعمال سے ہواہے۔ گلوبلائزیشن  ایک ایسی سمجھ ہے جس نے دنیا کو ایک گاؤں بنا دیا ہے اور  یہ انٹرنیٹ اور کمیونیکیشن  کے وافر استعمال کی وجہ ہے۔ کرونا 19 کے پینڈیمک میں دنیا  پہیہ جام ہونے پر بھی ایک دوسرے  سے رابطہ میں رہی اور یہ بات  زبان اور کمیونیکیشن ہی ہے۔ مجھ کو اُردو  میں لکھنا اور یہ سب انفارمیشن اور ادراک ایک ایسے طبقے  تک پہنچانا ضروری تھا  جو  انگریزی کا ماتحت نہیں ہے۔ اِس لیے میں نے اِس موضوع کواُردو میں تحریر کیا۔ بے شک اپنی پہلی فرصت میں، میں اِس کو انگریزی میں بھی تحریر کر رہی ہوں۔

سوال: آپ کی  پہلی کتاب پر گھر والوں اور دوست احباب کے کیا تاثرات رہے؟ کیا منفی ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑا؟

جواب: سن 2013  کے بعد جب میں نے  تین سال کی ریگولر اسٹڈی کے بعد علم الحیات میں ایم اے مکمل کیا تو میرے پاس پاکستان کے اُس درمیانی طبقہ کے لیے بوجھ تھا  کہ وہ اُردو  میں علمی کتب  کی غیر موجودگی کی وجہ سے اپنی جہالت کو مٹا نہیں سکتے۔ بے شک میری تحریر  پڑھ کر زیادہ تر احباب نے اِس کو ادبی اُردو اور کلاسک اُردو  کہا اور  یہ کہ یہ عام آدمی کی سمجھ سے بالا ہے۔ مگر میرا  جواب سادہ تھا  کہ ہے تو  یہ اُردو! کوئی بات نہیں اگر اُن کو  کوئی لغت یا اُستاد  کی ضرورت پڑتی ہے تو  خیر  سے وہ اپنی سمجھ اور ادراک میں اضافہ ہی کریں گے۔

دیگر ہم ایک ایسے زمانہ میں زندگی گزار رہے ہیں جیسا  کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا  کہ  یہ ایک الگ مائنڈ سیٹ کا دور ہے۔ یہاں ہر طرح کی منافقت کھلے عام پائی جاتی ہے۔ اِس لیے میں ہر  طرح کے رویے کا سامنا  کرنے کے لیے ذہنی طور پر  تیار ہوں۔

دیگر میری بیٹیوں کے لیے یہ حیرت کی بات ضرور ہوئی  کہ میرے لیے آج اِس کتاب کے لیے اخراجات نکالنا اپنے کپڑوں یا  کسی اور طرح  کی ضرورت پر خرچ کرنے سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ جس پر انہوں نے میرا  ہاتھ تھام  لیا ہے۔ اِس سے زیادہ مثبت رویہ  کی میں مستحق نہیں ہوں۔

سوال: آپ کے دیگر مشاغل کیا ہیں؟

جواب:  زندگی اتنی مختصر ہے اور  اِس  تیزی سے رواں دواں ہے کہ کچھ ایسا فالتو  سوچنے کی فرصت ہی نہیں ہے۔ شعبہ تعلیم اتنا  گہرا بحر ہے کہ اِس میں غوطہ لگانے والوں کے پاس مشاغل کے لیے انتہائی بھرپور کوشش کرنے کے بعد فرصت نکلتی ہے۔ زندگی اب ساٹھ  کی دہائی میں قدم رکھ چکی ہے اِس لیے جلد سے جلد  اپنے دِل کے اندر موجزن طوفانوں کو  کوئی سکوں دینا چاہتی ہوں ۔ اِس لیے ذہن کچھ مختلف ہی تجزیہ کرتا رہتا ہے۔

دیگر کھانا اِس لیے پکانا پڑتا ہے کہ بھوک  انسانی ضرورت ہے اور اپنے ڈھیلے ڈھالے سے پیراہن بنانے کے شغل کے لیے کبھی کبھی وقت نکال لیتی ہوں۔ باقی تمام تر فرصت صرف تحقیق اور کھوج میں گزرتی ہے اور  یہ ہی میرا مشغلہ ہے۔ پودوں سے حکمت اور ادویات ایک ایسا ادراک ہے کہ زندگی نے فرصت دی تو  اور تحقیق کرنے کی خواہش ہے۔

