پاپولر فکشن کے مصنف منیب مظہر

داستان اپنے تمام مصنفین کا بے حد احترام کرتا ہے اور یہ سب ہمارے لیے بہت اہم ہیں۔ہر کامیاب مصنف ،شاعریا تخلیق کار کے پیچھےجدوجہد کی ایک پوری داستان ہوتی ہے۔ہر مصنف اپنے ساتھ سیکھنے کو بہت کچھ لاتا ہے،اور نئے لکھنے اور پڑھنے والے اس کےتجربات اور نصائح کو سن کر ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اسی بات کے پیشِ نظر ہم اپنے تمام رائٹرز کے ساتھ انٹرویو کا انعقاد کرتے ہیں، اور آج ہمارے ساتھ موجود ہیں، منیب مظہر! جن کی پاپولر فکشن پر مشتمل کتاب زندگی  حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔انسان ہمیشہ کسی نہ کسی چیز کی تلاش میں رہتا ہے، کبھی بھی تو اُسے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اُس کے وجود کا کوئی حصہ کھو گیا ہو اور بہت جلد وہ اپنے اُس کھوئے ہوئے حصے سے جا ملے گا ، جو اُس کی روح تک کو سیراب او رتسکین بخشے گا۔کچھ ایسی ہی جستجو پر مبنی ناول ہے منیب مظہر کا۔

آئیے ملتے ہیں منیب مظہر سے!

السلام علیکم ، منیب! کیا حال ہے؟

جواب: وعلیکم السلام، جی میں خیریت سے ہوں۔ بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے اپنے بارے میں بتانے کا موقع دیا۔

سوال: ہمارے پڑھنے والوں کو اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی کے متعلق کچھ بتائیں گے؟

جواب: میں نے ابتدائی تعلیم اپنے گاوں بیول سے حاصل کی اس کے بعد پنجاب کالج گجرخان سے انٹرمیڈیٹ تک پڑھا اور پھر اپنی ماسٹرز کی ڈگری نمل یونیورسٹی اسلام آباد سے مکمل کی۔کیونکہ یہ تھوڑا الگ تھا اور دنیا کو جاننے کا بہترین طریقہ بھی میرے خیال سے۔Peace and conflict studies میں ۔

ابھی تک کام کی تلاش جاری ہے ابھی تک کسی جگہ کام نہیں کیا کیونکہ ہر کوئی تجربہ مانگتا ہے کاش کہ ہمیں پڑھانے کے ساتھ ساتھ وہ کام بھی سکھا دیتے تو تجربہ بھی ہو جانا تھا ۔اب ایسے حالات میں پھر کیا کام ملنا ہے ،لیکن کوشش جاری ہے ابھی بھی ۔

سوال: لکھنے کا شوق کب اور کیسے پیدا ہوا؟

 جواب: لکھنے کا شوق مجھے بہت پہلے سے تھا، چھوٹی چھوٹی باتوں کو لکھا کرتا تھا .شاعری کا شوق تھا مجھے لکھتے لکھتے اپنے ہی لفظوں میں کھو جاتا ہوں میں اور اس کے علاوہ میں نے کچھ گانے بھی لکھے ہیں اور کوشش ابھی بھی ہے ۔

 سوال : آپ کی کتاب ”زندگی“ایک پاپولر فکشن  ہے، مستقبل میں کس صنف میں لکھنا چاہیں گے؟ 

جواب: آج کل ہر جگہ انگریزی زبان کو ترجیح دی جا رہی چاہے وہ سکول ہو یا کالج یا پھر یونیورسٹی ہر جگہ انگریزی زبان استعمال ہو رہی ہے تو اس کی وجہ سے پڑھنے والے بھی انگریزی کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں اور مسئلہ ہم لوگوں میں ہی ہے آپ ہر جگہ دیکھ لے جو انگریزی نہیں جانتا ہوگا لوگ ہنستے ہیں اس پر لیکن ایسا ہونا نہیں چاہئے ۔ مستقبل میں بھی میرا پلان اسی صنف میں لکھنے کا ہے کیونکہ مجھے لگتا ہے کے میرے لیے ابھی یہی بہتر ہے۔ وقت کا پتہ نہیں چلتا کچھ بھی ہو سکتا ہے اور اب میری کوشش ہے کہ اپنی شاعری لوگوں تک پہنچا سکوں اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کو کتنا وقت لگتا ہے۔

سوال: دیگر کیا مشاغل ہیں؟

  جواب: اس کے علاوہ فٹبال بہت پسند ہے اور وقت ملنے پر وہ کھیلتا ہوں اور اس کے علاوہ گارڈنگ کا شوق ہے مجھے، اگر وقت ملے تو وہاں وقت گزارنا پسند ہے۔ Arsenal club کو سپورٹ کرتا ہوں ۔

سوال: پسندیدہ مصنف اور کتب کون سی ہیں ؟

جواب: ہاشم ندیم کا لکھا ناول ”عبداللہ“ جب کہ عمیرہ احمد کا ”پیرِ کامل“  پسند ہیں اور ان کے علاوہ مجھے کچھ خاص پسند نہیں ہیں ۔

سوال: نئے لکھنے اور پڑھنے والوں کے لیے کوئی مشورہ یا نصیحت کرنا چاہیں گے؟

جواب: میں نے خود  ابھی لکھنا شروع کیا ہے تو ابھی تک تو بس میں سیکھ رہا ہوں اور یہ کہ جو آپ کے دل میں ہے وہ لکھا کریں، لوگوں کی باتوں کو اگنور کرنا سیکھ لیں۔ آپ کو  یہاں ہر طرح کے لوگ ملیں گے آپ کے کام کی تعریف کرنے والے بھی اور مذاق اڑانے والے بھی ،تو آپ بس اپنے پر فوکس کرتے ہوئے آگے نکل جائیں۔

سوال:ادارے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: ادارے کی تعریف جتنی بھی کروں وہ کم ہے۔ مجھے ادارے کی طرف سے بہت سپورٹ ملی ہے اور بہت اچھے طریقے سے آپ ڈیل کرتے   ہیں۔سب سے زیادہ عمر بھائی نے مجھے سپورٹ بھی کیا اور بہت اچھے طریقے سے سمجھایا بھی سب کچھ ۔شکریہ

https://www.meraqissa.com/book/1661

Daastanhttps://daastan.com/blog
Daastan is a literary forum working for revival of literature in Pakistan. We connect writers with opportunities for career growth.

Related Articles

کتاب “زندگی ایک کرونا” پر تبصرہ

زندگی ایک کرونا مصنف: وقار احمد بخش وقار احمد بخش کی کتاب” زندگی...

Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

کتاب “زندگی ایک کرونا” پر تبصرہ

زندگی ایک کرونا مصنف: وقار احمد بخش وقار احمد بخش کی...

کتاب کی اشاعت کے لیے داستان کی سروسز

*آخری ترمیم: ١ مئی، ٢٠٢٢ء* کتاب کی اشاعت کے لیے...

Poetry Workshop: Winter Poetry And How To Write One

The title may be misleading because of course there...

Stay in touch!

Follow our Instagram