ہر سطر کسی حقیقی کتاب سے ہے، جو کسی پاکستانی مصنف نے لکھی۔ اقوال پڑھیے، کتاب تک پہنچیے — اور کہانی گھر لے جائیے۔
“پانچ سال پہلے ِاسی نیم کے پیڑ کے نیچے شانی نے مودی موچی کو اللہ کے انتقام سے ڈرایا تھا اور آج وہ اپنی آنکھوں سے اللہ کے انتقام کو دیکھ رہا تھا۔”

“تو میں نے مارے ڈر کے اس کا اسکول جانا وقتی طور پر بند کر دیا مگر شاید میری بیٹی کے نصیب ہی برے تھے .”

“خاموشی کے لیپ نے زخموں کو ایسا بھرا تھا کہ اس میں سے خون رس رس کر اس کی روح میں شامل ہو کر اس کو گھا ئل کررہا تھا۔”

“آخر کب تک آپ ڈرا دھمکا کر اپنے بچوں کے گلے گھونٹتے رہیں گے اور کیوں؟ کیا لوگ اور خاندانوں کی نام نہاد عزتیں آپ کے بچوں کی عزت نفس سے زیادہ اہم ہیں؟ نہیں!”

“ابھی میں راستے میں ہی تھا کی ٹریفک جام ہوگئی، ٹریفک کہ اژدہام میں گاڑیوں کے شدید شور سے اکتا کر میں نے بھیڑ میں ہی گاڑی کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔”

“ہم دنیا حاصل کرنے کی ہوس میں اپنوں کا ہی گلا کاٹ رہے ہیں ...آنے والے وقت میں ساری ذمے داری تم نوجوانوں پر آرہی ہے .”

“زوال ہی زوال ہے اور لاکھ کوششوں اور جستجو کے باوجود عروج تک پہنچنا بس ایک خواب کی مانند ہی ستاتا ہے۔”

“گھوڑے کی ہنہناہٹ اور اس کا دو پیروں پر اچھل کر خوشی سے جھومنا نیلوفر کو حیران کررہا تھا، اور اسی لمحے نیلوفر نے امید رنگ کے پروں کی پھڑپھڑ اہٹ سنی۔”

“ایک امید تھی کہ شاید آج مثبت جواب مل جائے، مگر پِھر بھی شاہ زیب کی ناں کو ہاں میں نہیں بدل سکے تھے۔”

“شاید مجھے اس سے محبت ہو چلی تھی، لیکن بھلا ایسے کیسے ہوسکتا تھا؟ میں ایک خیال سے، ایک احساس سے محبت کیسےکرسکتا تھا ؟ میں ایک انسان تھا۔”

“ابا کے گھر میں مگن ہوجانے سے اماں کی سوچوں کا ارتکاز بھی ٹوٹ گیا تھا اور یہ بدلاو¿ اس میں تبدیلیاں لانے لگا۔”

“ماریا خوش خوش اس کے پاس آئی وہ ظاہر ہمیشہ یونہی تو کرتی تھی جیسے ماریا کی ہر جیت کی خوشی ماریا سے زیادہ کشمالہ کو ہوئی ہو پر آج وہ مسکرا بھی نہ سکی۔”

Our authors, in their own words and in the press.
Explore From Partition to Pioneer book launch events & highlights, featuring inspiring sessions and tributes to Dr. Bashir Ahmed’s legacy.
The story puts readers in awe. A saga of a lonely and miserable man who achieves everything in life through his hard work and resilience.
زیرِ نظر کتاب ماہی شاہین ؔ کاشعری مجموعہ ہے جس میں انھوں نے اپنی خوبصورت شاعری کو پیش کیا ہے۔ ان کے اشعار میں ایک تسلسل اور خوبصورتی دکھائی دیتی ہےجو پڑھنے والے بھلی معلوم ہے۔جیسے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں
ہر ناامید اور مایوس شخص کو اچھے دنوں کے آنے کی امید دلاتی یہ کتاب بلاشبہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ بُرا وقت ہمیشہ آزمائش بن کر آتا ہے اور ہر آزمائش انسان کو منزل سے ایک قدم اور قریب کر دیتی ہے۔
ماریہ شہزاد کا تعلق لاہور سے ہے۔ انھوں نے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کی اور وفاق المدارس سے منسلک رہیں۔ ماریہ نے ناول نورِ سحر کےعلاوہ بہت سے افسانے اور ناولٹ بھی لکھے۔ وہ جذبات کو الفاظ کی صورت میں پرونے کے ہنر سے خواب واقف ہیں۔ مصنفہ کو منظر […]
”اِک پرخیال“بنیادی طور پر بہت سی تحریروں پر مبنی ہے۔اس میں موجود دلچسپ مضامین قاری کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔اس کتاب کے ذریعے منیرہ قریشی نے دراصل قاری کو بہت اچھی اچھی نصیحتوں سے نوازا ہے۔ اپنے احساسات وخيالات کو لفظ کے پیرہن میں سموتے ”اک پرخيال!“ مختلف النوع موضوعات کا ایک ایسا آئینہ ہے جو فاضل مصنفہ کے دلی جذبات کا عکاس ہے
Love Recycled is a romance novel that follows Ali as he navigates his way through university and then adulthood. It portrays love in all honesty and with all its facets.
A reflective interview with Aneeta Yaqoob exploring psychology & about her self-help book in urdu" Umeed ki Kiran."
مصنفہ نے ان افسانوں میں مختلف موضوعات کو چھیڑا ہے اور سچ پوچھیں تو یہ کتاب ایک خوش رنگ گلدستے کی مانند ہے جس میں طرح طرح کے رنگ دیکھنے کو ملیں گے۔ان کی ہر کہانی کا طرز تحریر مختلف ہے تاکہ قاری ایک ہی طرح کی کہانیاں پڑھ کر اُکتا نہ جائے۔