سوال: پسندیدہ شعرا، مصنفین اور کتب کون کون سی ہیں؟

جواب: بحیثیت اُستاد اور  تاریخ  پر تحقیق نے فرصت نہیں دی  کہ اپنے اِن تشنہ دریچوں سے جھانکنے کا وقت نکالوں۔ دیگر علامہ اقبال، میر، آزاد، فیض کو کورس کی کتابوں میں ہی پڑھا اور پڑھایا۔ اپنی زندگی کے پڑھنے کے شوق میں خلیل جبران اور منٹو  کی تمام کتابیں پڑھی ہیں۔ کہتے ہیں

”مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آساں ہوگئیں“

بس زندگی کے  وسط سے خدا ربِ جلیل کی  قدرت اور انسانی غموں کی جھیل میں ڈوبتی انسانیت کو دیکھتے ہوئے اب دھیان صرف فلسفہ اور ادیان اور  دین کی تحقیق کی جانب ہے۔

سوال: نئے لکھنے اورپڑھنے والوں کے لیے کوئی مشورہ یا نصیحت کرنا چاہیں گی؟

جواب: سوال بہت بروقت ہے کیوں  کہ آج کے دور کے مصروف لکھنے اورپرھنے والوں کے پاس اپنی ذاتی استعداد  کے حساب سے ہی فرصت ہوگی۔ اور آج کل اِس لیے ہی ای۔ کتب کا بھی رواج عام ہے۔ لوگ شار ٹ قوٹس پڑھتے ہیں۔ بڑی کتاب پڑھنے کے لیے میں نے کسی کے پاس فرصت نہیں دیکھی۔ ایکس باکس، پگ گیمز اورٹک ٹاک ، سنیپ چیٹ میں دنیا غرق ہے۔ اِس لیے اپنے مشورہ اور نصیحت  دونوں کو فریزر میں لگا  کر رکھوں گی۔ آج کے لوگ بہت زیادہ سمجھدار ہیں۔ اپنی راہ متعین کرنا جانتے ہیں۔

سوال: ادارے ”داستان پبلشرز“ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: ادارے داستان سے میری ملاقات اتفاقیہ، مگر انتہائی مناسب وقت پر ہوئی، جب میں کافی پبلشنگ کے اداروں سے جان پہچان ہونے کے باوجود بھی کسی حتمی نتیجہ پر نہیں پہنچی تھی۔ ایک سال اِس ہی تگ و دو میں گزر گیا۔ مگر میری اِن کے ساتھ مختصر سی ملاقات نے ہی مجھ کو  اعتماد  کی مضبوط  ڈور سے باندھ لیا۔ یوں تقریباً عرصہ پانچ ماہ کے تبادلہ خیالات، ایڈیٹنگ اور دیگر ضروری کاموں سے قدم بہ قدم گزرنے کے بعد میری عین تسلی کے مطابق مجھ کو یہ مسودہ ایک کتاب کی شکل میں مل گیا ہے۔

سب لوگ اپنے اپنے کام میں ماہر اور  پیشہ ور ہیں۔ میں نام بنا  تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں اور یہ کہ ایک راز کی بات بتانا چاہتی ہوں ۔

یہ ادارہ ” داستان پبلشرز“ ان شاء اللہ بہت ترقی کرے گا۔ آمین!

شہلا رعنا اعجاز، جنہوں نے ایک منفرد موضوع کو چنا اور اُسے عمدگی سے لکھا، یقیناً قابلِ ستائش ہے۔ بہت شکریہ شہلا  کہ آپ نے وقت نکالا اور اپنے بارے میں جاننے کا موقع دیا۔ آپ اِن کی کتاب ”اذانِ نزع“  قصہ پر بھی پڑھ سکتے ہیں، نیچے دیے گئے لنک کو دبائیے اور کتاب آرڈر کیجیے۔

آرڈر Now

Daastanhttps://daastan.com/blog
Daastan is a literary forum working for revival of literature in Pakistan. We connect writers with opportunities for career growth.

Related Articles

کتاب “زندگی ایک کرونا” پر تبصرہ

زندگی ایک کرونا مصنف: وقار احمد بخش وقار احمد بخش کی کتاب” زندگی...

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

کتاب “زندگی ایک کرونا” پر تبصرہ

زندگی ایک کرونا مصنف: وقار احمد بخش وقار احمد بخش کی...

کتاب کی اشاعت کے لیے داستان کی سروسز

*آخری ترمیم: ١ مئی، ٢٠٢٢ء* کتاب کی اشاعت کے لیے...

Poetry Workshop: Winter Poetry And How To Write One

The title may be misleading because of course there...

Stay in touch!

Follow our Instagram